صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ:
باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا۔
حدیث نمبر: 5562
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن قیس نے بیان کیا، کہا میں نے جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5562]
حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بڑی عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح کی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرے اور جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح نہیں کی وہ اب نماز کے بعد ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5562]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5563
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ"، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلْتُ، فَقَالَ:" هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ آذْبَحُهَا، قَالَ:" نَعَمْ، ثُمَّ لَا تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، قَالَ عَامِرٌ: هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے فراس نے، ان سے عامر نے، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز عید پڑھی اور فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نماز عید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو قربانی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5563]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر فرمایا: ”جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلے کی طرف متوجہ ہوا وہ قربانی نہ کرے حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائے۔“ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں تو قربانی کر بیٹھا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام تو نے قبل از وقت کر لیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اب میرے پاس بکری کا یکسالہ بچہ ہے جو وہ دو دانتہ دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اسے ذبح کر لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ اجازت کسی اور کے لیے نہیں ہوگی۔“ (راوئِ حدیث) حضرت عامر رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5563]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ وَضْعِ الْقَدَمِ عَلَى صَفْحِ الذَّبِيحَةِ:
باب: ذبح کئے جانے والے جانور کی گردن پر پاؤں رکھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5564
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5564]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور آپ اپنا پاؤں ان کی گردن پر رکھتے، پھر اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5564]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الذَّبْحِ:
باب: ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر کہنا۔
حدیث نمبر: 5565
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى، وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5565]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو سیاہ سفید مینڈھوں کی قربانی دی۔ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”بسم اللہ، اللہ اکبر“ پڑھا اور اپنا پاؤں ان کی گردن پر رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5565]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ:
باب: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا جانور حرم میں کسی کے ساتھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 5566
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَجُلًا يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَيَجْلِسُ فِي الْمِصْرِ، فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ فَلَا يَزَالُ مِنْ ذَلِكِ الْيَوْمِ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، فَقَالَتْ:" لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ هَدْيَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں اسماعیل نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں مسروق نے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں (نشانی کے طور پر) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5566]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ام المومنین! اگر کوئی شخص اپنی قربانی کعبہ بھیجے اور خود اپنے شہر میں ٹھہرا رہے، لے جانے والے کو وصیت کر دے کہ جانور کے گلے میں قلادہ (ہار) ڈال دیا جائے تو کیا وہ محرم ہو جائے گا یہاں تک کہ دوسرے لوگ احرام کھول دیں؟“ مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پسِ پردہ آپ کے ہاتھ مارنے کی آواز سنی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے ہار بنایا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی قربانی کعبہ بھیجتے لیکن لوگوں کے واپس آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے افراد پر حلال ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا:
باب: قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 5567
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَ: غَيْرَ مَرَّةٍ لُحُومَ الْهَدْيِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ (بجائے «لحوم الأضاحي» کے) «لحوم الهدى.» کا لفظ استعمال کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5567]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مدینہ طیبہ تک قربانی کا گوشت جمع رکھتے تھے۔“ راوی نے کئی مرتبہ (”قربانی کا گوشت“ کے بجائے) ”ہدی کا گوشت“ کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5567]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5568
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ: أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّه سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ:" أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا فَقَدِمَ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ، قَالُوا: هَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا، فَقَالَ: أَخِّرُوهُ، لَا أَذُوقُهُ، قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ أَخِي أَبَا قَتَادَةَ، وَكَانَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے قاسم نے، انہیں ابن خزیمہ نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5568]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ سفر میں تھے، جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت پیش کیا گیا اور اہل خانہ نے کہا: ”یہ ہماری قربانیوں کا گوشت ہے۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے اٹھا لو، میں اسے نہیں کھاؤں گا۔“ پھر میں اٹھا اور گھر سے باہر چلا گیا، مادری بھائی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ ان کے مادری بھائی تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے، جب میں نے ان سے یہ معاملہ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ”تمہارے بعد نیا حکم ظاہر ہوا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5568]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5569
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ"، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي، قَالَ:" كُلُوا، وَأَطْعِمُوا، وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5569]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تم میں سے قربانی کی ہے وہ تیسرے دن اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔“ جب دوسرا سال آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو کیونکہ پچھلے سال تو لوگ تنگی میں مبتلا تھے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کا تعاون کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5569]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5570
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" لَا تَأْكُلُوا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ" وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے اور ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5570]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم مدینہ طیبہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیتے تھے، پھر اسے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک نہ کھاؤ۔“ یہ حکم کوئی ضروری نہیں تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت ان لوگوں کو بھی کھلائیں جن کے ہاں قربانی نہ ہوئی ہو۔“ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5570]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5571
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ازہر کے غلام ابو عبید نے بیان کیا کہ وہ بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم (رمضان کے) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو (عیدالفطر) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5571]
حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو ابن زہر کے آزاد کردہ غلام تھے اور وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، ان کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبے سے قبل نمازِ عید پڑھائی، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: ایک تو وہ دن ہے جب روزے پورے کر کے تم عید الفطر مناتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے جس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة