مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے مسلمان ہوجائے تو وہ آپس میں تعلقات قائم نہیں کرسکتے
حدیث نمبر: 651
اَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ وَاضِحٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، بِهَذَا الْاِسْنَادِ مِثْلَهٗ، وَزَادَ قَالَ: وَلَمْ یُحْدِثْ شَیْئًا، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ضَمَّهَا اِلَیْهِ قَبْلَ ذٰلِكَ.
محمد بن اسحاق نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے، اور یہ اضافہ نقل کیا، فرمایا: کوئی نیا کام نہ کیا، (یعنی نیا نکاح نہ نیا حق مہر وغیرہ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے انہیں اپنے ہاں رکھ لیا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله»
باب
حدیث نمبر: 652
اَخْبَرَنَا عَبْدُالْاَعْلٰی، نَا دَاوٗدَ۔ وَهُوَ ابْنُ اَبِیْ هِنْدٍ۔ عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ قَتِیْلَةَ اُخْتِ الْاَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ، فَمَاتَ قَبْلَ اَنْ یُّخَیِّرَهَا، فَبَرَأَهَا اللّٰهُ مِنْهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن قتیلہ سے شادی کی، پس وہ اسے اختیار کرنے سے پہلے فوت ہو گیا تو اللہ نے اس کو اس سے بری کر دیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «طبقات ابن سعد: 147/8 . اسناده صحيح»
زنا کے اقرار کا بیان
حدیث نمبر: 653
اَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ یَحْیَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزٍ حِیْنَ قَالَ اِنِّیْ زَنَیْتُ: لَعَلَّكَ غَمَزْتَ اَوْ نَظَرْتَ اَوْ قَبَّلْتَ قَالَ: کَأَنَّهٗ خَافَ اَنْ لَّا یَدْرِیْ مَا الزِّنَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز رضی اللہ عنہ نے جس وقت کہا تھا کہ میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ہو سکتا ہے تم نے ہاتھ لگایا ہو، یا دیکھا ہو یا بوسہ لیا ہو۔“ راوی نے بیان کیا گیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ زنا کیا ہے؟ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الطلاق، باب الطلاق فى الاغلاق الخ، رقم: 5271 . مسلم، كتاب الحدود، باب من اعتراف على نفسه بالزني، رقم: 1692 . سنن ابوداود، رقم: 4421 . 4427 . مسند احمد: 238/1 .»
زمانۂ کفر کے نکاح کے برقرار رہنے کی شرائط
حدیث نمبر: 654
اَخْبَرَنَا وَکِیْعٌ، نَا اِسْرَائِیْلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ اِمْرَأَةً تَزَوَّجَتْ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَکَانَتْ قَدْ اَسْلَمَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ: اِنِّیْ کُنْتُ اَسْلَمْتُ مَعَهَا، فَانْتَزَعَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْاَوَّلِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شادی کی، وہ اسلام قبول کر چکی تھی، پس اس کا (پہلا) شوہر آیا تو اس نے کہا: میں تو اس کے ساتھ ہی اسلام قبول کر چکا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے زوج اول (بعد والے) سے الگ کر کے اس کے پہلے شوہر کے پاس لوٹا دیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الطلاق، باب اذا اسلم احد الزوجين، رقم: 2239 . سنن ترمذي، ابواب النكا ح، باب ماجاء فى الزوجين المشركين الخ، رقم: 1144 قال الشيخ الالباني: ضعيف .»
حدیث نمبر: 655
اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا اِسْرَائِیْلُ، بِهَذَا الْاِسْنَادِ مِثْلَهٗ۔.
اسرائیل (بن یونس بن ابی اسحاق) رحمہ اللہ نے اس اسناد سے اسی سابقہ حدیث کی مثل روایت کیا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «السابق»