سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ في مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1456
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ هُوَ ابْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْأَغَرُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دوسری تمام مساجد سے ایک ہزار درجہ زیادہ بہتر ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1458] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1190] ، [مسلم 1394] ، [ترمذي 325] ، [ابن ماجه 1404] ، [أبويعلی 5857] ، [ابن حبان 1621، 1625] ، [الحميدي 969]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1190] ، [مسلم 1394] ، [ترمذي 325] ، [ابن ماجه 1404] ، [أبويعلی 5857] ، [ابن حبان 1621، 1625] ، [الحميدي 969]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1457
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1459] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 29/2، 54] ، [مسلم 1395] ، [ابن ماجه 1405] ، [ابن أبى شيبه 371/2]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 29/2، 54] ، [مسلم 1395] ، [ابن ماجه 1405] ، [ابن أبى شيبه 371/2]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1458
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1460] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1190] ، [مسلم 1394] ، [أبويعلی 5857] ، [ابن حبان 1621] ، [الحميدي 969]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1190] ، [مسلم 1394] ، [أبويعلی 5857] ، [ابن حبان 1621] ، [الحميدي 969]
وضاحت: (تشریح احادیث 1455 سے 1458)
ان احادیث سے مسجدِ نبوی کی فضیلت ثابت ہوئی کہ اس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد سے ہزار گنا زیادہ ہے سوائے مسجد الحرام کے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد الحرام روئے زمین کی ساری مساجد سے افضل ہے کیونکہ اس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، «كما ورد فى بعض الروايات» ۔
دیکھئے: [فتح الباري، شرح حديث 1190] ۔
ان احادیث سے مسجدِ نبوی کی فضیلت ثابت ہوئی کہ اس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد سے ہزار گنا زیادہ ہے سوائے مسجد الحرام کے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد الحرام روئے زمین کی ساری مساجد سے افضل ہے کیونکہ اس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، «كما ورد فى بعض الروايات» ۔
دیکھئے: [فتح الباري، شرح حديث 1190] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
132. باب لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ:
شدّ رحال (یعنی سفر) صرف تین مساجد کے لئے کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدُ الْكَعْبَةِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مسجدوں کے سوا کسی مسجد کے لئے کجاوے نہ باندھے جائیں (یعنی سفر نہ کیا جائے)، ایک مسجد حرام (بیت اللہ شریف)، دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی)، اور تیسرے مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1461] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1189] ، [مسلم 1397] ، [أبوداؤد 2033] ، [نسائي 699] ، [ابن ماجه 1409] ، [أبويعلی 5880] ، [ابن حبان 1619] ، [الحميدي 973]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1189] ، [مسلم 1397] ، [أبوداؤد 2033] ، [نسائي 699] ، [ابن ماجه 1409] ، [أبويعلی 5880] ، [ابن حبان 1619] ، [الحميدي 973]
وضاحت: (تشریح حدیث 1458)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ان تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے کسی بھی مسجد میں سفر کر کے جانا جائز نہیں، اور ثواب کی نیت سے قبر اور مزاروں کے لئے سفر کرنا تو حرام ہے، حتیٰ کہ علمائے کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک کی زیارت کے قصد سے مدینہ منورہ جانے کو بھی خلافِ شرع اور مذکورہ بالا حدیث کے مخالف تصور کیا ہے، ہاں جو شخص مسجدِ نبوی میں جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کی زیارت کے لئے جائے تو کوئی حرج نہیں، وہاں جا کر درود و سلام شرعی طریقے پر کہنا اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما و دیگر صحابہ پر سلام کہنا معیوب نہیں، اسی طرح قرب و جوار کے قبرستان میں عبرت و موعظت کے لئے جانا اور مرحومین کے لئے دعا کرنا بھی خلافِ شرع نہیں بلکہ جائز و مستحب ہے، بس شدّ رحال کی یعنی خاص طور سے کسی قبر، مزار، درگاہ اور قبرستان کی زیارت ثواب حاصل کرنے کے لئے اور صاحبِ قبر سے سفارش یا طلبِ معاش و حاجت روائی کے لئے سفر کر کے جانا خلافِ شرع اور حرام ہے۔
اللہ سب کو دین کی سمجھ دے۔
آمین۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ان تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے کسی بھی مسجد میں سفر کر کے جانا جائز نہیں، اور ثواب کی نیت سے قبر اور مزاروں کے لئے سفر کرنا تو حرام ہے، حتیٰ کہ علمائے کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک کی زیارت کے قصد سے مدینہ منورہ جانے کو بھی خلافِ شرع اور مذکورہ بالا حدیث کے مخالف تصور کیا ہے، ہاں جو شخص مسجدِ نبوی میں جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کی زیارت کے لئے جائے تو کوئی حرج نہیں، وہاں جا کر درود و سلام شرعی طریقے پر کہنا اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما و دیگر صحابہ پر سلام کہنا معیوب نہیں، اسی طرح قرب و جوار کے قبرستان میں عبرت و موعظت کے لئے جانا اور مرحومین کے لئے دعا کرنا بھی خلافِ شرع نہیں بلکہ جائز و مستحب ہے، بس شدّ رحال کی یعنی خاص طور سے کسی قبر، مزار، درگاہ اور قبرستان کی زیارت ثواب حاصل کرنے کے لئے اور صاحبِ قبر سے سفارش یا طلبِ معاش و حاجت روائی کے لئے سفر کر کے جانا خلافِ شرع اور حرام ہے۔
اللہ سب کو دین کی سمجھ دے۔
آمین۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
133. باب فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ في الظُّلَمِ:
تاریکی و اندھیرے میں (نماز کے لئے) مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1460
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جُنَادَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ لَيْلٍ إِلَى صَلَاةٍ، آتَاهُ اللَّهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کے اندھیرے میں نماز کی غرض سے نکلے الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کو نور عطا فرمائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد والحديث يصح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 1462] »
یہ روایت حسن اور شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 2046] ، [موارد الظمآن 422] ، [مجمع الزوائد 2109]
یہ روایت حسن اور شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 2046] ، [موارد الظمآن 422] ، [مجمع الزوائد 2109]
وضاحت: (تشریح حدیث 1459)
اس حدیث سے رات کی تاریکی میں نماز کے لئے جانے کی فضیلت ثابت ہوئی، ایسے آدمی کے لئے قیامت کے دن نور ہی نور ہوگا۔
اس حدیث سے رات کی تاریکی میں نماز کے لئے جانے کی فضیلت ثابت ہوئی، ایسے آدمی کے لئے قیامت کے دن نور ہی نور ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد والحديث يصح بشواهده
134. باب كَرَاهِيَةِ الاِلْتِفَاتِ في الصَّلاَةِ:
نماز میں اِدھر اُدھر التفات مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1461
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ، انْصَرَفَ عَنْهُ".
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ اِدھر اُدھر التفات نہ کرے، جب اپنے چہرے کو نمازی موڑتا ہے تو الله تعالیٰ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 1463] »
یہ روایت اس سند سے عبدالله بن صالح اور ابوالاحوص کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 175/5] ، [أبوداؤد 909] ، [نسائي 1194] ، [مجمع الزوائد 245، 2453]
یہ روایت اس سند سے عبدالله بن صالح اور ابوالاحوص کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 175/5] ، [أبوداؤد 909] ، [نسائي 1194] ، [مجمع الزوائد 245، 2453]
وضاحت: (تشریح حدیث 1460)
اس حدیث سے نماز میں اِدھر اُدھر التفات کرنے اور دیکھنے کی ممانعت ہے۔
التفات دو طرح سے ہو سکتا ہے۔
نظر گھما کر اِدھر اُدھر دیکھنا تو اس کی احادیث کی روشنی میں گنجائش ہے، اور فرض نماز میں یہ بھی نہ ہو تو بہتر ہے، اور گردن موڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنا یہ منع ہے کیونکہ نماز میں انسان کو یکسو ہو کر سجدے کی طرف نظر رکھنی چاہیے تاکہ دھیان اِدھر اُدھر نہ بنے اور خشوع و خضوع برقرار رہے جو نماز کیلئے اشد ضروری ہے۔
اس حدیث سے نماز میں اِدھر اُدھر التفات کرنے اور دیکھنے کی ممانعت ہے۔
التفات دو طرح سے ہو سکتا ہے۔
نظر گھما کر اِدھر اُدھر دیکھنا تو اس کی احادیث کی روشنی میں گنجائش ہے، اور فرض نماز میں یہ بھی نہ ہو تو بہتر ہے، اور گردن موڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنا یہ منع ہے کیونکہ نماز میں انسان کو یکسو ہو کر سجدے کی طرف نظر رکھنی چاہیے تاکہ دھیان اِدھر اُدھر نہ بنے اور خشوع و خضوع برقرار رہے جو نماز کیلئے اشد ضروری ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح
135. باب أَيُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ:
کون سی نماز بہتر ہے؟
حدیث نمبر: 1462
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ". قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"طُولُ الْقِيَامِ". قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"جُهْدُ مُقِلٍّ". قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"أَنْ تَهْجُرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ". قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ". قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:"مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ".
عبداللہ بن حبشی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے، پھر وہ جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور پھر حج مبرور۔“ دریافت کیا گیا: اور سب سے زیادہ افضل (فضیلت والی) نماز کون سی ہے؟ فرمایا: ”جس میں قیام لمبا ہو۔“ پوچھا گیا: اور سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا: ”جو کم مال والا محنت کر کے صدقہ دے۔“ عرض کیا گیا: ہجرت کون سی افضل ہے؟ فرمایا: ”جو حرام کام سے ہجرت (کنارہ کشی) اختیار کرے۔“ پوچھا گیا: پھر جہاد کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”جو مشرکین سے اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کرنا ہو۔“ پوچھا گیا: سب سے افضل قتل کون سا ہے؟ فرمایا: ”جس کا خون بہایا جائے اور اس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1464] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1449] ، [نسائي 2525، 5001] ، [أحمد 411/3] ، [ترغيب وترهيب 30]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1449] ، [نسائي 2525، 5001] ، [أحمد 411/3] ، [ترغيب وترهيب 30]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
136. باب فَضْلِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ:
نماز فجر اور عصر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: مَا الْبَرْدَيْنِ؟ قَالَ: الْغَدَاةُ وَالْعَصْرُ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں (فجر و عصر) وقت پر پڑھیں تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ «بردين» کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا: فجر اور عصر کی نماز۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1465] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 574] ، [مسلم 635] ، [أبويعلی 7265] ، [ابن حبان 1739]
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 574] ، [مسلم 635] ، [أبويعلی 7265] ، [ابن حبان 1739]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1464
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ، فَهُوَ فِي جِوَارِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي جَارِهِ، وَمَنْ صَلَّى الْعَصْرَ، فَهُوَ فِي جِوَارِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي جَارِهِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِذَا أُمِّنَ وَلَمْ يَفِ، فَقَدْ غَدَرَ وَأَخْفَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے فجر کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کے جوار (پڑوس یا ذمے داری اور عہد و پیمان) میں ہے، پس تم اللہ کے عہد میں اس کے پیمان کو نہ توڑو، اور جو شخص عصر کی نماز پڑھ لے تو وہ بھی اللہ کے جوار میں ہے، پس تم اللہ کے جوار کو نہ توڑو۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے «اخفر» کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: جب انسان مامون ہو جائے اور عہد کو پورا نہ کرے تو گویا اس نے خیانت کی اور عہد کو توڑ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إن كان جد إبراهيم سالما البراد، [مكتبه الشامله نمبر: 1466] »
اس روایت کی سند جید ہے، اور ان الفاظ میں یہ روایت امام دارمی رحمہ اللہ کے انفرادات میں سے ہے، لیکن اس کے ہم معنی صحیح حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 657] ، [ترمذي 222] ، [ابن ماجه 2945] ، [الطيالسي 938] ، [أحمد 312/4 وغيرهم]
اس روایت کی سند جید ہے، اور ان الفاظ میں یہ روایت امام دارمی رحمہ اللہ کے انفرادات میں سے ہے، لیکن اس کے ہم معنی صحیح حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 657] ، [ترمذي 222] ، [ابن ماجه 2945] ، [الطيالسي 938] ، [أحمد 312/4 وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 1461 سے 1464)
اس حدیث سے نمازِ فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوئی۔
مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ہیں: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ.» ”جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔
“ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے، جو اللہ کی ذمہ داری میں ہو اسے کون چھو سکتا ہے، اور کون نقصان و تکلیف یا ضرر پہنچا سکتا ہے؟
اس حدیث سے نمازِ فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوئی۔
مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ہیں: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ.» ”جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔
“ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے، جو اللہ کی ذمہ داری میں ہو اسے کون چھو سکتا ہے، اور کون نقصان و تکلیف یا ضرر پہنچا سکتا ہے؟
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد إن كان جد إبراهيم سالما البراد
137. باب النَّهْيِ عَنْ دَفْعِ الأَخْبَثَيْنِ في الصَّلاَةِ:
نماز میں بول و براز روکے رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ: "إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَأَرَادَ الرَّجُلُ الْخَلَاءَ، فَابْدَأْ بِالْخَلَاءِ".
عبداللہ بن ارقم نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو جائے اور آدمی کو پائخانہ کی ضرورت ہو تو پہلے بیت الخلاء جائے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1467] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 88] ، [ترمذي 142] ، [نسائي 851] ، [ابن حبان 2071] ، [موارد الظمآن 194] ، [الحميدي 896]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 88] ، [ترمذي 142] ، [نسائي 851] ، [ابن حبان 2071] ، [موارد الظمآن 194] ، [الحميدي 896]
وضاحت: (تشریح حدیث 1464)
یعنی پہلے حاجت رفع کرے بعد میں نماز کو جائے، کیونکہ ایسی صورت میں نماز میں یکسوئی نہ رہے گی۔
صحیح حدیث ہے: «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ» ”نماز نہیں پڑھنی چاہیئے جب کھانا سامنے آئے یا پائخانہ یا پیشاب کا تقاضہ ہو۔
“ [صحيح مسلم: 560] ۔
یعنی پہلے حاجت رفع کرے بعد میں نماز کو جائے، کیونکہ ایسی صورت میں نماز میں یکسوئی نہ رہے گی۔
صحیح حدیث ہے: «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ» ”نماز نہیں پڑھنی چاہیئے جب کھانا سامنے آئے یا پائخانہ یا پیشاب کا تقاضہ ہو۔
“ [صحيح مسلم: 560] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح