صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
حدیث نمبر: 6571
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ كَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: تَسْخَرُ مِنِّي أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَكَانَ يَقُولُ: ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اہل جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہل جنت میں کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ تمہیں دنیا اور اس سے دس گنا دیا جاتا ہے یا (اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6571]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آخری دوزخی کو جانتا ہوں جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور آخری جنتی کو بھی جانتا ہوں جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا، اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: جاؤ، جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ اس (جنت) کے پاس آئے گا تو اسے خیال ہو گا کہ وہ تو بھری پڑی ہے، چنانچہ وہ واپس آ کر (اللہ) سے عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے اسے (جنت کو) بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ پھر (اسے) فرمائے گا: جاؤ، جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہیں دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ دیا جاتا ہے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو شہنشاہ ہے؟“ اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر ہنس دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے دانت مبارک ظاہر ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جنت میں سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6572
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ؟".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے بیان کیا اور ان سے عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع پہنچایا؟ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6572]
حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچایا؟“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
52. بَابُ الصِّرَاطُ جَسْرُ جَهَنَّمَ:
باب: صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 6573
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أن أبا هريرة، أخبرهما، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟"، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا، فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتْبَعُونَهُ، وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدُعَاءُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهِ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، أَمَا رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهَا لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ: أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنَ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، فَيَقُولُ: لَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، وَيْلَكَ ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا، فَإِذَا دَخَلَ فِيهَا قِيلَ لَهُ تَمَنَّ مِنْ كَذَا فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا، فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيَقُولُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل (ابر) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کو اسی طرح قیامت کے دن دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور کہے گا کہ تم میں سے جو شخص جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے ہو لیں گے۔ جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی اور اس میں منافقین کی جماعت بھی ہو گی، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ لوگ کہیں گے تجھ سے اللہ کی پناہ۔ ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے سامنے نہ آئے۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے (کیونکہ وہ حشر میں ایک بار اس کو پہلے دیکھ چکے ہوں گے) پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا (آؤ میرے ساتھ ہو لو) میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے، پھر اسی کے پیچھے ہو جائیں گے اور جہنم پر پل بنا دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو پار کروں گا اور اس دن رسولوں کی دعا یہ ہو گی کہ اے اللہ! مجھ کو سلامت رکھیو۔ اے اللہ! مجھ کو سلامت رکھیو اور وہاں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دیکھے ہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پھر سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ اس کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے اور اس طرح ان میں سے بعض تو اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے اور بعض کا عمل رائی کے دانے کے برابر ہو گا، پھر وہ نجات پا جائے گا۔ آخر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہو گی۔ یعنی وہ جنہوں نے کلمہ «لا إله إلا الله» کی گواہی دی ہو گی اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم میں سجدوں کے نشان کو کھائے۔ چنانچہ فرشتے ان لوگوں کو نکالیں گے۔ یہ جل کر کوئلے ہو چکے ہوں گے پھر ان پر پانی چھڑکا جائے گا جسے «ماء الحياة» زندگی بخشنے والا پانی کہتے ہیں۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جیسے سیلاب کے بعد زرخیز زمین میں دانہ اگ آتا ہے۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ جہنم کی طرف ہو گا اور وہ کہے گا اے میرے رب! اس کی بدبوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جھلسا دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے، ذرا میرا منہ آگ کی طرف سے دوسری طرف پھیر دے۔ وہ اسی طرح اللہ سے دعا کرتا رہے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں تو کہیں تو کوئی دوسری چیز مانگنی شروع نہ کر دے۔ وہ شخص عرض کرے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں مانگوں گا۔ چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کی طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد وہ کہے گا۔ اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے ابھی یقین نہیں دلایا تھا کہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ افسوس! اے ابن آدم! تو بہت زیادہ وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ برابر اسی طرح دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو تو پھر اس کے علاوہ کچھ اور چیز مانگنے لگے گا۔ وہ شخص کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا اور وہ اللہ سے عہد و پیمان کرے گا کہ اس کے سوا اب کوئی اور چیز نہیں مانگے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب وہ جنت کے اندر کی نعمتوں کو دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا، پھر کہے گا اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے سوا کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ اے ابن آدم! افسوس، تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت بندہ نہ بنا۔ وہ برابر دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا۔ جب اللہ ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کر چنانچہ وہ اس کی خواہش کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کرو، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں اور دی جاتی ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی سند سے کہا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6573]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل وغیرہ نہ ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم قیامت کے دن اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور ان سے کہے گا: جو کوئی کسی کی پوجا کرتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پرستش کرتے تھے وہ اس کے پیچھے ہو لیں گے اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی۔ اس میں منافقین کی جماعت بھی ہوگی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور ان سے کہے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ لوگ کہیں گے: ”تجھ سے اللہ کی پناہ! ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک ہمارا رب ہمارے سامنے نہ آئے، جب ہمارا رب ہمارے سامنے آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔“ پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ لوگ کہیں گے: ”واقعی تو ہمارا رب ہے“، پھر اسی کے پیچھے ہو لیں گے اور جہنم پر پل رکھا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو عبور کروں گا۔ اس دن رسولوں کی دعا یہ ہوگی: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی سے گزار دے، اے اللہ! سلامتی سے گزار دے۔“ پل صراط کے ساتھ سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہاں دیکھے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے، البتہ ان کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق پکڑ لیں گے۔ ان میں سے کچھ تو اپنے اعمال کی پاداش میں ہلاک ہو جائیں گے اور کچھ زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے سے فارغ ہوگا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہوگی، وہ جو گواہی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اللہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچانتے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم سے سجدوں کے نشانات کو کھائے، چنانچہ جب فرشتے ان کو نکالیں گے تو وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر ان پر پانی بہایا جائے گا جسے «مَاءُ الْحَيَاةِ» ”آب حیات“ کہا جاتا ہے۔ وہ اس وقت اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جس طرح سیلاب کے خس و خاشاک میں دانہ اگتا ہے۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! اس کی بدبو نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے، میرا چہرہ دوزخ سے دوسری طرف کر دے۔“ وہ مسلسل اسی طرح اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا، آخرکار اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیرا مطالبہ پورا کر دوں تو اس کے علاوہ کوئی اور سوال تو نہیں کرے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کروں گا“، چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کے علاوہ دوسری طرف پھیر دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے یقین نہیں دلایا تھا کہ میں اس کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کروں گا؟ افسوس اے ابن آدم! تو کس قدر عہد شکن اور وعدہ فراموش ہے۔“ پھر وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو پھر اس کے علاوہ کوئی اور چیز تو نہیں مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے علاوہ اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا۔“ وہ اللہ تعالیٰ کو مضبوط عہد و پیمان دے گا کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا، پھر جب وہ جنت کی اشیاء دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں مانگے گا؟ اے ابن آدم! تو کس قدر وعدہ خلاف ہے۔“ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑا بدبخت نہ کر۔“ وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اس سے ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا: ”تو ایسی ایسی چیز کی خواہش کر۔“ وہ خواہش کرے گا، پھر اس سے کہا جائے گا: ”تو فلاں فلاں چیز کی تمنا کر“، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: ”تیری تمام خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں مزید دی جاتی ہیں۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ شخص سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6573]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6574
قَالَ عَطَاءٌ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ:" هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ: مِثْلُهُ مَعَهُ.
عطاء نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا لیکن جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے اس ٹکڑے تک پہنچے کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں نے یوں ہی سنا ہے، یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6574]
حضرت عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب حدیث کے اس ٹکڑے پر پہنچے: ”تمہاری تمام خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور نعمتیں دی جاتی ہیں“ تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ نے فرمایا: ”تمہاری یہ خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور ان سے دس گنا مزید دی جاتی ہیں۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تو یہی الفاظ یاد کیے ہیں کہ یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور تجھے دی جاتی ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
53. بَابٌ في الْحَوْضِ:
باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q6575
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الکوثر میں) فرمایا «إنا أعطيناك الكوثر» ”بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر دیا۔“ اور عبداللہ بن زید مازنی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ تم اس وقت تک صبر کئے رہنا کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: Q6575]
حدیث نمبر: 6575
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ".
مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تم سے پہلے ہی حوض پر موجود رہوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6575]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6575]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6576
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَيُرْفَعَنَّ مَعِي رِجَالٌ مِنْكُمْ، ثُمَّ لَيُخْتَلَجُنَّ دُونِي، فَأَقُولُ يَا رَبِّ: أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ"، تَابَعَهُ عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَقَالَ حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(دوسری سند) اور مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ نے، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابووائل سے کی، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6576]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے، پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔“ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابو وائل سے کی ہے، ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6577
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمَامَكُمْ حَوْضٌ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ، وَأَذْرُحَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہو گا وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرحاء کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6577]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہوگا، وہ اتنا بڑا ہے جتنا «جَرْبَاء» اور «أَذْرُح» کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6578
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْكَوْثَرُ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ"، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ.
مجھ سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر اور عطاء بن سائب نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ کوثر سے مراد بہت زیادہ بھلائی (خیر کثیر) ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو انہوں نے کہا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اس خیر (بھلائی) کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6578]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ” «الْكَوْثَرُ» (کوثر) سے مراد خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی تھی۔“ (راویِ حدیث) ابوبشر نے کہا: میں نے حضرت سعید بن جبیر سے کہا: ”کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے“، تو انہوں نے جواب دیا: ”جو نہر جنت میں ہے وہ بھی خیر کثیر کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6578]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6579
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا".
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہو گی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی (میدان محشر میں) پیاسا نہ ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6579]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوگا، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ عمدہ ہوگی اور اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة