صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ إِثْمِ الزُّنَاةِ:
باب: زنا کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 6811
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ، مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ"، قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مِثْلَهُ. قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُهُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ حَدَّثَنَا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ، وَوَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، قَالَ: دَعْهُ دَعْهُ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک بناؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا اور انہوں نے ہم سے یہ حدیث سفیان ثوری سے بیان کی، ان سے اعمش، منصور اور واصل نے، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابومیسرہ نے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا کہ تم اس سند کو جانے بھی دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6811]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا گناہ عظیم تر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس لیے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے میں شریک ہوں گے۔“ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنا۔“ یحییٰ نے بیان کیا: ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر اس حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا: پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا: انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے اعمش، منصور اور واصل سے، ان سب نے ابو وائل سے، انہوں نے ابومیسرہ سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: ”تم اس سند کو جانے دو، اسے چھوڑ دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
21. بَابُ رَجْمِ الْمُحْصَنِ:
باب: محصن (شادی شدہ کو زنا کی علت میں) سنگسار کرنا۔
حدیث نمبر: Q6812
وَقَالَ الْحَسَنُ مَنْ زَنَى بِأُخْتِهِ حَدُّهُ حَدُّ الزَّانِي
اور امام حسن بصری نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بہن سے زنا کرے تو اس پر زنا کی حد پڑے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6812]
حدیث نمبر: 6812
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" حِينَ رَجَمَ الْمَرْأَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: قَدْ رَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب انہوں نے جمعہ کے دن عورت کو رجم کیا تو کہا کہ میں نے اس کا رجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6812]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب انہوں نے جمعہ کے دن ایک عورت کو رجم فرمایا: ”میں نے اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق رجم کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6812]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6813
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ" سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي".
مجھ سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پوچھا: سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں (امر نامعلوم کے لیے اظہار لاعلمی کر دینا بھی امر محمود ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6813]
سلیمان شیبانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: ”سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے یا بعد؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ مجھے معلوم نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے زنا کیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے زنا کا چار مرتبہ اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا اور انہیں رجم کیا گیا، وہ شادی شدہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6814]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قبیلہ اسلم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے اور اپنے آپ پر چار شہادتیں پیش کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق رجم کا حکم دیا، چنانچہ اسے سنگسار کیا گیا جبکہ وہ شادی شدہ تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
22. بَابُ لاَ يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ:
باب: پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q6815
وَقَالَ عَلِيٌّ، لِعُمَرَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ، عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ
اور علی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ پاگل سے ثواب یا عذاب لکھنے والی قلم اٹھا لی گئی ہے یہاں تک کہ اسے ہوش ہو جائے۔ بچہ سے بھی قلم اٹھا لی گئی ہے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے۔ سونے والا بھی مرفوع القلم ہے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے یعنی دماغ اور ہوش درست کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6815]
حدیث نمبر: 6815
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى رَدَّدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ؟"
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6815]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی، پھر اس نے یہ بات چار دفعہ دہرائی، جب اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور دریافت فرمایا: ”کیا تو دیوانہ ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6815]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6816
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے انہوں نے خبر دی، جنہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ رجم کرنے والوں میں، میں بھی تھا ہم نے انہیں آبادی سے باہر عیدگاہ کے پاس رجم کیا تھا جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن ہم نے انہیں حرہ کے پاس پکڑا اور رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6816]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا تھا، ہم نے اسے آبادی سے باہر عیدگاہ کے پاس رجم کیا تھا۔ جب اس کو پتھر پڑے تو وہ بھاگ نکلا، لیکن ہم نے حرہ کے پاس اسے پا لیا اور وہیں سنگسار کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6816]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23. بَابُ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ:
باب: زنا کرنے والے کے لیے پتھروں کی سزا۔
حدیث نمبر: 6817
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اخْتَصَمَ سَعْدٌ، وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ"، زَادَ لَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ:" وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں (ایک بچے عبدالرحمٰن نامی میں) اختلاف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبد بن زمعہ! بچہ تو لے لے بچہ اسی کو ملے گا جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے وہ پیدا ہوا اور سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قتیبہ نے لیث سے اس زیادہ کے ساتھ بیان کیا کہ زانی کے حصہ میں پتھر کی سزا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6817]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے (ایک بچے کے متعلق) جھگڑا کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! بچہ تم لے لو کیونکہ «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ» ”صاحبِ فراش کا ہوتا ہے“۔ اے سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔“ قتیبہ سے لیث نے یہ اضافہ بیان کیا ہے: ” «وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”زانی کے حصے میں پتھروں کی سزا ہے“۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6817]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6818
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکا اسی کو ملتا ہے جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے ہوا ہو اور حرام کار کے لیے صرف پتھر ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6818]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش کا ہے اور حرام کار کے لیے پتھروں کی سزا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة