صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ}:
باب: اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ) میں فرمایا کہ ”جو لوگ اللہ اور رسول سے جنگ لڑتے اور ملک میں فساد پھیلاتے رہتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پیر الٹے سیدھے یعنی دائیں بائیں سے کاٹے جائیں یا جلا وطن یا قید کئے جائیں“۔
حدیث نمبر: 6802
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَفَعَلُوا، فَصَحُّوا، فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی (ان کے پیٹ پھول گئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6802]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند آدمی آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ طیبہ کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم صدقے کے اونٹوں کے پاس رہائش رکھو اور ان کا پیشاب اور دودھ نوش کرو۔“ انہوں نے (ایسا) کیا تو صحت یاب ہو گئے، لیکن اس کے بعد وہ دین سے برگشتہ ہو گئے اور اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے تو وہ انہیں گرفتار کر کے لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں (مخالف سمت سے) کاٹنے کا حکم دیا، نیز ان کی آنکھیں بھی پھوڑ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زخموں پر داغ نہ دیا حتیٰ کہ وہ سسک سسک کر مر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ لَمْ يَحْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الرِّدَّةِ حَتَّى هَلَكُوا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے (زخموں پر) داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
حدیث نمبر: 6803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ الْعُرَنِيِّينَ، وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا".
ہم سے ابویعلیٰ محمد بن صلت نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے (ہاتھ پاؤں) کٹوا دئیے لیکن ان پر داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6803]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اہلِ عرینہ کے ہاتھ پاؤں (مخالف سمت سے) کاٹنے کا حکم دیا لیکن انہیں داغ نہیں دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6803]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ لَمْ يُسْقَ الْمُرْتَدُّونَ الْمُحَارِبُونَ حَتَّى مَاتُوا:
باب: مرتد لڑنے والوں کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مر جائیں۔
حدیث نمبر: 6804
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي الصُّفَّةِ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْغِنَا رِسْلًا، فَقَالَ:" مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِإِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ، فَأَتَوْهَا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّرِيخُ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ، فَكَحَلَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ، ثُمَّ أُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ، فَمَا سُقُوا حَتَّى مَاتُوا" قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنہ ۶ ھ میں آئے اور یہ لوگ مسجد کے سائبان میں ٹھہرے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے دودھ کہیں سے مہیا کرا دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ تم لوگ ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ آئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو کر موٹے تازے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریادی پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ انہیں پکڑ کر لایا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سلائیاں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کے (زخم سے خون کو روکنے کے لیے) انہیں داغا بھی نہیں گیا۔ اس کے بعد وہ حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) میں ڈال دئیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ اس وجہ سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6804]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”قبیلہ عکل کے چند لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے صفہ میں رہائش رکھی لیکن مدینہ طیبہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہمارے لیے کہیں سے دودھ کا بندوبست کر دیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے یہ انتظام تو مشکل ہے البتہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے پاس جا کر رہو“، چنانچہ وہ اونٹوں کے پاس آئے اور وہاں ان کا دودھ اور پیشاب پینے لگے، پھر صحت مند ہو کر خوب موٹے تازے ہو گئے آخر کار انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے، اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی خبر دینے والا آیا تو آپ نے ان کی تلاش میں چند سواروں کو روانہ کیا۔ ابھی دھوپ زیادہ نہیں پھیلی تھی کہ انہیں گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لوہے کی سلائیاں گرم کی گئیں جنہیں آپ نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، نیز ان کے ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹ دیے اور انہیں داغ بھی نہ دیا، پھر انہیں گرم پتھریلی زمین پر پھینک دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔“ (راویِ حدیث) ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: ”(ان کے ساتھ یہ برتاؤ اس لیے کیا گیا کہ) انہوں نے چوری کی، چرواہے کو قتل کیا اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف مسلح واردات کی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6804]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ سَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ الْمُحَارِبِينَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا۔
حدیث نمبر: 6805
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ عُكْلٍ، قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ" قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: هَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6805]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے چند آدمی مدینہ طیبہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا بندوبست کر دیا اور فرمایا: ”وہ اونٹوں کے گلے میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ نوش کریں“، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے تعاقب میں سوار دوڑائے، ابھی دھوپ زیادہ نہیں پھیلی تھی کہ انہیں گرفتار کر کے لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دینے کا حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائیاں پھیری گئیں، پھر انہیں پتھریلے گرم میدان میں پھینک دیا گیا، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہ پلایا گیا۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: ”وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی، قتل کیا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا، نیز انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف باغیانہ کارروائی کی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6805]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ فَضْلِ مَنْ تَرَكَ الْفَوَاحِشَ:
باب: جس نے فواحش (زناکاری، اغلام بازی وغیرہ) کو چھوڑ دیا اس کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 6806
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6806]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے سائے تلے جگہ دے گا، اس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حکمران؛ وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ہو؛ وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں؛ وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے؛ وہ دو آدمی جو صرف اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں؛ وہ شخص جسے کوئی بلند مرتبہ اور خوبرو عورت اپنی طرف بلائے لیکن وہ کہے: ”میں اللہ سے ڈرتا ہوں“ اور وہ شخص جس نے اس قدر پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چل سکا کہ دائیں ہاتھ نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6806]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ. ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ".
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے خلیفہ بن حیاط نے بیان کیا، ان سے عمر بن علی نے، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی (شرمگاہ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (یعنی زبان) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6807]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان (شرمگاہ) اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (زبان) کی ضمانت دی تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ:
باب: زنا کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6808
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 32
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الفرقان میں) ارشاد فرمایا «ولا يزنون» ”اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے“ اور (سورۃ بنی اسرائیل) میں فرمایا «ولا تقربوا الزنا إنه كان فاحشة وساء سبيلا» ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ کہ وہ بےحیائی کا کام ہے اور اس کا راستہ برا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6808]
حدیث نمبر: 6808
أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ وَإِمَّا قَالَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً، الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ".
ہمیں داؤد بن شبیب نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم کو انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا۔ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک ہی خبر لینے والا مرد رہ جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6808]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور یہ حدیث میرے بعد تمہیں اور کوئی بھی بیان نہیں کرے گا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی—یا فرمایا: قیامت کی علامات میں سے ہے—کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب کا دور دورہ ہوگا، زنا عام ہوگا، مرد کم ہوتے جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہوگی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا انتظام کرنے والا ایک شخص ہوگا۔““ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6808]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الْعَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ"، قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا: وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَإِنْ تَابَ، عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا: وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن یوسف نے خبر دی، کہا ہم کو فضیل بن غزوان نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ ان نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6809]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں رہتا، جب وہ چوری کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں رہتا، جب وہ شراب نوشی کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا اور جب قتلِ ناحق کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا۔“ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”ایمان اس سے کیسے نکال لیا جاتا ہے؟“ انہوں نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر انہیں الگ کیا اور فرمایا: ”اس طرح۔“ پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا: ”اس طرح واپس آجاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6809]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6810
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ذکوان نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6810]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا اور شرابی جب شراب نوشی کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا، پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا رہتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6810]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة