🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر: 221
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 221
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا، أَوْ مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس کے ورثا کے لیے جائز ہے، یا اس کے ورثا کی وراثت ہے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم: 11/73، مسند احمد: 3/297، جامع ترمذي: 4/580، سنن ابن ماجة: 2383۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 222
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «جامع ترمذي: 1349، سنن ابي داؤد: 3556،3558، سنن الکبریٰ بیهقي: 6/174۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 223
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 223
عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم: 11/73 رقم: 32، سنن ابي داؤد: 9/264، سنن الکبریٰ بیهقي: 6/174۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 224
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: ( (لَا يَجُوزُ لِأَمْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: ”کسی عورت کے لیے عطیہ دینا جائز نہیں، سوائے اس کے خاوند کی اجازت کے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «سنن ابي داؤد: 3547، سنن ابن ماجة: 2389، مسند احمد: 2/179، 184، 207۔ محدث البانی نے اسے ’’حسن صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
حسن صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 225
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ) )
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے صدقے میں لوٹتا ہے، کتے کی مثال کی طرح ہے، جو اپنی قے میں لوٹتا ہے اور اسے کھا لیتا ہے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري: 5/179، صحیح مسلم: 11/63، 64، رقم: 5،6، سنن ابي داؤد: 9/454، سنن ابن ماجة: 2391، حلیة الأولیاء، ابو نعیم: 6/144، 145، 9/37۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 226
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، وَاللَّهِ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا"، فَجَعَلَهَا عُمَرُ صَدَقَةً لا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلا يُورَثُ وَلا يُوهَبُ، وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ، فَلَمَّا بَلَغَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ: غَيْرَ مُتأَثِّلٍ فِيهِ مَالا. فَأَخْبَرَنِي إِنْسَانٌ أَنَّهُ قَرَأَ تِلْكَ الرُّقْعَةَ فَإِذَا فِيهَا: غَيْرَ مُتأَثِّلٍ مَالا.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بے شک عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین حاصل ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک مجھے خیبر میں زمین حاصل ہوئی ہے، اللہ کی قسم! میں نے کبھی ایسا مال حاصل نہیں کیا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اسے صدقہ کر دے اور اس کی اصل روک لے۔“ چناں چہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر دیا (اس طرح کہ) اس کی اصل کو نہ بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، اور نہ وارث بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسے فقراء، قرابت داروں، فی سبیل اللہ، گردنوں (کو آزاد کرانے میں)، مسافر اور مہمان کے لیے صدقہ کر دیا، جو اس کی دیکھ بھال کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اچھے طریقے سے اس میں سے کھا لے اور دوست کو کھلا لے۔ اسے اپنا مال بنانے والا نہ ہو، میں نے یہ محمد کو حدیث ذکر کی تو جب یہاں پہنچا، اسے اپنا مال بنانے والا نہ ہو، تو کہا کہ اس میں مال کا سوال کرنے والا نہ ہو، سو مجھے ایک انسان نے خبر دی کہ بے شک اس نے وہ رقعہ پڑھا تھا، جس میں تھا کہ مال کا سوال کرنے والا نہ ہو۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري: 5/308، 309، صحیح مسلم: 11/86، 87، جامع ترمذي، الأحکام: 36، باب ما جاء فی الوقف، سنن ابو داؤد: 8/81، سنن ابن ماجة: 2396، 2397، مسند أحمد: 2/13، 55، 125، طبقات ابن سعد: 3/357، حلیة الأولیاء،ابو نعیم: 8/263، نصب الرایة، زیلعي: 3/476۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 227
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: دَعَا شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ، مُرَّةَ بْنَ كَعْبٍ أَوْ كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ".
عبید بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے بیان کیا شرحبیل بن سمط نے مرہ بن کعب یا کعب بن مرہ کو بلایا اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر اور ڈر تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کسی مسلمان (غلام) آدمی کو آزاد کیا، اللہ اس (غلام) کے ہر عضو کے بدلے اس کا ہر عضو آگ سے آزاد کر دے گا اور جس نے کسی مسلمان عورت (لونڈی) کو آزاد کیا، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے، اس کا ہر عضو آگ سے آزاد کر دے گا۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري: 6715، سنن ابن ماجة: 2522، مسند احمد: 4/35۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 228
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 228
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، حَدَّثَنِي الْغَرِيفُ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لَنَا: قَدْ أَوْجَبَ، قَالَ: " فَلْيُعْتِقُونَ فِيهِ مِثْلَهُ يَفُكُّ اللَّهُ بِكُلِّ عُضوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ".
غریف بن عیاش بن فرقد دیلمی نے کہا کہ میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو (کلاب) نے ان سے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں، کہا کہ ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو سلیم کی ایک جماعت آئی تو ہمارے ایک ساتھی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یقیناً اس نے واجب کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس میں اس کی مثل ایک گردن آزاد کریں، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے، اس کا (ہر) عضو آگ سے آزاد کر دے گا۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «صحیح ابن حبان: (الموارد)293، مستدرك حاکم: 2/212، التلخیص الحبیر: 4/38۔ حاکم اور ابن حبان نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 229
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ أَحَدُهُمَا بَيْنَ شُرَكَاءَ، فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ: فَقَدْ يُوجِبُ عِتْقُهُ كُلُّهُ عَلَيْهِ، إِذَا كَانَ لِلَّذِي أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ مِنْهُ يُقَامُ فِي مَالِهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَيُرْجِعُ إِلَى الشُّرَكَاءِ نَصِيبَهُمْ وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ"، ذَكَرَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام اور لونڈی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جن میں سے ایک کئی شریکوں کے درمیان ہو اور ان میں سے ایک اس میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے کہ اس پر اس سارے کے سارے کو آزاد کرنا فرض ہو جائے گا، اگر اس شخص کے پاس کہ جس نے اپنا حصہ آزاد کیا اتنا مال ہو جو اس (کی آزادی) کو پہنچتا ہو، اس کے مال میں عدل کی قیمت لگائی جائے گی، وہ باقی شریکوں کی طرف ان کے حصے لوٹائے گا اور جسے آزاد کیا گیا، اس کا راستہ خالص کر دیا جائے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجة: 2524، موطا: 77/4، معانی الآثار، طحاوي: 106/3، سنن الکبریٰ بیهقي: 275/10۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر: 230
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَعَلَى الْمُعْتِقِ أَنْ يُقَامَ عَلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنَ الْعَبْدِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ".
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نسا بھی مرد کہ اس کے درمیان اور دوسرے کے درمیان اس کے غلام میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو آزاد کرنے والے پر، اگر اس کے پاس مال ہے تو لازم ہے کہ غلام پر جو (قیمت) باقی رہتی ہے، اس پر لگائی جائے گی۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم: 4325، سنن الکبریٰ بیهقي: 275/10۔»

الحكم على الحديث:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں