🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
بیک وقت تین طلاق دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 641
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ الطَّلاُق عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَسَنَتَیْنِ مِنْ اَمَارَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اَنَاةِ فِی الطَّلَاقِ، فَقَدِ اسْتَعْجَلْتُمْ اَنَاةَ لَکُمْ (أناتکم) ، وَقَدْ اَجَزْنَا عَلَیْکُمْ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی امارت/خلافت کے دو سال تک تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق کے بارے میں تمہارے لیے حلم و بردباری کا حکم تھا، پس تم نے اپنی بردباری پر جلدی مچائی، لہٰذا ہم نے تمہاری جلد بازی کو تم پر نافذ قرار دے دیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، رقم: 1472 . مسند احمد: 314/1 . طبراني كبير: 23/11 . 1916 . مصنف عبدالرزاق، رقم: 1336 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 642
اَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ اِبْرَاهِیْمَ بْنِ مَسْیَرَةَ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، اَنَّ اَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ، اَلَمْ یَکُنْ طَلَاقُ الثَّلَاثِ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَاَبِیْ بَکْرٍ وَاحِدَةً، قَدْ کَانَ ذَاكَ، فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَهْدِ عُمَرَ تَتَابَعَ النَّاسُ فِی الطَّلَاقِ، فَاَجَازَهٗ عَلَیْهِمْ۔.
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اپنے کلمات میں سے کوئی بات پیش کریں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہیں ہوتی تھیں، معاملہ اسی طرح ہی تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو لوگوں نے بلا سوچے سمجھے طلاق دینا شروع کر دی، تو انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطلاق، باب الطلاق الثلاث، رقم: 1472 . سنن كبريٰ بيهقي: 336/7 . طبراني كبير: 40/11 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 643
اَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ ابْنُ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ اَنَّ اَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ طَلَاقَ الثَّلَاثِ کَانَ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ، وَثَلَاثًا مِنْ اَمَارَةِ عُمَرَ وَاحِدَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ.
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے تین سال تک تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی تھیں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، رقم: 16/1472 . سنن ابوداود، كتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة الخ، رقم: 2200 . سنن نسائي، رقم: 3406 . مسند احمد: 314/1 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 644
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّهٗ قَالَ: اَلَّتِیْ لَمْ یَدْخُلْ بِهَا، اِذَا جُمِعَ الثَّلَاثُ عَلَیْهَا، وَقَعْنَ عَلَیْهَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جس عورت سے شوہر تعلق قائم نہ کرے اور اسے تین طلاقیں اکٹھی دے دی جائیں تو وہ اس پر واقع ہو جائیں گی۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «سنن ابي داود، كتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة الخ، رقم: 2198 . قال الالباني: صحيح . مصنف عبدالرزاق، رقم: 2198 . سنن كبري بيهقي: 354/7 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 645
قَالَ الْحَسَنُ: فَذَکَرْتُ ذٰلِكَ لِطَاؤُوْسٍ، فَقَالَ: اَشْهَدُ اَنِّیْ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَجْعَلُهَا وَاحِدَةً، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةً، وَاِنْ جَمَعَهُنَّ.
حسن رحمہ اللہ نے بیان کیا: میں نے طاؤس رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو انہیں ایک قرار دیتے ہوئے سنا، راوی نے بیان کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک ہی ہے، اگرچہ اس نے انہیں جمع کیا ہو۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 646
قَالَ ابْنُ جَرِیْجٍ: اَخْبَرَنِیْ دَاوٗدُ بْنُ اَبِیْ هِنْدٍ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ اَبِیْ عَیَاضٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّهٗ قَالَ: اَلَّتِیْ لَمْ یَدْخُلْ بِهَا، وَالَّتِیْ قَدْ دَخَلَ بِهَا، فِی الثَّلَاثِ سَوَاءٌ۔.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جس عورت سے تعلق زن و شو قائم ہوا یا قائم نہ ہوا ہو تو تین طلاقیں کے بارے میں وہ برابر ہیں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق: 11079 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تین سے زیادہ طلاق دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
اَخْبَرَناَ عَبْدُاللّٰهِ بْنُ اِدْرِیْسَ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَیْدَاللّٰهِ بْنِ الْوَلِیْدِ یُحَدِّثُ عَنْ داؤد بن ابراهیم، عن (بن) عبادة بن الصامت قال: طلق رجل من أجدادی امرأتهٗ ألقًا نأنغذہ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اِنَّ اَبَاکُمْ لَمْ (یَتَّقِ) اللّٰهَ فَیَجَعَلُ لَهٗ مَخْرَجًا، بَانَتْ مِنْهٗ ثَلَاثًا وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَان، اِتَّخَذَ آیَاتِ اللّٰهِ هُزُوًا.
سیدنا عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میرے اجداد میں سے ایک آدمی نے اپنی اہلیہ کو ہزار طلاق دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ کر دیا۔ اور فرمایا: تمہارے باپ نے تقویٰ اختیار نہ کیا تو اس نے اس کے لیے کوئی راہ نہ بنائی، اس کی طرف سے تین تو نافذ ہو گئیں اور ان میں سے جو باقی ہیں وہ زیادتی ہیں، اس نے اللہ کی آیات کا مذاق بنایا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 647]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حقِ مہر آسان رکھنے کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی، عَنِ ابْنِ الْحَارِثِ۔ وَهُوَ جَابِرٌ۔ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (خَیْرُ کُنَّ اَیْسَرُکُنَّ) صِدَاقًا۔ قَالَ: فَکَانَ مُجَاهِدٌ یَقُوْلُ: اِنْ کَانَ دِرْهَمًا فَهُوَ حَلَالٌ۔.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (خواتین) میں سے بہتر وہ ہے جس کا تم میں سے حق مہر آسان تر ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: اگر وہ ایک درہم بھی ہو تو وہ حلال ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 648]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ازواج مطہرات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، نَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ عَطَاءٌ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَیْمُوْنَةَ بِسَرَفٍ، فَقَالَ: هَذِہِ زَوْجَةُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَاِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَـلَا تَزَعْزَعُوْا بِهَا، وَلَا تَزَلْزَلُوْا، وَارْفِقُوْا، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ کَانَ بِتِسْعٍ نِسْوَةٍ، وَکَانَ یَقْسِمُ لِثَمَانِیَةٍ وَلَا یَقْسِمُ لِوَاحِدَۃٍ، قَالَ عَطَاءٌ: وَالَّتِیْ لَا یَقْسِمُ لَهَا، بَلَغَنَا اَنَّهَا صَفِیَّةُ بِنْتُ حُیَیِّ بْنِ اَخْطَبَ.
عطاء رحمہ اللہ نے بیان کیا: ہم نے سرف کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ کے جنازے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ شرکت کی، تو انہوں نے فرمایا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، پس تم جب ان کی میت اٹھاؤ تو اسے نہ ہلانا، نہ جھٹکنے دینا، اور نرمی کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ کی باری مقرر فرمائی تھی جبکہ ایک کی باری مقرر نہیں فرمائی تھی۔ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی باری مقرر نہیں فرمائی تھی، ہمیں پتہ چلا کہ وہ سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا تھیں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب النكا ح، باب كثره النساء، رقم: 5067 . مسلم، كتاب الرضاع، باب جواز هبتها نوبتها لضرتها، رقم: 1465 . مسند احمد: 231/1 . سنن كبري بيهقي: 73/7 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اگر عورت اپنے خاوند سے پہلے مسلمان ہوجائے تو وہ آپس میں تعلقات قائم نہیں کرسکتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
اَخْبَرَنَا یَزِیْدُ بْنُ هَارُوْنَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابِنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهٗ زَیْنَبَ عَلَی اَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیْعِ زَوْجِهَا بَعْدَ سَنَتَیْنِ بِالنِّکَاحِ الْاَوَّلِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نکاح اول کے ساتھ دو سال بعد لوٹایا تھا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذي، ابواب النكا ح، باب ماجاء فى الزوجين المشركين بسلم الحدهما، رقم: 1143 . سنن ابن ماجه، كتاب النكا ح، باب الزوجين يسلم احدهما قبل الآخر، رقم: 2009 . مسند احمد: 217/1 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں