صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. بَابُ التَّأْمِينِ:
باب: (جہری نمازوں میں) بالجہر (اونچی آواز میں) آمین کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6402
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: حَدَّثَنَاهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ زہری نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6402]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب پڑھنے والا «آمِينَ» ”آمین“ کہے تو تم بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہو، بلاشبہ اس وقت فرشتے بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہتے ہیں۔ جس کی «آمِينَ» ”آمین“ فرشتوں کی «آمِينَ» ”آمین“ کے ساتھ موافق ہو جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
64. بَابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ:
باب: «لا إله إلا الله» کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6403
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، لَهُ لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے یہ کلمہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ دن میں سو دفعہ پڑھا اسے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا شام تک کے لیے اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر کام کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، سوا اس کے جو اس سے زیادہ کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6403]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو مرتبہ درج ذیل کلمات: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور تمام تعریفوں کا وہی سزاوار ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے“ پڑھے، اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی، نیز اس کے سو گناہ مٹا دیے جائیں گے۔ وہ سارا دن شیطان سے محفوظ رہے گا حتیٰ کہ شام ہو جائے، اور جو عمل اس نے کیا ہے اس سے افضل کسی کا عمل نہیں ہوگا مگر جو کوئی اس سے زیادہ عمل کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6403]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6404
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: عَشْرًا كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ"، قَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، مِثْلَهُ، فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: مِن ابْنِ أَبِي لَيْلَى، فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ مِن أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَوْلَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،. وَقَالَ مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ قَوْلَهُ. وَقَالَ آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَوْلَهُ. وَقَالَ الْأَعْمَشُ، وَحُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالٍ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَوْلَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ"، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ: الصَّحِيحُ قَوْلُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے، کہا کہ ہم سے عمر بن ابی زائد نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہو گا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ (پھر میں) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے، وہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے،، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یہی حدیث روایت کی۔ اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6404]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس نے دس مرتبہ یہ کلمہ کہا تو وہ ایسا ہوگا ”جیسے اس نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے ایک غلام آزاد کیا“۔ (راویِ حدیث) حضرت عمر بن ابی زائدہ نے کہا: ”ہم سے عبداللہ بن ابو سفر نے بیان کیا، ان سے امام شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون بیان کیا تو میں نے ربیع سے پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ابن ابی یعلیٰ سے۔ میں ابن ابی یعلیٰ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔“ ابراہیم بن یوسف اپنے باپ سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں وہ ابو اسحاق سے، انہوں نے کہا: ”مجھے عمرو بن میمون نے بیان کیا وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔“ موسیٰ بن اسماعیل نے کہا: ”ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا داؤد بن ابی ہند سے، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو نقل کیا۔“ اسماعیل نے شعبی سے، انہوں نے ربیع بن خثیم سے موقوفاً ان کا قول نقل کیا ہے۔ آدم بن ابی ایاس نے کہا: ”ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ہلال بن یساف سے سنا، وہ ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون سے بیان کرتے ہیں، دونوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کا قول بیان کیا ہے۔“ اعمش اور حصین نے ہلال سے، انہوں نے ربیع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کیا ہے۔ ابو محمد حضرمی نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے: ”وہ ایسے ہے جیسے اس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک گردن آزاد کی۔“ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: ”اور صحیح بات ہے کہ یہ عمرو کا قول ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6404]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
65. بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ:
باب: سبحان اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6405
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے «سبحان الله وبحمده.» دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6405]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے“ کہا، اس کے تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں خواہ سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6405]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6406
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ".
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں «سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده» ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6406]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے پھلکے، میزان میں بہت بھاری بھرکم اور رحمن کو بڑے ہی پیارے ہیں، وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ» ”اللہ تعالیٰ عظمت والا پاک ہے“ اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ تعالیٰ پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے“ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6406]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
66. بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
باب: اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6407
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6407]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور وہ جو ذکر نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6408
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ، قَالَ: فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ قَالُوا: يَقُولُونَ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً، وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا، وَتَحْمِيدًا، وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا، قَالَ: يَقُولُ: فَمَا يَسْأَلُونِي؟ قَالَ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا، قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، قَالَ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، قَالَ: يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا، قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا، وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً، قَالَ: فَيَقُولُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ: يَقُولُ: مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ"، رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہو گیا۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر امنڈتے رہتے ہیں۔ پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے .... حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے .... کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کر لیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ اے رب! انہوں نے تیری جنت نہیں دیکھی۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ (ذاکرین) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا لیکن اس کو مرفوع نہیں کیا۔ اور سہیل نے بھی اس کو اپنے والدین ابوصالح سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6408]
حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو اہل ذکر کو تلاش کرتے ہوئے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں، جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ کے ذکر میں مصروف پا لیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں: ”آؤ! تمہارا مطلب حل ہو گیا ہے“۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے پروں کے ذریعے سے انہیں گھیر لیتے ہیں اور آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا رب عزوجل ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ انہیں خوب جانتا ہے: ”میرے بندے کیا کہتے ہیں؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”وہ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری کبریائی بیان کرتے ہیں، تیری حمد و ثنا کرتے ہیں اور تیری بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں“۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: ”کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟“ وہ جواب دیتے ہیں: ”نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا“۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیفیت کیسی ہو؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو وہ تیری خوب عبادت کریں اور تیری خوب شان و عظمت بیان کریں اور تیری بہت زیادہ تسبیح کریں“۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: ”وہ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”وہ تجھ سے جنت کے طالب ہیں“۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: ”کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”نہیں، اللہ کی قسم اے رب! انہوں نے اسے نہیں دیکھا“۔ وہ پوچھتا ہے: ”اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیسی کیفیت ہو؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس کی بہت زیادہ حرص و خواہش اور رغبت کریں“۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے: ”وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”جہنم سے“۔ وہ پوچھتا ہے: ”کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”نہیں، اللہ کی قسم اے رب! انہوں نے اسے نہیں دیکھا“۔ وہ پوچھتا ہے: ”اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس سے بہت دور بھاگیں اور اس سے بہت زیادہ ڈریں گے“۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے“۔ ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: ”ان میں فلاں شخص ایسا ہے جو ان سے نہیں بلکہ وہ تو اپنی کسی ضرورت کے تحت ان میں آیا تھا“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وہ ایسے ہم نشین ہیں جن میں بیٹھنے والا بھی محروم و نامراد نہیں رہتا“۔“ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے بیان کیا ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع ذکر نہیں کیا۔ سہیل نے بھی اس حدیث کو اپنے والد ابو صالح سے روایت کیا ہے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6408]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
67. بَابُ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ:
باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہنا۔
حدیث نمبر: 6409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ، أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَلَمَّا عَلَا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى، فَرَفَعَ صَوْتَهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر.» کہا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے۔ پھر فرمایا، ابوموسیٰ یا تو یوں (فرمایا) اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے عرض کیا، ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6409]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی یا درے میں داخل ہوئے، جب ایک اور آدمی بھی اس پر چڑھا تو اس نے بآواز بلند «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اے ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟“ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت“ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
68. بَابُ لِلَّهِ مِائَةُ اسْمٍ غَيْرَ وَاحِدٍ:
باب: اللہ پاک کے ایک کم سو نام ہیں۔
حدیث نمبر: 6410
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً قَالَ:" لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا يَحْفَظُهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُوَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث ابوالزناد سے یاد کی، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایتاً بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جو شخص بھی انہیں یاد کر لے گا جنت میں جائے گا۔ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6410]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو شخص بھی انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ اللہ طاق (ایک) ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6410]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
69. بَابُ الْمَوْعِظَةِ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ:
باب: ٹھہر ٹھہر کر فاصلے سے وعظ نصیحت کرنا۔
حدیث نمبر: 6411
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثني شقيق، قال: كنا ننتظر عبد الله إذ جاء يزيد بن معاوية، فقلنا: ألا تجلس؟ قال: لا، ولكن أدخل فاخرج إليكم صاحبكم، وإلا جئت أنا فجلست، فخرج عبد الله، وهو آخذ بيده، فقام علينا، فقال: أما إني أخبر بمكانكم، ولكنه" يمنعني من الخروج إليكم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتخولنا بالموعظة في الأيام كراهية السامة علينا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ آئے۔ ہم نے کہا، تشریف رکھئے لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، میں اندر جاؤں گا اور تمہارے ساتھ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو باہر لاؤں گا۔ اگر وہ نہ آئے تو میں ہی تنہا آ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور وہ یزید بن معاویہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے پھر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے کہنے لگے میں جان گیا تھا کہ تم یہاں موجود ہو۔ پس میں جو نکلا تو اس وجہ سے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ مقررہ دنوں میں ہم کو وعظ فرمایا کرتے تھے، (فاصلہ دے کر) آپ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6411]
حضرت شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ رحمہ اللہ تشریف لائے، ہم نے عرض کی: ”آپ تشریف رکھیں“، انہوں نے جواب دیا: ”بلکہ میں اندر جاتا ہوں تاکہ تمہارے ساتھی، یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو باہر لاؤں، اگر وہ نہ آئے تو میں تنہا ہی آ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا“، اسی دوران میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے جبکہ وہ ان (یزید بن معاویہ) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، پھر وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھے تمہارے بیٹھنے کی خبر پہنچی تھی لیکن مجھے تمہارے پاس آنے سے اس امر نے منع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی وعظ فرمایا کرتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6411]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة