صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ رُقْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (بیماری سے شفاء کے لیے) دم۔
حدیث نمبر: 5742
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ:" دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَكَيْتُ، فَقَالَ أَنَسٌ: أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں اور ثابت بنانی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہ! (انس رضی اللہ عنہ کی کنیت) میری طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر کیوں نہ میں تم پر وہ دعا پڑھ کر دم کر دوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، ثابت نے کہا کہ ضرور کیجئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ دعا پڑھ کر دم کیا «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت، شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دینے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں، ایسی شفاء عطا فرما کہ بیماری بالکل باقی نہ رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5742]
حضرت عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اور حضرت ثابت رحمہ اللہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ثابت رحمہ اللہ نے کہا: اے ابوحمزہ! میری طبیعت ناساز ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دم نہ کروں؟ ثابت رحمہ اللہ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھ کر دم کیا: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! اے تکلیف دور کرنے والے! تو شفا عطا فرما، (بے شک) تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا اور کوئی شفا دینے والا نہیں، تو ایسی شفا عطا فرما کہ بیماری بالکل نہ رہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5742]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5743
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبْ الْبَاسَ اشْفِهِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، قَالَ سُفْيَانُ، حَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا، فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے مسلم بن صبیح نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بعض (بیماروں) پر یہ دعا پڑھ کر دم کرتے اور اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے «اللهم رب الناس أذهب الباس، اشفه وأنت الشافي، لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! تکلیف کو دور کر دے، اسے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء (دے) کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہ جائے۔“ سفیان ثوری نے بیان کیا کہ میں نے یہ دعا منصور بن معتمر کے سامنے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے یہ ابراہیم نخعی سے بیان کی، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5743]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض اہل خانہ کو یہ دعا پڑھ کر دم کرتے اور ان پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْهِبِ الْبَأْسَ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں، تو ایسی شفا دے کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہے۔“ سفیان نے کہا: ”میں نے یہ حدیث منصور کے سامنے پیش کی، انہوں نے اسے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بیان کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5743]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5744
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْقِي يَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ.
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے اور یہ دعا پڑھتے تھے «امسح الباس رب الناس، بيدك الشفاء، لا كاشف له إلا أنت".» ”تکلیف کو دور کر دے، اے لوگوں کے پالنہار! تیرے ہی ہاتھ میں شفاء ہے، تیرے سوا تکلیف کو دور کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5744]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھ کر دم کرتے تھے: ” «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ» ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، تیرے ہاتھ ہی میں شفا ہے، تیرے سوا کوئی بھی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔“” [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5744]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5745
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ:" بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے (کلمے کی انگلی زمین پر لگا کر) یہ دعا پڑھتے تھے «بسم الله، تربة أرضنا. بريقة بعضنا، يشفى سقيمنا بإذن ربنا".» ”اللہ کے نام کی مدد سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارا مریض شفاء پائے ہمارے رب کے حکم سے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5745]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کر مریض کو دم کرتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِیْقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيْمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام سے ہماری زمین کی مٹی، ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے مل کر (ہمارے رب کے حکم سے) ہمارے مریض کی شفا یابی کا ذریعہ ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5745]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5746
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الرُّقْيَةِ:" تُرْبَةُ أَرْضِنَا، وَرِيقَةُ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
مجھ سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن سعید نے، انہیں عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «تربة أرضنا، وريقة بعضنا، يشفى سقيمنا، بإذن ربنا".» ”ہماری زمین کی مٹی اور ہمارا بعض تھوک ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفاء ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5746]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی، ہم میں سے کسی کے لعاب دہن کے ساتھ مل کر ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کی شفا یابی کا ذریعہ بنے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5746]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
39. بَابُ النَّفْثِ فِي الرُّقْيَةِ:
باب: دعا پڑھ کر مریض پر پھونک مارنا اس طرح کہ منہ سے ذرا سا تھوک بھی نکلے۔
حدیث نمبر: 5747
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفِثْ حِينَ يَسْتَيْقِظُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ"، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَإِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنَ الْجَبَلِ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا أُبَالِيهَا.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا، کہا کہ میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، اور حلم (برا خواب جس میں گھبراہٹ ہو) شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے جو برا ہو تو جاگتے ہی تین مرتبہ بائیں طرف تھو تھو کرے اور اس خواب کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح خواب کا اسے نقصان نہیں ہو گا اور ابوسلمہ نے کہا کہ پہلے بعض خواب مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا تھا جب سے میں نے یہ حدیث سنی اور اس پر عمل کرنے لگا، اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5747]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے جبکہ پریشان کن خواب شیطان کی طرف سے ہے، اس لیے تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو بیدار ہوتے ہی تین مرتبہ تھو، تھو کرے اور اس خواب کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے سے خواب کا اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“ ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ گراں ہوتے تھے۔ جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے، میں ان کی کوئی پروا نہیں کرتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5747]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5748
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ، ب قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ،، جَمِيعًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ، قَالَ يُونُسُ: كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ، يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام فرمانے کے لیے لیٹتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر «قل هو الله أحد» اور «قل أعوذ برب الناس» اور «قل أعوذ برب الفلق» سب پڑھ کر دم کرتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرہ پر اور جسم کے جس حصہ تک ہاتھ پہنچ پاتا پھیرتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر جب آپ بیمار ہوتے تو آپ مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیتے تھے۔ یونس نے بیان کیا کہ میں نے ابن شہاب کو بھی دیکھا کہ وہ جب اپنے بستر پر لیٹتے اسی طرح ان کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5748]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور «الْمُعَوِّذَاتِ» پڑھ کر پھونکتے، پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور جسم کے جس حصے تک ہاتھ جاتا وہاں پھیرتے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب آپ بیمار ہوئے تو مجھے اس طرح کرنے کا حکم دیا۔“ (راوی حدیث) یونس بیان کرتے ہیں: ”میں نے ابن شہاب رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ بھی جب بستر پر لیٹتے تو اس طرح کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5748]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5749
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ:" أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ قَدْ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ، فَأَتَوْهُمْ، فَقَالُوا: يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَاقٍ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، حَتَّى لَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَانْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ، قَالَ: فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اقْسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ، فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا، فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر (جعفر) ان سے ابوالمتوکل علی بن داؤد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ (300 نفر) ایک سفر کے لیے روانہ ہوئے جسے انہیں طے کرنا تھا راستے میں انہوں نے عرب کے ایک قبیلہ میں پڑاؤ کیا اور چاہا کہ قبیلہ والے ان کی مہمانی کریں لیکن انہوں نے انکار کیا، پھر اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اسے اچھا کرنے کی ہر طرح کی کوشش انہوں نے کر ڈالی لیکن کسی سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آخر انہیں میں سے کسی نے کہا کہ یہ لوگ جنہوں نے تمہارے قبیلہ میں پڑاؤ کر رکھا ہے ان کے پاس بھی چلو، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی منتر ہو۔ چنانچہ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہا لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے ہم نے ہر طرح کی بہت کوشش اس کے لیے کر ڈالی لیکن کسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیا تم لوگوں میں سے کسی کے پاس اس کے لیے منتر ہے؟ صحابہ میں سے ایک صاحب (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ ہاں واللہ میں جھاڑنا جانتا ہوں لیکن ہم نے تم سے کہا تھا کہ ہماری مہمانی کرو (ہم مسافر ہیں) تو تم نے انکار کر دیا تھا اس لیے میں بھی اس وقت تک نہیں جھاڑوں گا جب تک تم میرے لیے اس کی مزدوری نہ ٹھہرا دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں (30) پر معاملہ کر لیا۔ اب یہ صحابی روانہ ہوئے۔ یہ زمین پر تھوکتے جاتے اور «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے جاتے اس کی برکت سے وہ ایسا ہو گیا جیسے اس کی رسی کھل گئی ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ بیان کیا کہ پھر وعدہ کے مطابق قبیلہ والوں نے ان صحابی کی مزدوری (30 بکریاں) ادا کر دی بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو تقسیم کر لو لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پوری صورت حال آپ کے سامنے بیان کر دیں پھر دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس سے دم کیا جا سکتا ہے؟ تم نے اچھا کیا جاؤ ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ لگاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5749]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام ایک سفر کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ سفر کرتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے (راستے میں) عرب کے ایک قبیلے کے ہاں پڑاؤ کیا تو ان سے ضیافت طلب کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اچانک اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ کھایا۔ انہوں نے اس (کی صحت یابی) کے لیے پوری کوشش کی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ آخر ان میں سے کسی نے کہا: ”تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جو تمہارے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں، ممکن ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو،“ چنانچہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور کہا: ”لوگو! ہمارے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا ہے۔ ہم نے ہر طرح سے کوشش کی لیکن کسی چیز سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کیا تمہارے پاس اس کے لیے کوئی چیز ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب نے کہا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں جھاڑ پھونک جانتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے ضیافت طلب کی تھی جس کا تم نے انکار کر دیا تھا، لہذا میں بھی اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم اس کی کوئی اجرت طے نہ کرو۔“ چنانچہ انہوں نے کچھ بکریاں دینے پر معاملہ طے کر لیا۔ اب یہ صحابی روانہ ہوئے اور «سُورَةُ الْفَاتِحَةِ» ”سورہ فاتحہ“ پڑھ کر دم کرتے رہے۔ (اس کی برکت سے) وہ ایسے ہو گیا جیسے اس کی رسی کھل گئی ہو اور اس طرح چلنے لگا گویا اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پوری طے شدہ اجرت دے دی۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”بکریاں تقسیم کر لو،“ لیکن جس نے دم کیا تھا کہنے لگا: ”ابھی نہیں، پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صورت حال بیان کریں، پھر دیکھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟“ چنانچہ وہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس سے دم کیا جا سکتا ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا۔ بکریاں تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ حصہ لگاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5749]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
40. بَابُ مَسْحِ الرَّاقِي الْوَجَعَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:
باب: بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا۔
حدیث نمبر: 5750
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بَعْضَهُمْ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بن ابوالصبیح نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے گھر کے) بعض لوگوں پر دم کرتے وقت اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے (اور یہ دعا پڑھتے تھے) «أذهب الباس رب الناس، واشف أنت الشافي، لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما» ”تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء وہی ہے جو تیری طرف سے ہو ایسی شفاء کہ بیماری ذرا بھی باقی نہ رہ جائے۔“ (سفیان نے کہا کہ) پھر میں نے یہ منصور سے بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس ہی کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5750]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی پر دم کرتے وقت اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے اور شفا دے۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ شفا وہی ہے جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفا کہ بیماری کا نشان تک نہ رہے۔“ سفیان نے کہا: میں نے یہ منصور سے ذکر کیا تو انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
41. بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرْقِي الرَّجُلَ:
باب: عورت مرد پر دم کر سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 5751
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ، كُنْتُ أَنَا أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ فَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا"، فَسَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ: كَيْفَ كَانَ يَنْفِثُ؟، قَالَ: يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ (معمر نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5751]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضِ وفات میں معوذات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشوار ہو گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرتی تھی اور برکت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی تھی“۔ میں نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیر لیتے تھے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة