🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. بَابُ مَنْ لَمْ يَرْقِ:
باب: دم جھاڑ نہ کرانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5752
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَقِيلَ هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ"، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيَّنْ لَهُمْ، فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنَا فِي الشِّرْكِ وَلَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا، فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ (خواب میں) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ (ان کی اتباع کرنے والا) صرف ایک ہوتا۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں۔ کہا گیا کہ یہ آپ کہ امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا کہ ہاں۔ ایک دوسرے صاحب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا ہو چکا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5752]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمام امتیں میرے سامنے پیش کی گئیں۔ بعض ایسے انبیا گزرے جن کے ساتھ صرف ایک ایک آدمی تھا اور بعض ایسے نبی بھی گزرے ہیں جن کے ساتھ دو آدمی تھے۔ کچھ انبیاء ایسے بھی تھے جن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی اور کچھ ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔ پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو ڈھانپ رکھا تھا، میں نے خیال کیا شاید یہ میری امت ہے، مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں۔ پھر مجھے کہا گیا: دیکھو۔ میں نے دیکھا وہاں بے شمار لوگ ہیں جن سے تمام افق بھرے پڑے تھے۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دیکھو، ادھر دیکھو۔ میں نے دیکھا بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے افق کو ڈھانپ رکھا ہے، مجھ سے کہا گیا: یہ لوگ آپ کی امت ہیں اور ان میں سے ستر ہزار لوگ ہوں گے جو جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اٹھ کر مختلف جگہوں میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی وضاحت نہیں فرمائی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے بارے میں باہمی گفتگو کی اور کہا: ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی، ہم اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، لیکن یہ ستر ہزار ہماری اولاد سے ہوں گے (جو ایمان کی حالت میں پیدا ہوئے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو بد شگونی نہیں لیتے اور نہ دم سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ دیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میں ان لوگوں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ پھر ایک دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کی: کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: اس سلسلے میں عکاشہ تم سے بازی لے گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ الطِّيَرَةِ:
باب: بدشگونی لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5753
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراض میں چھوت چھات کی اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5753]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں اور بد شگونی کی بھی کوئی اصل نہیں، نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5753]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5754
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ، قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا کوئی ایسی بات سننا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5754]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: نیک فال کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ الْفَأْلِ:
باب: نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5755
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قَالَ: وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا کلمہ صالحہ (نیک بات) جو تم میں سے کوئی سنے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5755]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں بہتر نیک فال ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! نیک فال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5756
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانے کی کوئی اصل نہیں اور نہ بدشگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے اچھی فال پسند ہے۔ یعنی کوئی کلمہ خیر اور نیک بات جو کسی کے منہ سے سنی جائے (جیسا کہ اوپر بیان ہوا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5756]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات بے اصل ہے اور بد شگونی کی بھی کوئی حقیقت نہیں، مجھے تو اچھی فال پسند ہے۔ یعنی کوئی کلمہ خیر یا اچھی بات کسی سے سنی جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5756]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ لاَ هَامَةَ:
باب: الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ".
ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے خبر دی، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5757]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: چھوت لگ جانا، بدشگونی لینا اور الو یا صفر کی نحوست کوئی شے نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ الْكَهَانَةِ:
باب: کہانت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5758
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ، اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ: كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت (ام عطیف بنت مروح) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا (جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ (پتھر کی چوٹ سے) مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی (حمل بن مالک بن نابغہ) نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5758]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں فیصلہ کیا جنہوں نے آپس میں جھگڑا کیا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا جو اس کے پیٹ پر جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی، اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: عورت کے پیٹ کی دیت ایک غلام یا لونڈی ادا کرنا ہے۔ جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے سرپرست نے کہا: میں اس کا تاوان ادا کروں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ چلایا؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت واجب نہیں ہو سکتی۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5758]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5759
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ دو عورتیں تھیں، ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے اس کے پیٹ کا حمل گر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں ایک غلام یا باندی کا دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5759]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عورتیں تھیں، ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا جس سے دوسری کے پیٹ کا حمل گر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں ایک غلام یا لونڈی بطور دیت دینے کا فیصلہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5759]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5760
وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ، يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ".
اور ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کہا کہ ایسے بچہ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت ہی آواز نکالی؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5760]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے متعلق، جو ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، فیصلہ فرمایا کہ ایک غلام یا لونڈی بطور دیت ادا کرنا ہے۔ جس نے تاوان ادا کرنا تھا، اس نے کہا: میں ایسے بچے کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ چلایا؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5760]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5761
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کاہن کی کہانت کی وجہ سے ملنے والے ہدیہ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5761]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، بدکارہ عورت کی اجرت اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5761]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں