🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر: 141
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
وَبِهَذَا الإِسْنَادِ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ بِهِ الدُّنْيَا، لأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا".
اور اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بے شک ایک پیپ کا ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو یقیناً دنیا والوں کو بدبودار کر دے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «زیادات الزهد، ابن مبارك: 90، جامع ترمذی، کتاب صفة جهنم، باب صفة شراب أهل النار: 2584، تفسیر ابن کثیر: 42/4۔ محدث البانی نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 142
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا يَعْقِلُونَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے سیر کروائی گئی، میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا، ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا کہ جبریل علیہ السلام! یہ کون ہیں؟ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے وہ خطیب جو لوگوں کی نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنی جانوں کو بھول جاتے تھے اور وہ کتاب (بھی) پڑھتے تھے، کیا پس وہ عقل نہیں کرتے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 3/120، 231، 239، صحیح الترغیب والترهیب: 2327۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 143
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا، يُقَالُ لَهُ: لَمْلَمُ، إِنَّ أَوْدِيَةَ جَهَنَّمَ لَتَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جہنم میں یقیناً ایک وادی ہے، جسے ”لملم“ کہا جاتا ہے۔ بے شک جہنم کی وادیاں اس کی حرارت سے پناہ مانگتی ہیں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «زیادات الزهد، ابن مبارك: 95، حلیة الأولیاء، ابونعیم:8/178۔»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 144
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
عَنْ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَيْلٌ: وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ، وَالصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا، ثُمَّ يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ أَبَدًا".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ””ویل“ جہنم میں ایک وادی ہے، کافر اس سے پہلے کہ اس کی گہرائی تک پہنچے چالیس سال گرتا رہے گا اور ”صعود“ ایک آگ کا پہاڑ ہے، وہ اس پر ستر سال تک چڑھتا رہے گا، پھر آگ میں گر جائے گا۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «زیادات الزهد، ابن مبارك: 96، مسند احمد: 3/75، صحیح ابن حبان (الموارد)649، سنن ترمذي: 3164۔ محدث البانی نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 145
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَسُئِلَتْ: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ فَقِيلَ: فُلانٌ، أَوْ فُلانٌ حَتَّى ذُكِرَ اسْمُ الْيَهُودِيِّ؟ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، أَيْ: نَعَمْ، فَدُعِيَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ،" فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ"، أَوْ قَالَ: حِجَارَةٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کسی نے کیا؟ کہا گیا کہ کیا فلاں یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا، اس نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا یعنی ہاں، تو اس یہودی کو بلایا گیا، اس نے اعتراف (جرم) کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا سر (بھی) دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ یا کہا کہ پتھر کے ساتھ۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري، فی أول کتاب الخصومات: 5/45، صحیح مسلم: 11/157، 158، 159، رقم: 15،16، 17، کتاب القسامة باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر وغیرہ، جامع الترمذی،کتاب الدیات: 6، باب من ضخ رأسه بالصخرة: 4/651، سنن ابن ماجة، کتاب الدیات: 24، باب یقتاد من القاتل کما قتل: 2665، 2666، مسند احمد: 3/193، 262، 269، سنن دارمي، کتاب الدیات: 4، باب کیف یعمل فی القود: 2/110، سنن دارقطني، کتاب الدیات: 3/168، 169، التلخیص الحبیر: 4/15۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 146
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ، وَفِي الْمُوَضِّحَةِ خَمْسٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انگلیوں میں (دیت) دس دس (اونٹ) ہیں اور اس زخم میں جو ہڈی کو ننگا کر دے پانچ (اونٹ دیت) ہیں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «سنن الکبریٰ، بیهقي: 8/92، 81، جامع ترمذي، کتاب الدیات: 3، باب الموضحة: 4/648، سنن دارمي: 2/115، کتاب الدیات: 16، باب فی الموضحة، مسند احمد: 2/217، سنن دارقطني: 3/207، سنن ابن ماجة: 18، باب دیة الأصابع رقم: 2653، 2655۔ محدث البانی نے اسے ’’حسن‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 147
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ، وَأَشَارَ شُعْبَةُ إِلَى الْخِنْصَرِ وَالإِبْهَامِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: ”یہ اور یہ برابر ہیں،“ اور شعبہ (راوی نے) چھنگلی اور انگوٹھے کی طرف اشارہ کیا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجة،کتاب الدیات: 18، باب دیة الأصابع: 2652، جامع ترمذي، کتاب الدیات: 4/649، سنن بیهقي: 8/91۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 148
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ وَكَانَ آخِذَ الدِّرْهَمَيْنِ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ"، قُلْتُ لِغَالِبٍ التَّمَّارِ: فِي كُلِّ وَاحِدٍ عَشْرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انگلیاں برابر ہیں۔“ میں نے غالب تمار سے کہا کہ ہر ایک انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ، کتاب الدیات: 2654، سنن دارمي، کتاب الدیات، باب دیة الأصابع: 115/2، السنن الکبریٰ للبیهقي: 192/8۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ ہے۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 149
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ حِفْظَ الأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَإِنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتِ الْمَاشِيَةُ بِاللَّيْلِ".
حرام بن سعد بن محیصہ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک قوم کے باغ میں داخل ہوئی اور اسے خراب کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”بے شک اموال کی حفاظت، دن کے وقت ان کے مالکوں پر ہے اور یقیناً مویشیوں والوں پر وہ (تاوان) ہے جسے مویشی رات کو پہنچائیں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجة: 2332، موطا، کتاب القضاء فی الضواري و الحریسة رقم: 37، سنن ابي داود، کتاب البیوع: 90، باب المراشي تفسد زرع القوم: 9/483، سنن دارقطني، کتاب الحدود والدیات: 3/154، 155، صحیح ابن حبان (الموارد)کتاب البیوع: 46 باب ما تفسد المواشي: 284، مسند أحمد: 4/295، 5/536، سنن بیهقي، کتاب السرقة باب ما یستدل علی ترك تضعیف الغرامة: 8/279۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 150
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُسْقِطَتْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ وَلا شَرِبَ وَلا أَكَلَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک دو عورتیں جو بنو ہزیل کے ایک آدمی کے ماتحت (بیویاں تھیں) ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کا ستون مارا تو اس کا حمل ساقط کر دیا گیا، وہ جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور کہا: ہم اس کی دیت کیسے دیں جو نہ چیخا نہ رویا، نہ پیا اور نہ کھایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بدویوں کی سجع کی طرح، سجع کلامی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام آزاد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے عورت کے عصبہ رشتہ داروں پر (مقرر) کیا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم: 11/178، 179، کتاب القسامة رقم 37، 38، جامع ترمذی، کتاب الهبات: 15، باب دیة الجنین: 4/666، سنن ابي داؤد، کتاب الدیات: 22، باب دیة الجنین: 12/311، سنن دارمي، کتاب الدیات: 20، باب دیة الجنین: 2/117، مسند أحمد: 4/246، مسند طیالسي: 1/294، سنن دارقطني: 3/198، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/114، سنن دارمي،ا لمقدمة: 54، باب الرجل یفتی بشئی ثم یبلغه عن النبی صلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فیرجع الی قول النبی صلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: 1/123۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں