🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ الرَّجْمِ فِي الْبَلاَطِ:
باب: بلاط میں رجم کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ، قَدْ أَحْدَثَا جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمْ: مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ، قَالُوا: إِنَّ أَحْبَارَنَا أَحْدَثُوا تَحْمِيمَ الْوَجْهِ وَالتَّجْبِيهَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ادْعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالتَّوْرَاةِ، فَأُتِيَ بِهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُابْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَإِذَا آيَةُ الرَّجْمِ تَحْتَ يَدِهِ: فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا". قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" فَرُجِمَا عِنْدَ الْبَلَاطِ، فَرَأَيْتُ الْيَهُودِيَّ أَجْنَأَ عَلَيْهَا".
ہم سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ (اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6819]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم اپنی کتاب (تورات) میں اس کی سزا کیا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارے علماء نے اس جرم کی سزا چہرے کو کالا کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرانا کی تجویز رکھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! انہیں تورات لانے کا کہیں۔ تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک شخص نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کے آگے پیچھے کی آیات پڑھنے لگا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، کیا دیکھتے ہیں کہ آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان دونوں کو سنگسار کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہیں بلاط کے پاس رجم کیا گیا تھا۔ میں نے یہودی آشنا کو دیکھا کہ وہ اپنی داشتہ کو بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6819]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ الرَّجْمِ بِالْمُصَلَّى:
باب: عیدگاہ میں رجم کرنا (عیدگاہ کے پاس یا خود عیدگاہ میں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6820
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أُحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرًا وَصَلَّى عَلَيْهِ" لَمْ يَقُلْ يُونُسُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ:" فَصَلَّى عَلَيْهِ". سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ:" فَصَلَّى عَلَيْهِ يَصِحُّ". قَالَ: رَوَاهُ مَعْمَرٌ، قِيلَ لَهُ رَوَاهُ غَيْرُ مَعْمَرٍ، قَالَ: لَا.
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب (ماعز بن مالک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی جس کے وہ مستحق تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6820]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا حتیٰ کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو دیوانہ ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے عیدگاہ میں سنگسار کر دیا گیا۔ جب اس پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ نکلا لیکن اسے پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کلمہ خیر کہا اور اس کا جنازہ بھی پڑھا۔ یونس اور ابن جریج نے امام زہری رحمہ اللہ سے نماز جنازہ پڑھنے کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) سے پوچھا گیا کہ نماز جنازہ پڑھنے کے الفاظ ثابت ہیں یا نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: معمر نے انہیں بیان کیا ہے۔ پھر ان سے پوچھا گیا: معمر کے علاوہ کسی دوسرے راوی نے بھی ان الفاظ کو بیان کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6820]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِّ فَأَخْبَرَ الإِمَامَ فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا:
باب: جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں (مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6821
قَالَ عَطَاءٌ: لَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَلَمْ يُعَاقِبْ الَّذِي جَامَعَ فِي رَمَضَانَ، وَلَمْ يُعَاقِبْ عُمَرُ صَاحِبَ الظَّبْيِ وَفِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
‏‏‏‏ عطاء نے کہا کہ ایسی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی۔ ابن جریج نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کوئی سزا نہیں دی تھی جنہوں نے رمضان میں بیوی سے صحبت کر لی تھی۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ نے (حالت احرام میں) ہرن کا شکار کرنے والے کو سزا نہیں دی اور اس باب میں ابوعثمان کی روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6821]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6821
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا دو مہینے روزے رکھنے کی تم میں طاقت نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا کہ پھر ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6821]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان المبارک میں (بحالت روزہ) اپنی بیوی سے جماع کر لیا، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو غلام پاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دو ماہ کے روزے رکھ سکتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6821]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6822
وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ: مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: لَهُ تَصَدَّقْ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَجَلَسَ وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا، وَمَعَهُ طَعَامٌ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، مَا أَدْرِي مَا هُوَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي؟ مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ، قَالَ:، فَكُلُوهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَبْيَنُ، قَوْلُهُ:" أَطْعِمْ أَهْلَكَ".
اور لیث نے بیان کیا، ان سے عمرو بن الحارث نے، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ (دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی) اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آگ میں جلنے والے صاحب کہاں ہیں؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو۔ عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں «أطعم أهلك» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6822]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد نبوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں تو جل بھن گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں جماع کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کو تلافی کے لیے) صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ وہ بیٹھ گیا۔ اس دوران میں ایک آدمی اپنا گدھا ہانکتا ہوا آیا اس کے پاس غلہ تھا۔ راوی حدیث عبدالرحمن نے کہا: مجھے معلوم نہیں اس پر کون سا غلہ تھا۔ وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: جلنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں ادھر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں؟ میرے اہل و عیال کے پاس کھانا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو تم ہی کھا لو۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: پہلی حدیث (حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) زیادہ واضح ہے اس میں ہے: اپنے اہل و عیال کو کھلا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6822]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْحَدِّ وَلَمْ يُبَيِّنْ، هَلْ لِلإِمَامِ أَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ:
باب: جب کوئی شخص حد (والے گناہ) کا اقرار غیر واضح طور پر کرے تو کیا امام کو اس کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6823
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ، قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ، قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَوْ قَالَ حَدَّكَ".
مجھ سے عبدالقدوس بن محمد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عاصم کلابی نے بیان کیا، ان سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے۔ آپ مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ بیان کیا کہ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا یا فرمایا کہ تیری غلطی یا حد (معاف کر دی)۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6823]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مجھ پر حد واجب ہو چکی ہے، آپ اسے مجھ پر جاری فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق مزید پوچھ گچھ نہیں کی۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا تو اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص آپ کے پاس گیا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ کتاب اللہ کے مطابق اسے مجھ پر جاری کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تیرا گناہ معاف کر دیا ہے، یا فرمایا: تیری حد معاف کر دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6823]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ هَلْ يَقُولُ الإِمَامُ لِلْمُقِرِّ لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَزْتَ:
باب: کیا امام (زنا کا) اقرار کرنے والے سے یہ کہے کہ شاید تو نے چھوا ہو یا آنکھ سے اشارہ کیا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6824
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَنِكْتَهَا" لَا يَكْنِي، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے کہا کہ میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تو نے بوسہ دیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کر لی ہے؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6824]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہوگا، یا اشارہ کیا ہوگا، یا نظر بازی کی ہوگی؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تو نے اس سے جماع کیا ہے؟ آپ نے اس مرتبہ اشارے یا کنائے سے کام نہیں لیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ سُؤَالِ الإِمَامِ الْمُقِرَّ هَلْ أَحْصَنْتَ:
باب: زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6825
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأبِي سَلَمَةَ، أنَّ أبَا هُرَيْرَةَ قَالَ:" أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَادَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ يُرِيدُ نَفْسَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَجَاءَ لِشِقِّ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ؟".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آواز دی یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ خود اپنے متعلق وہ کہہ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ صاحب بھی ہٹ کر اسی طرف کھڑے ہو گئے جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور وہ بھی دوبارہ اس طرف آ گئے جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور اس طرح جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6825]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عام لوگوں میں سے ایک آدمی آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بآواز بلند پکارا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ اس کی مراد خود اپنی ذات تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، وہ بھی اسی طرف مڑا جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ انور تھا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انور دوسری طرف کر لیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کے اس طرف سے آیا جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیرا تھا، یہاں تک کہ جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں، پاگل نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6826
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ جنہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی تھی انہوں نے مجھے خبر دی کہ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا تھا جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگنے لگے۔ لیکن ہم نے انہیں حرہ (حرہ مدینہ کی پتھریلی زمین) میں جا لیا اور انہیں رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے سنگسار کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں رجم کیا۔ جب اس پر پتھروں کی بارش ہوئی تو بھاگ کھڑا ہوا، لیکن ہم نے اسے مدینہ منورہ کی پتھریلی زمین میں جا لیا اور وہیں اس کو سنگسار کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ الاِعْتِرَافِ بِالزِّنَا:
باب: زنا کا اقرار کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6827
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي، قَالَ:" قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَعَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: لَمْ يَقُلْ: فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَقَالَ: الشَّكُّ فِيهَا مِنْ الزُّهْرِيِّ، فَرُبَّمَا قُلْتُهَا، وَرُبَّمَا سَكَتُّ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم نے اسے زہری سے (سن کر) یاد کیا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کریں۔ اس پر اس کا مقابل بھی کھڑا ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا، پھر اس نے کہا کہ واقعی آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے ہی فیصلہ کیجئے اور مجھے بھی گفتگو کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اس شخص نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدوری پر کام کرتا تھا پھر اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا، میں نے اس کے فدیہ میں اسے سو بکری اور ایک خادم دیا، پھر میں نے بعض علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال شہر بدر ہونے کی حد واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ہوں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا اور اے انیس! صبح کو اس کی عورت کے پاس جانا اگر وہ (زنا کا) اقرار کر لے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اور انہوں نے رجم کر دیا۔ علی بن عبداللہ مدینی کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا جس شخص کا بیٹا تھا اس نے یوں نہیں کہا کہ ان عالموں نے مجھ سے بیان کیا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس میں شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں نے اس کو کبھی بیان کیا کبھی نہیں بیان کیا بلکہ سکوت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6827]
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اس دوران میں ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ پھر اس کا مخالف کھڑا ہوا، وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، اس نے بھی کہا: واقعی آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اور مجھے گفتگو کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کا ملازم تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک خادم بطور فدیہ دیا۔ پھر میں نے اہل علم حضرات سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا واجب ہے، اور اس کی بیوی کو سنگسار کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھے واپس ملیں گے، نیز تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! کل صبح تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے سنگسار کر دو۔ چنانچہ وہ صبح کے وقت اس عورت کے پاس گئے تو اس نے زنا کا اعتراف کر لیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ علی بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا اس شخص نے یہ نہیں کہا کہ مجھے اہل علم نے بتایا ہے کہ میرے بیٹے پر رجم ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے اس کے متعلق شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں اس کے متعلق خاموشی اختیار کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6827]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں