سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب في الْمُحْصَرِ بِعَدُوٍّ:
جو شخص دشمن یا بیماری کے سبب حج سے روک دیا جائے وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ كُسِرَ، أَوْ عُرِجَ، فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى".
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا (یعنی احرام کھول دے) اور اس پر (آئندہ سال) دوسرا حج واجب ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1936] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1862] ، [ترمذي 940] ، [نسائي 2860] ، [ابن ماجه 3077] ، [طبراني 3211، وغيرهم]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1862] ، [ترمذي 940] ، [نسائي 2860] ، [ابن ماجه 3077] ، [طبراني 3211، وغيرهم]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1933
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1937] »
تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1931 سے 1933)
احادیث الباب سے ثابت ہوا کہ احرام باندھنے کے بعد کوئی دشمن یا مرض کی وجہ سے حج یا عمرہ پورا نہ کر سکے وہ احرام کھول دے اور اس کی قضا کرے۔
احادیث الباب سے ثابت ہوا کہ احرام باندھنے کے بعد کوئی دشمن یا مرض کی وجہ سے حج یا عمرہ پورا نہ کر سکے وہ احرام کھول دے اور اس کی قضا کرے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
57. باب في جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ أَيُّ سَاعَةٍ تُرْمَى:
جمرہ عقبہ کی رمی کس وقت کرنی چاہئے؟
حدیث نمبر: 1934
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ: الضُّحَى، وَبَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی قربانی کے دن چاشت کے وقت کی، اس کے بعد جو رمی (کنکری مارنا) کی وہ زوال کے بعد۔ (یعنی 11، 12، 13 ذی الحجہ کو زوال کے بعد کنکری ماری)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله عليه الصلاة والسلام " يوم النفر " اسناده ضعيف لإنقطاعه عبد الله بن أبي بكر لم يسمع أبا البداح وإلى (أبي البداح) اسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1938] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1299/314] ، [أبوداؤد 1971] ، [ترمذي 894] ، [نسائي 3063] ، [ ابن ماجه 3053، وغيرهم]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1299/314] ، [أبوداؤد 1971] ، [ترمذي 894] ، [نسائي 3063] ، [ ابن ماجه 3053، وغيرهم]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إلى قوله عليه الصلاة والسلام " يوم النفر " اسناده ضعيف لإنقطاعه عبد الله بن أبي بكر لم يسمع أبا البداح وإلى (أبي البداح) اسناده صحيح
حدیث نمبر: 1935
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"أَرْخَصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ.
ابوالبداح بن عاصم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ چرانے والوں کو اجازت دی کہ وہ نحر کے دن رمی کر لیں، پھر دوسرے دن یا کل کے بعد ایک ساتھ دو دن کی رمی کر لیں، پھر جس دن منیٰ سے واپسی کا ارادہ ہو اس دن رمی کر لیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض رواة نے عبدالله بن ابی بکر عن ابیہ عن ابی البداح کہا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1939] »
یہ دو اسناد ہیں، پہلی سند ضعیف اور دوسری سند جس کا حوالہ امام دارمی رحمہ اللہ نے دیا ہے صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1975] ، [ترمذي 955] ، [نسائي 3069] ، [ابن ماجه 3027] ، [أبويعلی 6836] ، [ابن حبان 3888] ، [موارد الظمآن 1015] ، [الحميدي 877]
یہ دو اسناد ہیں، پہلی سند ضعیف اور دوسری سند جس کا حوالہ امام دارمی رحمہ اللہ نے دیا ہے صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1975] ، [ترمذي 955] ، [نسائي 3069] ، [ابن ماجه 3027] ، [أبويعلی 6836] ، [ابن حبان 3888] ، [موارد الظمآن 1015] ، [الحميدي 877]
وضاحت: (تشریح احادیث 1933 سے 1935)
اونٹوں کے چرواہے اونٹ چرانے کے لئے منیٰ سے دور چلے جاتے تھے اور ان کو روزانہ منیٰ میں رمی کے لئے آنا دشوار تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تھی کہ دو دن کی رمی آ کر ایک دن میں کر لیں، مثلاً یوم النحر کو کنکری مار کر چلے جائیں پھر 11 کو رمی نہ کریں 12 تاریخ کو آ کر دونوں دن کی رمی کر لیں۔
اونٹوں کے چرواہے اونٹ چرانے کے لئے منیٰ سے دور چلے جاتے تھے اور ان کو روزانہ منیٰ میں رمی کے لئے آنا دشوار تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تھی کہ دو دن کی رمی آ کر ایک دن میں کر لیں، مثلاً یوم النحر کو کنکری مار کر چلے جائیں پھر 11 کو رمی نہ کریں 12 تاریخ کو آ کر دونوں دن کی رمی کر لیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
58. باب في الرَّمْيِ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ:
رمی کے لئے کنکری کے سائز کا بیان
حدیث نمبر: 1936
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ:"أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں ہمیں حکم دیا کہ ہم جمرہ عقبہ کی رمی چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1936]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1940] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزائد 5651] ، [معجم الصحابة لابن قانع ترجمة 636، والأحاديث القادمة]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزائد 5651] ، [معجم الصحابة لابن قانع ترجمة 636، والأحاديث القادمة]
وضاحت: (تشریح حدیث 1935)
«حصى الخذف» ایسی کنکری کو کہتے ہیں جو دو انگلیوں سے باآسانی پھینکی جا سکے، یعنی بڑے چنے کے برابر، تاکہ کسی کو لگ بھی جائے تو تکلیف نہ ہو۔
«حصى الخذف» ایسی کنکری کو کہتے ہیں جو دو انگلیوں سے باآسانی پھینکی جا سکے، یعنی بڑے چنے کے برابر، تاکہ کسی کو لگ بھی جائے تو تکلیف نہ ہو۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1937
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:"أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَقَالَ: عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو حکم فرمایا، پس انہوں نے چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی کی اور وادی محسّر میں رفتار تیز رکھی، اور فرمایا: ”(سکون سے) آہستہ چلو۔“ (یعنی وادی محسّر کے علاوہ)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1941] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1299] ، [ترمذي 797] ، [نسائي 3075] ، [أبويعلی 2108] ، [معرفة السنن والآثار 10110]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1299] ، [ترمذي 797] ، [نسائي 3075] ، [أبويعلی 2108] ، [معرفة السنن والآثار 10110]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1938
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ "نَرْمِيَ الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَهُ صُحْبَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا عبدالرحمٰن بن معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی جمار کا حکم فرماتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا عبدالرحمٰن بن معاذ صحابی ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1942] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1957] ، [نسائي 2996] ، [مسند الحميدي 875] ، [معجم الصحابة لابن قانع رقم الترجمة 626]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1957] ، [نسائي 2996] ، [مسند الحميدي 875] ، [معجم الصحابة لابن قانع رقم الترجمة 626]
وضاحت: (تشریح احادیث 1936 سے 1938)
ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ جمرات پر چھوٹی کنکریوں سے رمی کرنی چاہے، بڑی کنکری، پتھر، جوتے اور چپل وغیرہ پھینکنا خلافِ سنّت بلکہ غلو فی الدین ہے۔
[ابن ماجه 3029] میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! تم دین میں غلو کرنے سے بچنا، تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے۔
“ اس لئے دین کے ہر کام میں غلو کرنا منع ہے، اس سے بچنا چاہئے۔
ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ جمرات پر چھوٹی کنکریوں سے رمی کرنی چاہے، بڑی کنکری، پتھر، جوتے اور چپل وغیرہ پھینکنا خلافِ سنّت بلکہ غلو فی الدین ہے۔
[ابن ماجه 3029] میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! تم دین میں غلو کرنے سے بچنا، تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے۔
“ اس لئے دین کے ہر کام میں غلو کرنا منع ہے، اس سے بچنا چاہئے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
59. باب في رَمْيِ الْجِمَارِ يَرْمِيهَا رَاكِباً:
سواری پر سے رمی جمرات کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَالْمُؤَمَّلُ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ، قَالَ:"رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ثَمَّ ضَرْبٌ، وَلَا طَرْدٌ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ".
سیدنا قدامۃ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ و سفید اونٹنی پر جمرات کو کنکری مارتے دیکھا، جہاں نہ کسی کو مارتے، نہ بھگاتے اور نہ یہ کہتے تھے ہٹو بچو۔ (یعنی بڑے سکون سے رمی کرتے تھے)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1939]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1943] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 903] ، [نسائي 3061] ، [ابن ماجه 3035] ، [الطيالسي 1078] ، [طبراني 77] ، [أحمد 413/3] ۔ اس سند میں ابوعاصم: ضحاک بن مخلد اور ابونعیم: فضل بن وکین ہیں۔
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 903] ، [نسائي 3061] ، [ابن ماجه 3035] ، [الطيالسي 1078] ، [طبراني 77] ، [أحمد 413/3] ۔ اس سند میں ابوعاصم: ضحاک بن مخلد اور ابونعیم: فضل بن وکین ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1940
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمار تک برابر تلبیہ پکارتے رہے۔ (یعنی دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1940]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1944] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1670] ، [مسلم 1281] ، [أبوداؤد 1815] ، [ترمذي 918] ، [نسائي 3055] ، [أبويعلی 7616] ، [ابن حبان 3804] ، [الحميدي 467]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1670] ، [مسلم 1281] ، [أبوداؤد 1815] ، [ترمذي 918] ، [نسائي 3055] ، [أبويعلی 7616] ، [ابن حبان 3804] ، [الحميدي 467]
وضاحت: (تشریح احادیث 1938 سے 1940)
پہلی حدیث سے سواری پر بیٹھ کر کنکری مارنے کا ثبوت ملا، نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری ایسے امیروں اور جاہ و چشم والوں کی طرح نہ تھی کہ لوگوں سے کہا جائے ہٹو، بچو، دور ہو جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آرہی ہے۔
اور دوسری حدیث سے تلبیہ کہنے کا وقت معلوم ہوا جو احرام باندھنے سے لیکر جمرۂ عقبہ کی رمی تک ہے، رمی کے بعد حجاج کرام بھی صرف تکبیرات ہی 13 تاریخ کی عصر تک کہتے رہیں گے۔
پہلی حدیث سے سواری پر بیٹھ کر کنکری مارنے کا ثبوت ملا، نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری ایسے امیروں اور جاہ و چشم والوں کی طرح نہ تھی کہ لوگوں سے کہا جائے ہٹو، بچو، دور ہو جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آرہی ہے۔
اور دوسری حدیث سے تلبیہ کہنے کا وقت معلوم ہوا جو احرام باندھنے سے لیکر جمرۂ عقبہ کی رمی تک ہے، رمی کے بعد حجاج کرام بھی صرف تکبیرات ہی 13 تاریخ کی عصر تک کہتے رہیں گے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
60. باب الرَّمْيِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَالتَّكْبِيرِ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ:
وادی کے بیچ سے رمی کر نے اور ہر کنکری کے پھینکتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1941
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًى، يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ مِنْ ذَاتِ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِي رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا". قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ کی رمی کرتے، جو مسجد منیٰ کے قریب ہے، تو آپ سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت تکبیر کہتے تھے، پھر تھوڑا آگے بڑھتے اور نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرتے رہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمرہ پر آتے (یعنی جمرہ وسطیٰ) اور اس پر بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے تھے، پھر بائیں جانب نشیب کی طرف آتے اور وہاں بھی قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے اور یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد واپس ہو جاتے اور یہاں آپ دعا کے لئے نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا جو اس حدیث کو اپنے والد سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نیز فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1945] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1753] ، [نسائي 3083] ، [ابن ماجه 3032] ، [أبويعلی 5577] ، [ابن حبان 3887] ، [موارد الظمآن 1014]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1753] ، [نسائي 3083] ، [ابن ماجه 3032] ، [أبويعلی 5577] ، [ابن حبان 3887] ، [موارد الظمآن 1014]
وضاحت: (تشریح حدیث 1940)
مذکورہ بالا حدیث میں رمی کا ذکر گیارہویں تاریخ کا ہے جس میں سب سے پہلے رمی جمرہ کی ہے جو جمره مسجدِ خیف سے قریب پڑتا ہے، جمرہ سے دور ہٹ کر کھڑے ہو کر دعا کرنا سنّت ہے، اسی طرح جمرۂ وسطیٰ سے دور ہٹ کر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرنا سنّتِ نبوی ہے، اور آخری جمرے پر کنکری مار کر کھڑے رہنا یا دعا مانگنا ثابت و صحیح نہیں۔
تمام اعمال کی قبولیت کی شرط یہ ہے کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق ہو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کیا کرتے تھے جیسا کہ حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا تھا اور وہ اتنی دیر تک دعا کرتے تھے جتنی دیر میں سورۂ بقرۃ ختم کی جاتی ہے۔
نیز ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہنا بھی اس حدیث سے ثابت ہوا جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اور شیطان و اس کی ذریت کو ذلیل و خوار کرنے کے مرادف ہے۔
مذکورہ بالا حدیث میں رمی کا ذکر گیارہویں تاریخ کا ہے جس میں سب سے پہلے رمی جمرہ کی ہے جو جمره مسجدِ خیف سے قریب پڑتا ہے، جمرہ سے دور ہٹ کر کھڑے ہو کر دعا کرنا سنّت ہے، اسی طرح جمرۂ وسطیٰ سے دور ہٹ کر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرنا سنّتِ نبوی ہے، اور آخری جمرے پر کنکری مار کر کھڑے رہنا یا دعا مانگنا ثابت و صحیح نہیں۔
تمام اعمال کی قبولیت کی شرط یہ ہے کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق ہو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کیا کرتے تھے جیسا کہ حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا تھا اور وہ اتنی دیر تک دعا کرتے تھے جتنی دیر میں سورۂ بقرۃ ختم کی جاتی ہے۔
نیز ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہنا بھی اس حدیث سے ثابت ہوا جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اور شیطان و اس کی ذریت کو ذلیل و خوار کرنے کے مرادف ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح