🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ في الْجَدِّ:
دادا کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَعَلَهُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ جَعَلَهُ أَبًا، يَعْنِي: الْجَدَّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ”اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو ان کو ہی (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو) خلیل بناتا، لیکن اسلامی اخوت (بھائی ہونا) زیادہ افضل ہے۔“ انہوں نے کہا داد باپ کی طرح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2953] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6738] ، [أبويعلی 2584] ، [ابن منصور 48] ، [الحاكم 339/4] ، [المحلی لابن حزم 287/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2945
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْر: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ "جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادا کو باپ کا درجہ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2945]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2954] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3658] ، [أبويعلی 6805] ، [ابن منصور 47] ، [ابن أبى شيبه 11252] ، [عبدالرزاق 19049] ، [البيهقي 246/6]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2946
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: إِنَّ الْجَدَّ قَدْ مَضَتْ سُنَّتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ "جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا"، وَلَكِنَّ النَّاسَ تَحَيَّرُوا.
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: دادا کے بارے میں سنت گذر چکی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادا کو باپ کا درجہ دیا، لیکن (آج) لوگوں نے اور رائے اختیار کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2946]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 2955] »
اس اثر کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 54] ، اس میں ہے کہ اگر زمامِ حکومت میرے ہاتھ میں ہوتی تو میں دادا کو باپ کا درجہ دیتا۔ اور اس کی سند صحیح ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2937 سے 2946)
ان تمام آثار اور صحابہ و تابعین رحمہم اللہ کی شہادت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ جب میت کا باپ زندہ نہ ہو تو باپ کا حصہ دادا کی طرف لوٹ جاۓ گا، یعنی باپ کی جگہ دادا وارث ہوگا۔
آگے اور تفصیل آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب قَوْلِ عُمَرَ في الْجَدِّ:
دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ.
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اسلام میں سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے دادا کی حیثیت سے میراث لی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 2956] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 19041]
وضاحت: (تشریح حدیث 2946)
اس کا مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر باقاعدہ دادا کی حیثیت سے میراث سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لی۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد إلى الشعبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "أَوَّلُ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَر، فَأَخَذَ مَالَهُ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، فَقَالَا: لَيْسَ لَكَ ذَاكَ، إِنَّمَا أَنْتَ كَأَحَدِ الْأَخَوَيْنِ".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اسلام میں پہلے دادا جو وارث ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے اپنا حصہ لے لیا تو سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور کہا کہ ایسے نہیں، آپ بھی دو بھائیوں کی طرح ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 2957] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11277] ، [البيهقي 247/6] ، تفصیل کے لئے [فتح الباري 20/12]
وضاحت: (تشریح حدیث 2947)
اگر کوئی میت دادا اور بھائی چھوڑ جائے تو سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کے نزدیک دادا کو ثلث، باقی ثلثين بھائیوں کے لئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سدس دادا کو باقی پانچ اسداس بھائیوں کے لئے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الشعبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى الْخياط، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ "يُقَاسِمُ بِالْجَدِّ مَعَ الْأَخِ وَالْأَخَوَيْنِ، فَإِذَا زَادُوا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ يُعْطِيهِ مَعَ الْوَلَدِ السُّدُسَ.
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دادا کو ایک یا دو بھائی کے ساتھ تقسیم میں شریک کرتے تھے، اگر بھائی زیادہ ہوتے تو دادا کو ثلث دیتے اور اولاد کے ساتھ سدس دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2949]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في اسناده عيسى بن أبي عيسى: ميسرة وهو متروك وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 2958] »
اس اثر کی سند میں عیسیٰ بن ابی عیسیٰ: میسرہ، متروک ہیں لیکن دوسری صحیح سند سے بھی یہ اثر مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11265] ، [ابن منصور 59] ، [البيهقي 249/2] ، [المحلی 284/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: في اسناده عيسى بن أبي عيسى: ميسرة وهو متروك وباقي رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ، اسْتَشَارَهُمْ فِي الْجَدِّ، فَقَالَ: "إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ فِي الْجَدِّ رَأْيًا، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تَتَّبِعُوهُ، فَاتَّبِعُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: إِنْ نَتَّبِعْ رَأْيَكَ فَإِنَّهُ رَشَدٌ، وَإِنْ نَتَّبِعْ رَأْيَ الشَّيْخِ، فَنِعْمَ ذُو الرَّأْيِ كَانَ.
مروان بن الحکم سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب نیزے سے زخمی ہوئے تو دادا کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا اور کہا کہ دادا کے بارے میں میری ایک رائے تھی، اگر تم چاہو تو پیروی کرنا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم آپ کی رائے کی پیروی کریں تو یہ راہِ ہدایت ہے اور اگر شیخ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی رائے مانیں تو وہ بھی بہت اچھی رائے والے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2959] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19051، 19052] ، [الحاكم 340/4] ، [البيهقي 246/6] ، [المحلی 283/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب قَوْلِ عَلِيٍّ في الْجَدِّ:
دادا کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2951
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيّ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ: إِنِّي أُتِيتُ بِجَدٍّ وَسِتَّةِ إِخْوَةٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ: "أَنْ أَعْطِ الْجَدَّ سُدسا، وَلَا تُعْطِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب بصرہ میں تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھ سے دادا اور چھ بھائیوں کا مسئلہ پوچھا گیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ دادا کو سدس (چھٹاحصہ) دیدو اور اس کے بعد کسی کو نہ دینا۔
(یعنی سدس دادا کے لئے باقی خمسہ اسداس بھائیوں کے لئے ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2951]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد والشيباني. هو: أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 2960] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ شیبانی کا نام ابواسحاق سلیمان بن ابی سلیمان ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11269] ، [البيهقي 249/6] ، [المحلی 284/9] ، [فتح الباري 21/12] ۔ بیہقی کی سند میں قیس بن الربيع ضعیف ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد والشيباني. هو: أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، قَالَ: "أَعْطِ الْجَدَّ السُّدُسَ. قَالَ أَبُو مُحَمَّد: كَأَنَّهُ يَعْنِي: عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الشَّعْبِيُّ يَرْوِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ.
شعبی رحمہ اللہ سے چھ بھائی اور دادا کی میراث کے بارے میں مروی ہے کہ دادا کو سدس (چھٹا حصہ) دو۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی شعبی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کو روایت کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2952]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 2961] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11268]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الشعبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ: أَنَّ عَلِيًّا كَانَ "يَجْعَلُ الْجَدَّ أَخًا مَتَى يَكُونَ سَادِسًا.
عبداللہ بن سلمہ (المرادی) سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائی کا درج دیتے تھے جب کہ وہ چھٹے شخص ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2962] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11267] ، [البيهقي 249/6] ، [ابن حزم فى المحلی 284/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں