سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ في الْجَدَّاتِ:
سیدنا علی و سیدنا زید رضی اللہ عنہما کا قول جدات کے بارے میں
حدیث نمبر: 2974
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدٍ:"أَنَّهُمَا كَانَا لا يُوَرِّثَانِ الْجِدَّةَ أُمَّ الأَبِ مَعَ الأَبِ". [إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ «كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْجَدَّةَ وَابْنُهَا حَيٌّ» [إسناده صحيح إلى الزهري]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ «كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْجَدَّةَ وَابْنُهَا حَيٌّ» [إسناده صحيح إلى الزهري]
(ابن شہاب) زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دادی کو اس کے بیٹے کی موجودگی میں وراثت کا حصہ نہ دیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2974]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 2983، 2984] »
اس اثر کی سند امام زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11358] ، [عبدالرزاق 19091] ، [البيهقي 225/6-226]
اس اثر کی سند امام زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11358] ، [عبدالرزاق 19091] ، [البيهقي 225/6-226]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار
21. باب قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ في الْجَدَّاتِ:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول جدات کے بارے میں
حدیث نمبر: 2975
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "إِنَّ الْجَدَّاتِ لَيْسَ لَهُنَّ مِيرَاثٌ، إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أُطْعِمْنَهَا، وَالْجَدَّاتُ أَقْرَبُهُنَّ وَأَبْعَدُهُنَّ سَوَاءٌ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جدات کے لئے میراث نہیں ہے، یہ ان کے لئے عطیہ ہے، چاہے وہ جدات قریبی ہوں یا دور کے رشتے کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2975]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: ضعف أشعث بن سوار والانقطاع، [مكتبه الشامله نمبر: 2985] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، اور اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 326/11، 11337] و [عبدالرزاق 19089] و [المحلی 277/9]
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، اور اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 326/11، 11337] و [عبدالرزاق 19089] و [المحلی 277/9]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده فيه علتان: ضعف أشعث بن سوار والانقطاع
حدیث نمبر: 2976
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "تَرِثُ الْجَدَّةُ وَابْنُهَا حَيٌّ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹے کی موجودگی میں جدہ وارث ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2976]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه إبراهيم لم يدرك ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2986] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، اس لئے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 98، 109] ، [ابن أبى شيبه 331/11، 11348] و [البيهقي 226/6]
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، اس لئے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 98، 109] ، [ابن أبى شيبه 331/11، 11348] و [البيهقي 226/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه إبراهيم لم يدرك ابن مسعود
22. باب قَوْلِ مَسْرُوقٍ في الْجَدَّاتِ:
جدات کے بارے میں مسروق رحمہ اللہ کی رائے
حدیث نمبر: 2977
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:"جِئْنَ أَرْبَعُ جَدَّاتٍ يَتَسَاوَقْنَ إِلَى مَسْرُوقٍ، فَأَلْغَى أَمَّ أَبِ الْأَبِ، وَوَرَّثَ ثَلَاثًا: جَدَّتَيْ أَبِيهِ: أُمَّ أُمِّهِ، وَأُمَّ أَبِيهِ، وَجَدَّةَ أُمِّهِ".
شعبی نے کہا: مسروق رحمہ اللہ کے پاس چار جدات قطار لگا کر آ ئیں، ان میں سے دادا کی ماں کو تو انہوں نے نکال دیا (یعنی پردادی کو) باقی تین کو وارث قرار دیا، دو باپ کی دادیاں یعنی ماں کی ماں (نانی) اور باپ کی ماں (دادی) اور اس کی ماں کی دادی (پڑنانی)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2977]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 2987] »
اس اثر کی سند بھی اشعث کی وجہ سے ضعیف ہے، دوسرے طرق بھی ضعیف ہیں۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11335] ، [عبدالرزاق 19081] ، [ابن منصور 87] ، [ابن حزم فى المحلی 275/2]
اس اثر کی سند بھی اشعث کی وجہ سے ضعیف ہے، دوسرے طرق بھی ضعیف ہیں۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11335] ، [عبدالرزاق 19081] ، [ابن منصور 87] ، [ابن حزم فى المحلی 275/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 2965 سے 2977)
دادی اور نانی کی وراثت کا ذکر گذر چکا ہے، پردادی اور پرنانی کے بارے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلافات ہیں۔
دادی اور نانی کی وراثت کا ذکر گذر چکا ہے، پردادی اور پرنانی کے بارے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلافات ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار
23. باب قَوْلِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ وَزَيْدٍ في الرَّدِّ:
سیدنا علی و سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کی باقی بچے ترکے میں رائے کا بیان
حدیث نمبر: 2978
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي ابْنَةٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، قَالَ: "النِّصْفُ وَالسُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ، فَرَدٌّ عَلَى الْبِنْتِ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور پوتی کے بارے میں کہا: نصف (بیٹی کے لئے) اور چھٹا حصہ (پوتی کے لئے) ہے، باقی جو بچے وہ بیٹی کو لوٹا دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2978]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 2988] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، لیکن بخاری وغیرہ میں صحیح سند سے موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6742] ، لیکن بخاری میں ہے: لڑکی کو آ دھا، پوتی کو چھٹا، باقی جو بچا وہ بہن کیلئے ہے۔ مزید تفصیل و تخریج کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11224] ، [عبدالرزاق 19128] ، [أبويعلی 5108] ، [ابن حبان 6034]
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، لیکن بخاری وغیرہ میں صحیح سند سے موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6742] ، لیکن بخاری میں ہے: لڑکی کو آ دھا، پوتی کو چھٹا، باقی جو بچا وہ بہن کیلئے ہے۔ مزید تفصیل و تخریج کے لئے دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11224] ، [عبدالرزاق 19128] ، [أبويعلی 5108] ، [ابن حبان 6034]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّه:"أَنَّهُ أُتِيَ فِي إِخْوَةٍ لِأُمٍّ، وَأُمٍّ، فَأَعْطَى الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ الثُّلُثَ، وَالْأُمَّ سَائِرَ الْمَالِ، وَقَالَ: الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ".
علقمہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پدری بھائیوں اور ماں کا مسئلہ لایا گیا تو انہوں نے پدری بھائیوں کو ثلث دیا، باقی سارا مال ماں کو دیا اور کہا: جس (میت کے وارث) کا عصبہ نہ ہو ماں اس کی عصبہ میں شمار ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2979]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 2989] »
اس اثر کی سند صحیح موقوف علی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11213] ، [ابن منصور 117]
اس اثر کی سند صحیح موقوف علی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11213] ، [ابن منصور 117]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو موقوف على عبد الله
حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ، لَا يُعْلَمُ لَهُ وَارِثٌ غَيْرُهَا، قَالَ: "لَهَا الْمَالُ كُلُّهُ".
حسن (بن صالح بن مسلم) نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے امام عامر الشعبی رحمہ اللہ سے پوچھا: ایک آدمی فوت ہوا اور اپنی لڑکی کو چھوڑا، اس کے علاوہ کوئی وارث معلوم نہیں؟ کہا: سارا مال بیٹی کا ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2980]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 2990] »
اس اثر کی سند امام شعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11218] ، [عبدالرزاق 19130]
اس اثر کی سند امام شعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11218] ، [عبدالرزاق 19130]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الشعبي
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَرُدُّ عَلَى أَخٍ لِأُمٍّ مَعَ أُمٍّ، وَلا عَلَى جَدَّةٍ، إِذَا كَانَ مَعَهَا غَيْرُهَا مَنْ لَهُ فَرِيضَةٌ، وَلَا عَلَى ابْنَةِ ابْنٍ، مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ، وَلَا عَلَى امْرَأَةٍ وَزَوْج. وَكَانَ عَلِيٌّ "يَرُدُّ عَلَى كُلِّ ذِي سَهْمٍ، إِلَّا الْمَرْأَةَ وَالزَّوْجَ"..
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ماں کے ساتھ پدری بھائی پر بقیہ ترکہ نہیں لوٹاتے تھے، اور نہ جدہ پر بقیہ مال لوٹاتے تھے جب کہ اس کے ساتھ صاحبِ فریضہ موجود ہو، اور نہ پوتی پر ما بقیٰ لوٹاتے تھے جب کہ حقیقی بیٹی موجود ہو، اور نہ بیوی اور شوہر پر لوٹاتے تھے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر صاحبِ سہم پر باقی بچا لوٹا دیتے تھے سوائے بیوی اور شوہر کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 2991] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی یہ اثر موقوفاً مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11220] ، [عبدالرزاق 19128] ، [ابن منصور 112-116] ، [البيهقي 244/6]
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی یہ اثر موقوفاً مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11220] ، [عبدالرزاق 19128] ، [ابن منصور 112-116] ، [البيهقي 244/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 2977 سے 2981)
یہ مسئلہ بقیہ بچے مال کے بارے میں ہے کہ اصحاب القروض کو مال دینے کے بعد جو مال ترکے میں سے بچے وہ کس کو دیا جائے؟ بعض اصحاب السہام کو لوٹا دیتے، اور بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ جو بچے اس کو بیت المال میں دے دینا چاہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کے قائل تھے۔
کما سیأتی۔
یہ مسئلہ بقیہ بچے مال کے بارے میں ہے کہ اصحاب القروض کو مال دینے کے بعد جو مال ترکے میں سے بچے وہ کس کو دیا جائے؟ بعض اصحاب السہام کو لوٹا دیتے، اور بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ جو بچے اس کو بیت المال میں دے دینا چاہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کے قائل تھے۔
کما سیأتی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
حدیث نمبر: 2982
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِت:"أَنَّهُ أُتِيَ فِي ابْنَةٍ، أَوْ أُخْت، فَأَعْطَاهَا النِّصْفَ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ فِي بَيْتِ الْمَالِ وقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ.
خارجہ بن زید نے کہا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹی اور بہن کا قضیہ لایا گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف دے دیا، باقی نصف بیت المال میں جمع کر دیا، اور یہ اثر یزید بن ہارون نے محمد بن سالم سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے خارجہ (بن زید) سے بھی روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 2992] »
محمد بن سالم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19131، 19132] ، [ابن منصور 113، 114] ، [البيهقي 244/6]
محمد بن سالم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 19131، 19132] ، [ابن منصور 113، 114] ، [البيهقي 244/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم
24. باب في ابْنِ الْمُلاَعَنَةِ:
لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 2983
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لعان کے بیٹے کے بارے میں کہا کہ اس کی میراث ماں کے لئے ہوگی۔
یعنی ولد الزنا کی طرح باپ اس کا وارث نہ ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2983]
یعنی ولد الزنا کی طرح باپ اس کا وارث نہ ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 2993] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم رحمہ اللہ و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے۔ ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11368] ، [عبدالرزاق 12479] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم رحمہ اللہ و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے۔ ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11368] ، [عبدالرزاق 12479] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع