سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب في الْقِرَانِ:
حج قران کا بیان
حدیث نمبر: 1962
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك بعمرة و حج» کہتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1962]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1966] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1963
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا"، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ أَنَسٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَهَلَّ بِالْحَجِّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا يَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھا، راوی بکر نے کہا کہ پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور انہیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا، میں پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بتائی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہم کو بچہ سمجھتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1967] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1232] ، [أبوداؤد 1795] ، [نسائي 2728] ، [ابن حبان 3933]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1232] ، [أبوداؤد 1795] ، [نسائي 2728] ، [ابن حبان 3933]
وضاحت: (تشریح احادیث 1961 سے 1963)
نسائی کی روایت میں ہے: تم ہمیں بچہ سمجھتے ہو، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك عمره و حجًا معًا» کہتے ہوئے سنا۔
اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد امام دارمی رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کی نیّت کر کے احرام باندھا تھا، لہٰذا یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول و فعل کی تائید کرتی ہے جس کی تفصیل پیچھے ذکر کی جا چکی ہے۔
نسائی کی روایت میں ہے: تم ہمیں بچہ سمجھتے ہو، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك عمره و حجًا معًا» کہتے ہوئے سنا۔
اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد امام دارمی رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کی نیّت کر کے احرام باندھا تھا، لہٰذا یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول و فعل کی تائید کرتی ہے جس کی تفصیل پیچھے ذکر کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
79. باب في الطَّوَافِ في غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ:
نماز کے وقت کے علاوہ کسی بھی وقت طواف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنْ وَلِيتُمْ هَذَا الْأَمْرَ، فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ أَوْ صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! اگر تم (خانہ کعبہ کے) متولی بنو تو کسی کو کسی وقت بھی چاہے دن ہو یا رات اس میں طواف اور نماز سے نہ روکنا۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1968] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1894] ، [ترمذي 868] ، [نسائي 2924] ، [ابن ماجه 1254] ، [أبويعلی 7396] ، [ابن حبان 1552] ، [موارد الظمآن 626] ، [مسند الحميدي 571]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1894] ، [ترمذي 868] ، [نسائي 2924] ، [ابن ماجه 1254] ، [أبويعلی 7396] ، [ابن حبان 1552] ، [موارد الظمآن 626] ، [مسند الحميدي 571]
وضاحت: (تشریح حدیث 1963)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم شریف میں کوئی کسی وقت بھی داخل ہو نماز پڑھ سکتا ہے اور طواف کر سکتا ہے چاہے طلوع آفتاب کا وقت ہو یا زوال و غروبِ آفتاب کا وقت، اہلِ حدیث و امام شافعی و احمد و اسحاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زوال اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت نماز و طواف جائز نہیں چاہے حرم ہی کیوں نہ ہو۔
(وحیدی)، لیکن صحیح حدیث کے مقابلے میں ان کا یہ قول درست اور قابلِ عمل نہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم شریف میں کوئی کسی وقت بھی داخل ہو نماز پڑھ سکتا ہے اور طواف کر سکتا ہے چاہے طلوع آفتاب کا وقت ہو یا زوال و غروبِ آفتاب کا وقت، اہلِ حدیث و امام شافعی و احمد و اسحاق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زوال اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت نماز و طواف جائز نہیں چاہے حرم ہی کیوں نہ ہو۔
(وحیدی)، لیکن صحیح حدیث کے مقابلے میں ان کا یہ قول درست اور قابلِ عمل نہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
80. باب في دُخُولِ الْبَيْتِ نَهَاراً:
بیت اللہ شریف میں دن کے وقت داخل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طوی میں رات گزاری، پھر جب صبح ہوئی تو آپ مکہ میں داخل ہوئے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1969] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1574] ، [مسلم 1259] ، [أبوداؤد 1865] ، [ابن ماجه 3908]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1574] ، [مسلم 1259] ، [أبوداؤد 1865] ، [ابن ماجه 3908]
وضاحت: (تشریح حدیث 1964)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے پاس ذی طوی میں رات گذاری، دن نکل آیا تب مکہ میں داخل ہوئے، سنّت کی اتباع میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے، اور یہ ہی کچھ علماء و فقہاء کا مسلک ہے، لیکن رات یا دن میں کسی بھی وقت مکہ میں داخل ہونا جائز ہے، عمرہ جعرانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ہی مکہ گئے تھے۔
والله اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے پاس ذی طوی میں رات گذاری، دن نکل آیا تب مکہ میں داخل ہوئے، سنّت کی اتباع میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے، اور یہ ہی کچھ علماء و فقہاء کا مسلک ہے، لیکن رات یا دن میں کسی بھی وقت مکہ میں داخل ہونا جائز ہے، عمرہ جعرانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ہی مکہ گئے تھے۔
والله اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
81. باب في أَيِّ طَرِيقٍ يَدْخُلُ مَكَّةَ:
مکہ میں کس راستے سے داخل ہوں
حدیث نمبر: 1966
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى".
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا (یعنی مقامِ کدا) کی طرف سے داخل ہوتے تھے (جو بطحاء میں ہے) اور ثنیہ سفلیٰ کی طرف سے مکہ سے خارج (واپس) ہوتے تھے (یعنی نیچے والی گھاٹی کی طرف سے)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1970] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1577] ، [مسلم 1257] ، [أبوداؤد 1866] ، [نسائي 2865]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1577] ، [مسلم 1257] ، [أبوداؤد 1866] ، [نسائي 2865]
وضاحت: (تشریح حدیث 1965)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے سے مکہ جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس ہوتے جیسا کہ عید کی نماز کے لئے کرتے تھے، لہٰذا ایک راستے سے آنا دوسرے سے واپس جانا مستحب ہوا۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے سے مکہ جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس ہوتے جیسا کہ عید کی نماز کے لئے کرتے تھے، لہٰذا ایک راستے سے آنا دوسرے سے واپس جانا مستحب ہوا۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
82. باب مَتَى يُهِلُّ الرَّجُلُ:
تلبیہ کب پکارنا چاہیے
حدیث نمبر: 1967
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ، أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں مسجد کے پاس جب رکاب میں پیر رکھا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1967]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1971] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2865] ، [مسلم 1187/27] ، [ابن ماجه 2916] ، [أبويعلی 5473] ، [ابن حبان 3763] ، [الحميدي 666]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2865] ، [مسلم 1187/27] ، [ابن ماجه 2916] ، [أبويعلی 5473] ، [ابن حبان 3763] ، [الحميدي 666]
وضاحت: (تشریح حدیث 1966)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھ کر کب لبیک پکاری اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اختلاف کی وجہ مروی ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لبیک پکاری، بعض صحابہ نے اس کو سنا اور یاد رکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے تو لبیک پکاری، بعض صحابہ نے یہ سنا اور یاد رکھا، پھر جب میدان کی اونچائی پر پہنچے تو لبیک کہی، بعض صحابہ نے اس کو سنا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکاری۔
ابوداؤد میں ہے: در حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دوگانہ ادا کی تب ہی لبیک پکارا۔
(وحیدی)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھ کر کب لبیک پکاری اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اختلاف کی وجہ مروی ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لبیک پکاری، بعض صحابہ نے اس کو سنا اور یاد رکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے تو لبیک پکاری، بعض صحابہ نے یہ سنا اور یاد رکھا، پھر جب میدان کی اونچائی پر پہنچے تو لبیک کہی، بعض صحابہ نے اس کو سنا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکاری۔
ابوداؤد میں ہے: در حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دوگانہ ادا کی تب ہی لبیک پکارا۔
(وحیدی)۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
83. باب مَا يَصْنَعُ الْمُحْرِمُ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ:
محرم کی آنکھ آ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1968
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ: "يَضْمِدُهَا بِالصَّبِرِ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب محرم کی آنکھ میں تکلیف ہو تو وہ اس پر ایلوے کا لیپ لگا لے۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1972] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1204] ، [أبوداؤد 1839] ، [ترمذي 952] ، [نسائي 2710] ، [الحميدي 34] ۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: علماء کا اسی پرعمل ہے کہ محرم حالتِ احرام میں آنکھ پر دوا لگا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں خوشبو نہ ہو۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1204] ، [أبوداؤد 1839] ، [ترمذي 952] ، [نسائي 2710] ، [الحميدي 34] ۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: علماء کا اسی پرعمل ہے کہ محرم حالتِ احرام میں آنکھ پر دوا لگا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں خوشبو نہ ہو۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
84. باب أَيْنَ يُصَلِّي الرَّجُلُ بَعْدَ الطَّوَافِ:
طواف کی سنتیں آدمی کہاں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1969
«أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:"قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1973] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 395، 396] ، [مسلم 1234] ، [أبويعلی 5627] ، [ابن حبان 3809] ، [الحميدي 863]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 395، 396] ، [مسلم 1234] ، [أبويعلی 5627] ، [ابن حبان 3809] ، [الحميدي 863]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1970
قَالَ شُعْبَةُ: فَحَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: هِيَ السُّنَّةُ.
شعبہ نے کہا: مجھ سے ایوب نے حدیث بیان کی عمر و بن دینار سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ یہی سنت ہے۔ یعنی طواف کی دو رکعت مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھنا سنت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1974] »
اس روایت کی سند بھی موصول اور صحیح ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ مزید حوالہ دیکھئے: [أحمد 85/2] ، [أبويعلی 5629]
اس روایت کی سند بھی موصول اور صحیح ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ مزید حوالہ دیکھئے: [أحمد 85/2] ، [أبويعلی 5629]
وضاحت: (تشریح احادیث 1967 سے 1970)
اگر وہاں جگہ نہ ملے تو یہ دو رکعت کسی بھی جگہ سعی سے پہلے پڑھی جا سکتی ہے۔
اس کا ذکر حدیث نمبر (1887) کی شرح میں گذر چکا ہے۔
اگر وہاں جگہ نہ ملے تو یہ دو رکعت کسی بھی جگہ سعی سے پہلے پڑھی جا سکتی ہے۔
اس کا ذکر حدیث نمبر (1887) کی شرح میں گذر چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
85. باب في طَوَافِ الْوَدَاعِ:
طواف وداع کا بیان
حدیث نمبر: 1971
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ (حج کے بعد) ہر طرف سے واپس ہو رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1975] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1755] ، [مسلم 1327] ، [أبوداؤد 2002] ، [ابن ماجه 3070] ، [ أبويعلی 403] ، [ابن حبان 3897] ، [الحميدي 511]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1755] ، [مسلم 1327] ، [أبوداؤد 2002] ، [ابن ماجه 3070] ، [ أبويعلی 403] ، [ابن حبان 3897] ، [الحميدي 511]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: