سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب في نَحْرِ الْبُدْنِ قِيَاماً:
اونٹ کو کھڑے کر کے ذبح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1952
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا قَدْ أَنَاخَ بَدَنَةً، فَقَالَ: "ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
زیاد بن جبیر سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو (قربانی کے لئے) بٹھا دیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس کو کھڑا کرو اور رسی سے باندھ دو پھر نحر کرو (یعنی ذبح کرو) کیونکہ یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1956] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1713] ، [مسلم 1320] ، [أبوداؤد 1768] ، [ابن حبان 5903]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1713] ، [مسلم 1320] ، [أبوداؤد 1768] ، [ابن حبان 5903]
وضاحت: (تشریح حدیث 1951)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنا ہی افضل ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ بٹھا کر بھی نحر کر سکتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنا ہی افضل ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ بٹھا کر بھی نحر کر سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
71. باب في خُطْبَةِ الْمَوْسِمِ:
موسم حج کے خطبہ کا بیان (آٹھویں تاریخ سے پہلے)
حدیث نمبر: 1953
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ: هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ، بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنْ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ، فَإِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: لَا، بَلْ رَسُولٌ، "أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٌ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ". فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا. ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا. ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ، وَعَنْ نَحْرِهِمْ، وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جعرانہ کے عمرے سے واپس لوٹے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (لوگوں کا سردار بنا کر) حج پر مقرر کیا، ہم لوگ ان کے ساتھ آئے یہاں تک کہ جب مقام عرج میں پہنچے تو صبح کی اذان ہو گئی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی تکبیر کہنے کو کھڑے ہوئے اتنے میں پیچھے اونٹ کی آواز سنی تو توقف کیا اور کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعاء کی آواز ہے، شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج کے لئے آنا اچھا لگا ہو اور آپ ہی تشریف لے آئے ہوں تو ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھیں، اتنے میں اس اونٹنی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا امیر ہو کر آئے ہو یا پیغام لے کر؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دے کر حج میں سورہ براءت سنانے کو بھیجا ہے، پھر ہم یوم الترویہ سے ایک دن پہلے (سات ذوالحجہ) کو مکہ پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، لوگوں کو مناسک حج بتلائے، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سورہ براءت آخر تک پڑھ کر سنائی، پھر قربانی کے دن دس تاریخ کو جب ہم منیٰ (عرفات سے) واپس آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے تو انہوں نے پھر خطبہ دیا، واپس لوٹنے اور قربانی کے احکام بتلائے، پھر جب فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سورہ براءت سنائی یہاں تک کہ اس کو ختم کیا، پھر جب کوچ کرنے کا پہلا دن (بارہ ذوالحجہ) ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بتلایا کہ کس طرح کوچ کرنا چاہیے، کس طرح رمی کرنی چاہیے اور سب ارکان بتلائے، جب اپنی تقریر کر چکے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو سوره براءت سنائی یہاں تک کہ اس کو ختم کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1957] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 2993] ، [مسند ابي يعلی 76] ، [ابن حبان 3820] ، [الحميدي 1470] ، [البيهقي 111/5]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 2993] ، [مسند ابي يعلی 76] ، [ابن حبان 3820] ، [الحميدي 1470] ، [البيهقي 111/5]
وضاحت: (تشریح حدیث 1952)
یہ واقعہ حجۃ الوداع سے پہلے کا ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلے امیرِ حج بنا کر بھیجا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عہد ختم کرنے کے لئے کوئی قریبی رشتے دار ہونا چاہیے کیونکہ عرب ایسے امور میں اقارب ہی کی بات قبول کرتے ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی دے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے روانہ کیا کہ سورۂ براءت (سورۃ التوبہ) کفارِ قریش اور اہلِ مکہ کو پڑھ کر سنا دیں جس میں ان کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی اب عہد ختم کرنے کا اعلان ہے۔
مذکورہ بالا حدیث سے خلیفۂ اوّل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوئی اور خطبہ عرفات سے پہلے خطبہ دینا بھی ثابت ہوا۔
واللہ اعلم۔
یہ واقعہ حجۃ الوداع سے پہلے کا ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلے امیرِ حج بنا کر بھیجا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عہد ختم کرنے کے لئے کوئی قریبی رشتے دار ہونا چاہیے کیونکہ عرب ایسے امور میں اقارب ہی کی بات قبول کرتے ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی دے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے روانہ کیا کہ سورۂ براءت (سورۃ التوبہ) کفارِ قریش اور اہلِ مکہ کو پڑھ کر سنا دیں جس میں ان کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی اب عہد ختم کرنے کا اعلان ہے۔
مذکورہ بالا حدیث سے خلیفۂ اوّل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوئی اور خطبہ عرفات سے پہلے خطبہ دینا بھی ثابت ہوا۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
72. باب في الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ:
قربانی کے دن خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1954
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ، قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ لَا أَدْرِي جَمَلٌ أَوْ نَاقَةٌ، وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ:"أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"قَالَ: فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:"أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟"قُلْنَا: بَلَى. قَالَ:"فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"قَالَ: فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:"أَلَيْسَ ذُو الْحِجَّةِ؟". قُلْنَا: بَلَى. قَالَ:"فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟". قَالَ: فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:"أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟". قُلْنَا: بَلَى. قَالَ:"فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى مِنْهُ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب قربانی کے دن منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر بیٹھے، یاد نہیں کہ اونٹ کہا یا اونٹنی، اور ایک صحابی نے اس کی نکیل تھامی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کون سا دن ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم خاموش رہے، گمان تھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے، فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ کہا: ہم خاموش رہے، گمان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے کا دوسرا نام بتائیں گے، فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں ذوالحجہ ہے، فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم چپ رہے اور گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا نام بتائیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟“ عرض کیا: کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو تمہارے اوپر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور شہر میں ہے، یہاں موجود شخص غائب (غیر موجود) تک یہ پیغام پہنچا دے، ممکن ہے کہ یہاں موجود شخص ایسے شخص تک یہ پیغام پہنچائے جو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1958] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 67، 1741] ، [مسلم 1679] ، [ترمذي 1520] ، [نسائي 4401] ، [ابن ماجه 233] ، [أبويعلی 2112] ، [ابن حبان 3848]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 67، 1741] ، [مسلم 1679] ، [ترمذي 1520] ، [نسائي 4401] ، [ابن ماجه 233] ، [أبويعلی 2112] ، [ابن حبان 3848]
وضاحت: (تشریح حدیث 1953)
یہ خطبہ عرفہ کا خطبہ ہے جو نماز سے پہلے ہے، اور منیٰ کا خطبہ اس کے بعد والا ہے جو دسویں تاریخ کو دیا تھا، اس خطبہ میں مکۃ المکرمہ کی حرمت، ماہِ ذوالحجہ کی حرمت اور عیدِ قرباں کی عظمت بیان کی گئی ہے، اور مومنین کی، ان کے مال و عزت کی حرمت بھی عظمت و منزلت میں انہیں ایام و شہور کی طرح ہے۔
جس طرح ایک مومن بلد حرام کی تعظیم کرتا ہے اس کو اسی طرح دوسرے مومن بھائیوں کی عزت و تعظیم کرنی چاہیے۔
یہ خطبہ عرفہ کا خطبہ ہے جو نماز سے پہلے ہے، اور منیٰ کا خطبہ اس کے بعد والا ہے جو دسویں تاریخ کو دیا تھا، اس خطبہ میں مکۃ المکرمہ کی حرمت، ماہِ ذوالحجہ کی حرمت اور عیدِ قرباں کی عظمت بیان کی گئی ہے، اور مومنین کی، ان کے مال و عزت کی حرمت بھی عظمت و منزلت میں انہیں ایام و شہور کی طرح ہے۔
جس طرح ایک مومن بلد حرام کی تعظیم کرتا ہے اس کو اسی طرح دوسرے مومن بھائیوں کی عزت و تعظیم کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
73. باب الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الزِّيَارَةِ:
طوافِ افاضہ (یا زیارۃ) کے بعد عورت کو حیض آ جائے
حدیث نمبر: 1955
أَخْبَرَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ، قَالَتْ: أَيْ حَلْقَى، أَيْ عَقْرَى! بِلُغَةٍ لَهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَسْتِ قَدْ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟"قَالَتْ: بَلَى. قَالَ:"فَارْكَبِي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا، جب کوچ کرنے کا دن آیا تو انہوں نے اپنی زبان میں کہا: یہ کیسی بدبختی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا؟“ عرض کیا: جی ہاں (طواف زیاره کر لیا تھا)، فرمایا: ”پھر چلو سوار ہو جاؤ۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1959] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 328، 1757] ، [مسلم 128، 1211] ، [ابن ماجه 3072] ، [أبويعلی 452] ، [الحميدي 203]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 328، 1757] ، [مسلم 128، 1211] ، [ابن ماجه 3072] ، [أبويعلی 452] ، [الحميدي 203]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1956
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے ہی مروی ہے۔ ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1960] »
تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1954 سے 1956)
عقری کے معنی زخمی، یا حلق کی چوٹ، یا اپنی قوم کو تباہ کرنے والی یا زخمی کرنے والی کے ہیں، یا بانجھ جس کے اولاد نہ ہو۔
اور حلقی یعنی سر منڈھی ہوئی۔
یہ دونوں لفظ یہودیوں کی زبان میں عورت سے خفگی کے وقت بولے جاتے ہیں۔
اس روایت میں ہے کہ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لئے خود یہ الفاظ استعمال کئے لیکن صحیحین اور دوسری روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھتے ہوئے خفگی کے طور پر یہ الفاظ کہے تھے کہ یہ ہمیں کوچ کرنے سے روک دیں گی۔
کیونکہ حاجی طوافِ افاضہ سے پہلے کوچ نہیں کر سکتا، لیکن جب محسنِ انسانیت حبیبِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا کہ وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں اور طوافِ وداع باقی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طوافِ زیارہ کر چکی ہیں تو کوچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ اگر طوافِ وداع نہ کر سکے تو کوئی حرج نہیں، وہ سفر کر سکتی ہے اور اس کا حج صحیح و کامل ہے۔
عقری کے معنی زخمی، یا حلق کی چوٹ، یا اپنی قوم کو تباہ کرنے والی یا زخمی کرنے والی کے ہیں، یا بانجھ جس کے اولاد نہ ہو۔
اور حلقی یعنی سر منڈھی ہوئی۔
یہ دونوں لفظ یہودیوں کی زبان میں عورت سے خفگی کے وقت بولے جاتے ہیں۔
اس روایت میں ہے کہ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لئے خود یہ الفاظ استعمال کئے لیکن صحیحین اور دوسری روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھتے ہوئے خفگی کے طور پر یہ الفاظ کہے تھے کہ یہ ہمیں کوچ کرنے سے روک دیں گی۔
کیونکہ حاجی طوافِ افاضہ سے پہلے کوچ نہیں کر سکتا، لیکن جب محسنِ انسانیت حبیبِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا کہ وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں اور طوافِ وداع باقی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طوافِ زیارہ کر چکی ہیں تو کوچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ اگر طوافِ وداع نہ کر سکے تو کوئی حرج نہیں، وہ سفر کر سکتی ہے اور اس کا حج صحیح و کامل ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
74. باب لاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ:
برہنہ آدمی خانہ کعبہ کا طواف نہ کرے
حدیث نمبر: 1957
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا: بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ؟. قَالَ:"بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَكَافِرٌ فِي الْحَجِّ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ، فَهِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ. يَقُولُ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ أَجَلُهُمْ عِشْرِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَاقْتُلُوهُمْ بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ".
زید بن یثیع نے کہا: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پیغام لے کر بھیجا تھا؟ فرمایا: مجھے چار چیزیں دے کر بھیجا گیا۔ ایک یہ کہ جنت میں صرف ایمان والا نفس داخل ہو گا، دوسرے یہ کہ کوئی بھی ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے، تیسرے یہ کہ اس سال کے بعد حج میں کافر اور مسلمان جمع نہ ہوں گے، چوتھے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جس کے بیچ ایک وقت مقررہ تک صلح ہے تو اس کی صلح اسی مدت تک رہے گی، اور جس کی صلح میں کوئی مدت مقرر نہیں اس کو چار مہینے تک مہلت ہے، وہ کہتے ہیں کہ قربانی کے دن کے بعد انہیں بیس ذوالحجہ تک کی مہلت ہے اس کے بعد حکم تھا کہ چار مہینے کے بعد ان کو قتل کر ڈالو۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 1961] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 871] ، [أبويعلی 452] ، [الحميدي 48]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 871] ، [أبويعلی 452] ، [الحميدي 48]
وضاحت: (تشریح حدیث 1956)
اس حدیث میں مومن مسلمان مرد و عورت کے لئے جنّت کی بشارت ہے اور برہنہ طواف کرنے کی ممانعت، یہ پیشین گوئی کہ اس سال کے بعد مسلمان اور کافر حج نہ کریں گے جو آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و رسالت پر دلالت کرتی ہے۔
کفارِ مکہ اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ تھا، ان مشرکین کی ریشہ دوانیوں اور بدعہدی کے ساتھ اس معاہدے کی مدت بڑھائی نہ گئی اور فتح مکہ کے بعد کفار و مشرکین کو مکہ سے نکل جانے یا مسلمان ہو جانے کا حکم ہوا، چنانچہ تقریباً تمام اہلِ مکہ مسلمان ہو گئے تھے۔
اس حدیث میں مومن مسلمان مرد و عورت کے لئے جنّت کی بشارت ہے اور برہنہ طواف کرنے کی ممانعت، یہ پیشین گوئی کہ اس سال کے بعد مسلمان اور کافر حج نہ کریں گے جو آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و رسالت پر دلالت کرتی ہے۔
کفارِ مکہ اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ تھا، ان مشرکین کی ریشہ دوانیوں اور بدعہدی کے ساتھ اس معاہدے کی مدت بڑھائی نہ گئی اور فتح مکہ کے بعد کفار و مشرکین کو مکہ سے نکل جانے یا مسلمان ہو جانے کا حکم ہوا، چنانچہ تقریباً تمام اہلِ مکہ مسلمان ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: لم يحكم عليه المحقق
75. باب إِذَا وَدَّعَ الْبَيْتَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ:
خانہ کعبہ سے رخصت ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو نہ اٹھائے
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُهَاجِرًا يَقُولُ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي عِنْدَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:"إِنَّمَا كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ الْيَهُودُ، حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَصَنَعْنَا ذَلِكَ؟".
مہاجر نے کہا: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کعبہ کے پاس ہاتھ اٹھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہودی ایسا کیا کرتے تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو ایسا نہیں کیا (یعنی ہاتھ نہیں اٹھائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1962] »
حوالہ کے لئے دیکھئے: [ترمذي 855] ، [أبوداؤد 1870] ، [نسائي 122] ، [معالم السنن: باب ترك رفع اليدين عند رؤية البيت 191/2] ، [معرفة السنن والآثار للبيهقي 200/7] ، [نيل الأوطار 108/5-109]
حوالہ کے لئے دیکھئے: [ترمذي 855] ، [أبوداؤد 1870] ، [نسائي 122] ، [معالم السنن: باب ترك رفع اليدين عند رؤية البيت 191/2] ، [معرفة السنن والآثار للبيهقي 200/7] ، [نيل الأوطار 108/5-109]
وضاحت: (تشریح حدیث 1957)
اس حدیث کی سند میں کلام ہے اور متن میں بھی اختلاف ہے، کسی میں «فما صنعنا ذلك» ہے جیسا کہ مذکورہ روایت ہے، بعض روایات میں ہے «أفصنعنا ذلك» یعنی صیغہ استفہامِ انکاری کے ساتھ، اور ترمذی وغیرہ میں ہے «فكنا نفعله» یعنی ہم ہاتھ اٹھاتے تھے، اسی وجہ سے کعبہ کے پاس ہاتھ اٹھانا مختلف فیہ مسئلہ ہے اور علمائے کرام کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں جن کا خلاصہ اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ خانۂ کعبہ کے پاس دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن وداع ہوتے وقت ہاتھ کی ہتھیلیاں کعبہ کی طرف کرنا، ہاتھ اٹھانا، یا الٹے پاؤں لوٹنا جیسا کہ بعض حجاج کرتے ہیں، یہ سب درست نہیں، بلکہ خلافِ سنّتِ سید الرسل ہے، اس لئے وداع کے وقت ایسا نہ کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث کی سند میں کلام ہے اور متن میں بھی اختلاف ہے، کسی میں «فما صنعنا ذلك» ہے جیسا کہ مذکورہ روایت ہے، بعض روایات میں ہے «أفصنعنا ذلك» یعنی صیغہ استفہامِ انکاری کے ساتھ، اور ترمذی وغیرہ میں ہے «فكنا نفعله» یعنی ہم ہاتھ اٹھاتے تھے، اسی وجہ سے کعبہ کے پاس ہاتھ اٹھانا مختلف فیہ مسئلہ ہے اور علمائے کرام کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں جن کا خلاصہ اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ خانۂ کعبہ کے پاس دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن وداع ہوتے وقت ہاتھ کی ہتھیلیاں کعبہ کی طرف کرنا، ہاتھ اٹھانا، یا الٹے پاؤں لوٹنا جیسا کہ بعض حجاج کرتے ہیں، یہ سب درست نہیں، بلکہ خلافِ سنّتِ سید الرسل ہے، اس لئے وداع کے وقت ایسا نہ کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
76. باب في حُرْمَةِ الْمُسْلِمِ:
مسلمان کی حرمت و تعظیم کا بیان
حدیث نمبر: 1959
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اسْتَنْصَتَ النَّاسَ"، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، ثُمَّ قَالَ: "لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
سیدنا جریر بن عبدالله البجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں (ان سے) فرمایا: ”لوگوں کو خاموش کرو۔“ (تاکہ وہ غور سے سنیں)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد (پھر) کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1963] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 121] ، [مسلم 65] ، [نسائي 4142] ، [ابن ماجه 3942] ، [ابن حبان 5940] ، [ابوعوانه 25/1] ، [البغوي فى شرح السنة 2550]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 121] ، [مسلم 65] ، [نسائي 4142] ، [ابن ماجه 3942] ، [ابن حبان 5940] ، [ابوعوانه 25/1] ، [البغوي فى شرح السنة 2550]
وضاحت: (تشریح حدیث 1958)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپس میں قتال و خون ریزی مسلمانوں کا نہیں کافروں کا شیوہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کی، مگر افسوس کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند سال بعد ہی فتنہ و فساد شروع ہو گئے جو آج تک مسلمانوں میں جاری ہیں، ایک فریق دوسرے فریق کے ساتھ خون کی ہولی کھیلتا ہے اور ناحق خونِ مسلم سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه من ذٰلك)» ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپس میں قتال و خون ریزی مسلمانوں کا نہیں کافروں کا شیوہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کی، مگر افسوس کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند سال بعد ہی فتنہ و فساد شروع ہو گئے جو آج تک مسلمانوں میں جاری ہیں، ایک فریق دوسرے فریق کے ساتھ خون کی ہولی کھیلتا ہے اور ناحق خونِ مسلم سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه من ذٰلك)» ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
77. باب في السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ:
صفا و مروہ کے درمیان سعی کا بیان
حدیث نمبر: 1960
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: "سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يُصِيبَهُ أَحَدٌ بِحَجَرٍ أَوْ بِرَمْيَةٍ".
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور ہم اہل مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے، مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی پتھر یا تیر آ کر نہ لگ جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1964] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1791] ، [ابن حبان 3843] ، [الحميدي 738]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1791] ، [ابن حبان 3843] ، [الحميدي 738]
وضاحت: (تشریح حدیث 1959)
اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جاں نثاری و محبت معلوم ہوئی، نیز یہ کہ امراء اور سلاطین کے لئے پہرے داری جائز ہے۔
اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جاں نثاری و محبت معلوم ہوئی، نیز یہ کہ امراء اور سلاطین کے لئے پہرے داری جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
78. باب في الْقِرَانِ:
حج قران کا بیان
حدیث نمبر: 1961
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ، "أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا". فَقَالَ: تَرَانِي أَنْهَى عَنْهُ وَتَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ.
مروان بن الحکم سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا علی و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کو مکہ و مدینہ کے درمیان دیکھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے روکتے تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے حج قران کا احرام باندھ لیا اور «لبيك بحجة و عمرة» کہا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دیکھتے ہو کہ میں اس سے منع کر رہا ہوں پھر بھی تم ویسا ہی کرتے ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سے کسی کے کہنے سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تو نہیں چھوڑ سکتا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1965] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1089، 1563] ، [مسلم 690] ، [أبويعلی 2794] ، [نسائي 2727] ، [ابن حبان 3930] ، [الحميدي 1249]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1089، 1563] ، [مسلم 690] ، [أبويعلی 2794] ، [نسائي 2727] ، [ابن حبان 3930] ، [الحميدي 1249]
وضاحت: (تشریح حدیث 1960)
یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ دونوں خلیفۃ المسلمین میں بحث تو تمتع کے بارے میں تھی پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قران کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ قران اور تمتع دونوں میں نیّت حج اور عمرے کی ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح تمتع کو خلافِ اولی سمجھتے تھے یہ ان کا اجتہاد تھا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [البقرة: 196] »
سیدنا عثمان و سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے اس مباحثے میں بہت سے فوائد ہیں، کچھ یہاں عرض کئے جاتے ہیں: اس مباحثے سے معلوم ہوا کہ جس کسی کے پاس علم ہو اس کی اشاعت کرنا، اور اہلِ اسلام کی خیر خواہی کے لئے امرِ حق کا اظہار کرنا، یہاں تک کہ اگر مسلمان حاکموں سے مناظرے تک کی نوبت پہنچ جائے تو یہ بھی کر ڈالنا، اور کسی امرِ حق کا محض بیان ہی نہ کرنا بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھلا دینا، اور نص سے کسی مسئلہ کا استنباط کرنا، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ چیز مخفی نہ تھی کہ حج تمتع اور قران بھی جائز ہیں مگر انہوں نے افضل پر عمل کرنے کے خیال سے تمتع سے منع فرمایا، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی واقع ہوا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اس پر محمول کیا کہ عوام الناس کہیں اس نہی کو تحریم پر محمول نہ کر بیٹھیں، اس لئے انہوں نے اس کے جواز کا اظہار فرمایا بلکہ عمل بھی کر کے دکھلا دیا، اس پر دونوں کو ہی اجتہاد کا اجر و ثواب ملے گا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فروعی اختلافات پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا درست نہیں، اس کی بہت سی مثالیں سلف صالحین سے مذکور ہیں (راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
اللہ تعالیٰ سب کو وسعتِ قلبی اور باہمی عزت و احترام کی توفیق بخشے، آمین۔
یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ دونوں خلیفۃ المسلمین میں بحث تو تمتع کے بارے میں تھی پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قران کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ قران اور تمتع دونوں میں نیّت حج اور عمرے کی ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح تمتع کو خلافِ اولی سمجھتے تھے یہ ان کا اجتہاد تھا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [البقرة: 196] »
سیدنا عثمان و سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے اس مباحثے میں بہت سے فوائد ہیں، کچھ یہاں عرض کئے جاتے ہیں: اس مباحثے سے معلوم ہوا کہ جس کسی کے پاس علم ہو اس کی اشاعت کرنا، اور اہلِ اسلام کی خیر خواہی کے لئے امرِ حق کا اظہار کرنا، یہاں تک کہ اگر مسلمان حاکموں سے مناظرے تک کی نوبت پہنچ جائے تو یہ بھی کر ڈالنا، اور کسی امرِ حق کا محض بیان ہی نہ کرنا بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھلا دینا، اور نص سے کسی مسئلہ کا استنباط کرنا، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ چیز مخفی نہ تھی کہ حج تمتع اور قران بھی جائز ہیں مگر انہوں نے افضل پر عمل کرنے کے خیال سے تمتع سے منع فرمایا، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی واقع ہوا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اس پر محمول کیا کہ عوام الناس کہیں اس نہی کو تحریم پر محمول نہ کر بیٹھیں، اس لئے انہوں نے اس کے جواز کا اظہار فرمایا بلکہ عمل بھی کر کے دکھلا دیا، اس پر دونوں کو ہی اجتہاد کا اجر و ثواب ملے گا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فروعی اختلافات پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا درست نہیں، اس کی بہت سی مثالیں سلف صالحین سے مذکور ہیں (راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
اللہ تعالیٰ سب کو وسعتِ قلبی اور باہمی عزت و احترام کی توفیق بخشے، آمین۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح