مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث نمبر: 151
حدیث نمبر: 151
عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ، ذَكَرَ فِي الَّذِي يَعَضُّ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَلا دِيَةَ لَهُ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لا دِيَةَ لكَ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یعلی بن منبہ نے اس شخص کے بارے میں ذکر کیا جو کاٹتا ہے تو اس کا دانت ٹوٹ جاتا ہے، اس کے لیے کوئی دیت نہیں ہے، انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے کوئی دیت نہیں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري: 6892، سنن ابن ماجة: 2657، سنن دارمي: 25/116، مسند احمد: 4/435۔»
الحكم على الحديث:
صحیح
حدیث نمبر: 152
حدیث نمبر: 152
وَأَيْضًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
یہی حدیث دوسری سند سے اسی طرح بیان ہوئی ہے، جس میں ابن یعلی اپنے باپ سے بیان کرتا ہے۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري: 6892، سنن ابن ماجة: 2657، سنن دارمي: 25/116، مسند احمد: 4/435۔»
الحكم على الحديث:
صحیح
حدیث نمبر: 153
حدیث نمبر: 153
عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ"، قَالَ: وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ، اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے شراب پی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو چھڑیاں تقریباً چالیس ماریں، کہا اور یہی کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تو جب عمر رضی اللہ عنہ تھے تو انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حدود میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حکم دیا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، کتاب الحدود: 11/215، رقم: 35، جامع ترمذي: 4/720 فی کتاب الحدود: 13، حد السکران، سنن ابي داؤد: 12/178، فی کتاب الحدود: 36، باب حد الخمر، سنن دارمي، کتاب الحدود: 9، باب حد الخمر: 2/97، مسند احمد (الفتح الرباني)16/118، مسند طیالسي: 1/302، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/319، کتاب الأشربة والحد، باب عدد شارب الخمر۔»
الحكم على الحديث:
صحیح
حدیث نمبر: 154
حدیث نمبر: 154
عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَشْوَانَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَشْرَبْ خَمْرًا، إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءٍ، فَنُهِزَ بِالأَيْدِي، وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ، وَنُهِيَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی، میں نے تو بس کدو کے برتن میں کشمش اور کھجور پی ہے، تو اسے ہاتھوں اور جوتوں سے سرزنش کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر (استعمال کرنے سے) منع فرما دیا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «مستدرك حاکم: 4/374، مسند أحمد: 11297، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/317، مسند طیالسي: 1/302، معانی الآثار،طحاوي: 3/156۔ حاکم اور شیخ شعیب نے اسے ’’صحیح علی شرط مسلم‘‘ قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
صحیح
حدیث نمبر: 155
حدیث نمبر: 155
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ؟" قَالَ: بَلَى. قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ؟" قَالَ: بَلَى. قَالَ:" فَاذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ جِيئُوا بِهِ"، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ لَهُ:" قُلْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. فَقَالَ:" اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ".
سیدنا ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا، جس نے اعتراف (جرم) کر لیا اور اس کے ساتھ کوئی سامان نہ پایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”میرا نہیں خیال کہ تو نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرا نہیں خیال کہ تو نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے لے کر آؤ۔“ سو انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹا، پھر اسے لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“ اس نے کہا کہ میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما لے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «سنن نسائي، کتاب قطع السارق: 4877، سنن ابي داؤد: 4380، سنن ابن ماجة، کتاب الحدود: 2597، مسند أحمد: (الفتح الرباني): 16/113، التلخیص الحبیر: 4/66، سنن دارمي، کتاب الحدود: 6، باب المعترف بالسرقة: 2/95، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/276۔ محدث البانی نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
ضعیف
حدیث نمبر: 156
حدیث نمبر: 156
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ فِي عُنُقِهِ؟ فَقَالَ:" سُنَّةٌ، قَدْ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ وَعَلَّقَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ".
عبداللہ بن محریز نے کہا کہ میں نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے چور کے ہاتھ کے اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سنت ہے۔ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا اور اس کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «جامع ترمذي، کتاب الحدود، باب تعلیق ید السارق: 5/7، سنن ابي داؤد، کتاب الحدود: 21، باب تعلیق ید السارق فی عنقه: 12/89، مسند احمد (الفتح الرباني): 16/114، سنن دارقطني: 3/208، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/275۔ محدث البانی نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
ضعیف
حدیث نمبر: 157
حدیث نمبر: 157
نا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ:" فِيهَا غَرَامَةٌ مِثلُهَا، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْمُرَاحُ، فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ إِلا فِيمَا أَوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میدان کے بکریوں کے باڑے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں ان کی مثل چٹی (تاوان) ہے اور سزا کے کوڑے ہیں اور جانوروں میں سے کسی چیز میں ہاتھ نہیں کٹتا سوائے اس کے جسے باڑہ جگہ دے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کٹتا ہے اور پھلوں میں سے کسی چیز میں (ہاتھ کٹنا) نہیں مگر اس میں جسے کھلیان (پھلوں کو اکٹھا کرنے کی جگہ) جگہ دے، جس نے کھلیان سے لیا اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ گیا تو اس میں ہاتھ کٹنا ہے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «مسند احمد (الفتح الرباني)15/156، 16/111، مستدرك حاکم 4/381،سنن الکبریٰ بیهقي: 8/278، سنن نسائي: 4959۔ محدث البانی نے اسے ’’حسن‘‘ کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 158
حدیث نمبر: 158
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَرَأَ عَنِ الْمُنْتَهِبِ وَالْمُخْتَلِسِ وَالْخَائِنِ قَطْعٌ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاکا ڈالنے والے، چھینا جھپٹی کرنے والے اور خیانت کرنے والے سے ہاتھ کٹنا ہٹا دیا ہے۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «جامع ترمذي: الحدود: 18، باب ما جاء فی الخاء المختلس والمنتخب: 5/8، سنن ابي داؤد، الحدود: 4381، 4382، مسند أحمد (الفتح الرباني)16/112، سنن دارمي: 2/96، سنن دارقطني: 3/187، صحیح ابن حبان (الموارد)361، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/279، تاریخ بغداد: 1/256، 11/153، التلخیص الحبیر: 4/65، نصب الرایة، زیلعي: 3/368۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
صحیح
حدیث نمبر: 159
حدیث نمبر: 159
عَنْ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ رَجُلا مُوَلَّدًا أَطْلَسَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ كَانَ لَزِمَ أَبَا بَكْرٍ فِي خِلافَتِهِ فَلَطَفَ بِهِ، حَتَّى بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ مُصَدِّقًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَبَعَثَهُ مَعَهُ وَأَوْصَى بِهِ، فَلَبِثَ قَرِيبًا مِنْ شَهْرَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ يُوضَعُ بَعِيرُهُ قَدْ قَطَعَ الْمُصَدِّقُ يَدَهُ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ فَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَقَالَ: وَيْلَكَ مَا لَكَ؟ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، وَجَدَنِي فَرِيضَةً فَقَطَعَ فِيهَا يَدِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَاتَلَ اللَّهُ هَذَا الَّذِي قَطَعَ يَدَكَ فِي فَرِيضَةِ جَنْبِهَا، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ كَوَّنَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاثِينَ فَرِيضَةً، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا لأَقِيدَنَّكَ مِنْهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ بِمَنْزِلَتِهِ الَّتِي كَانَ بِهَا قَبْلَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَيَقُومُ فَيُصلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَعَارُّ أَبُو بَكْرٍ عَنْ فِرَاشِهِ، فَإِذَا سَمِعَ قِرَاءَتَهُ فَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَقَالَ: قَطَعَ اللَّهُ الَّذِي قَطَعَ هَذَا، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ، طَرَقَ حُلِيُّ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَسُرِقَ مِنْهَا، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الصُّبْحَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ الْحَيَّ قَدْ طَرَقُوا اللَّيْلَةَ فَسَرَقُوا فَانْفَضُّوا لاتِّبَاعِ مَتَاعِهِمْ، قَالَتْ: فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْنَا ذَلِكَ لأَقْطَعَ، فَأَذِنَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا جَالِسَةٌ فِي الْحِجَابِ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، سُرِقْتُمُ اللَّيْلَ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَيَدَهُ الْجَذْمَاءَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ عُثِرَ عَلَى سَارِقِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى أُخِذَتِ السَّرِقَةُ مِنْ بَيْتِهِ، فَأُتِيَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِاللَّهِ بِعَالِمٍ اذْهَبُوا فَاقْطَعُوا أَرْجُلَهُ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک کداء (نامی جگہ) کا ایک آدمی جس پر اہل مکہ کی طرف سے چوری کی تہمت تھی، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے دور خلافت میں آیا، انہوں نے اس کے ساتھ شفقت کی، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انصار میں سے ایک زکوٰۃ وصول کرنے والا بھیجا تو اس کو بھی اس کے ساتھ روانہ کر دیا اور اسے دو مہینوں کے قریب اس پر مہربان بنائے رکھا، پھر وہ آیا تو اس کا اونٹ بٹھایا جا رہا تھا۔ زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کا ہاتھ کاٹ چکا تھا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اور فرمایا: ”تجھ پر افسوس، تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! اس نے مجھے فریضے (زکوٰۃ) کے پہلو میں پایا تو اس میں میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اسے مارے جس نے تیرا ہاتھ اس فریضے میں کاٹا جسے اس نے پہلو میں رکھا، اللہ کی قسم! بے شک میں اسے دیکھتا ہوں وہ تیس سے زیادہ فرائض میں خیانت کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تو یقیناً سچا ہے تو میں لازماً تجھے اس سے بدلہ لے کر دوں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اسی گھر میں تھی جہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں اس کا ہاتھ کاٹے جانے سے پہلے تھی، وہ (چور) کھڑا ہوتا اور رات کو قیام کرتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے بستر پر بے قرار پہلو بدلتے اور جب اس کی قراءت سنتے تو ان کی آنکھیں بہہ پڑتیں اور کہتے: ”اللہ اس کا ہاتھ کاٹے، جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے۔“ اسی دوران ہم تھے کہ رات کے وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا (ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی) آئیں، ان کے گھر چوری ہو گئی تھی، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی تو لوگوں میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”بے شک قبیلے والے رات کو آئے ہیں، ان کی چوری ہو گئی ہے۔ سو تم ان کا سامان تلاش کرنے نکل جاؤ۔“ کہتی ہیں کہ اس دست بریدہ نے ہم پر اجازت طلب کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اجازت دے دی اور میں پس پردہ بیٹھی ہوئی تھی، اس نے کہا: ”اے ابوبکر! کیا رات کو نگرانی کرنے والا کوئی نہیں؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں،“ تو اس نے اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ اٹھایا اور کہا: ”اے اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ کے چور کو شرم ناک کر دے،“ کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! دن ابھی چڑھا نہ تھا کہ چوری اسی کے گھر سے پکڑ لی گئی، اسے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے کہا: ”تجھ پر افسوس! اللہ کی قسم! تو اللہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اسے لے جاؤ اور اس کا پاؤں کاٹ دو۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «موطا: 4/159 مختصراً فی کتاب الجامع فی القطع: 30، سنن دارقطني: 3/184، شرح مشکل الآثار: 1824۔»
حدیث نمبر: 160
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حِبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: [ص:90] قَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: ( (تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ کاٹا جائے، دینار کے ایک چوتھائی حصے میں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري، کتاب الحدود: 13، باب قول اللّٰه تعالیٰ: ﴿وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَهُمَا﴾ (المائدة: 38)، وفی کم یقطع: 12/83، 84، صحیح مسلم، الحدود، رقم: 1، 2، 3، 4۔ 11/181،182، 183، سنن ابي داؤد، الحدود: 11، باب ما یقطع فیه السارق: 12/50،51، سنن ابن ماجة: 2586، سنن دارقطني: الحدود: 4، باب ما یقطع فیه الیه: 2/94،مسند طیالسي: 1/301، سنن دارقطني: 3/189، 190، سنن الکبریٰ بیهقي: 8/354، 356، التلخیص الحبیر: 4/64، معجم صغیر طبراني: 1/10، 160۔»
الحكم على الحديث:
صحیح