🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الاِحْتِيَالِ فِي الْبُيُوعِ:
باب: خرید و فروخت میں حیلہ اور فریب کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6962
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہ ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بچا ہوا بےضرورت پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ اس کی وجہ سے بچی ہوئی گھاس بھی بچی رہے (اس میں بھی حیلہ سازی سے روکا گیا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6962]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرورت سے زائد پانی سے منع نہ کیا جائے تاکہ اس بہانے فالتو گھاس بھی محفوظ رہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6962]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّنَاجُشِ:
باب: نجش کی کراہیت (یعنی کسی چیز کا خریدنا منظور نہ ہو مگر دوسرے خریداروں کو بہکانے کے لیے اس کی قیمت بڑھانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6963
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6963]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بلاوجہ قیمت بڑھانے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6963]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبُيُوعِ:
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ دینے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6964
وَقَالَ أَيُّوبُ يُخَادِعُونَ اللَّهَ كَأَنَّمَا يُخَادِعُونَ آدَمِيًّا لَوْ أَتَوْا الْأَمْرَ عِيَانًا كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ.
‏‏‏‏ اور ایوب نے کہا، وہ کم بخت اللہ کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں جس طرح کسی آدمی کو (خرید و فروخت میں) دھوکہ دیتے ہیں اگر وہ صاف صاف کھول کر کہہ دیں کہ ہم اتنا نفع لیں گے تو یہ ہمارے نزدیک آسان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: Q6964]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6964
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کچھ خریدا کرو تو کہہ دیا کرو کہ اس میں کوئی دھوکہ نہ ہونا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6964]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اسے خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: اس میں کوئی دھوکا نہیں ہونا چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الاِحْتِيَالِ لِلْوَلِيِّ فِي الْيَتِيمَةِ الْمَرْغُوبَةِ، وَأَنْ لاَ يُكَمِّلَ صَدَاقَهَا:
باب: یتیم لڑکی سے جو مرغوبہ ہو اس کے ولی فریب دے کر یعنی مہر مثل سے کم مہر مقرر کر کے نکاح کرے تو یہ منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6965
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، فَيَرْغَبُ فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا، فَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ نِسَائِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ"، ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سورة النساء آية 127، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے کہ عروہ ان سے بیان کرتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء‏» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں۔“ آپ نے کہا کہ اس آیت میں ایسی یتیم لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی لڑکی کے مال اور اس کے حسن سے رغبت رکھتا ہو اور چاہتا ہو کہ عورتوں (کے مہر وغیرہ کے متعلق) جو سب سے معمولی طریقہ ہے اس کے مطابق اس سے نکاح کرے تو ایسے ولیوں کو ان لڑکیوں کے نکاح سے منع کیا گیا ہے۔ سوا اس صورت کے کہ ولی مہر کو پورا کرنے میں انصاف سے کام لے۔ پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويستفتونك في النساء‏» ”اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں۔“ اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6965]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 3] ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچیوں کے متعلق انصاف نہ کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے نکاح کر لو جو تمہیں پسند ہوں“ کی تفسیر کے متعلق پوچھا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد ایسی یتیم بچی ہے جو اپنے سرپرست کی کفالت میں ہو، وہ اس کے مال و متاع اور حسن و جمال کی وجہ سے اس میں رغبت رکھتا ہو، پھر دوسری عورتوں کے معروف مہر سے کم حقِ مہر دے کر اس سے نکاح کرے، تو ایسے سرپرستوں کو ان لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں! اگر وہ (سرپرست) پورا حقِ مہر دے کر انصاف کرے تو جائز ہے۔“ اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور لوگ آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ پوچھتے ہیں۔“ پھر انہوں نے بقیہ حدیث ذکر فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ إِذَا غَصَبَ جَارِيَةً فَزَعَمَ أَنَّهَا مَاتَتْ:
باب: جب کسی شخص نے لونڈی زبردستی چھین لی اور کہا کہ وہ لونڈی مر گئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6966
ثُمَّ وَجَدَهَا صَاحِبُهَا فَهِيَ لَهُ وَيَرُدُّ الْقِيمَةَ وَلَا تَكُونُ الْقِيمَةُ ثَمَنًا، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ الْجَارِيَةُ لِلْغَاصِبِ لِأَخْذِهِ الْقِيمَةَ وَفِي هَذَا احْتِيَالٌ لِمَنِ اشْتَهَى جَارِيَةَ رَجُلٍ لَا يَبِيعُهَا فَغَصَبَهَا وَاعْتَلَّ بِأَنَّهَا مَاتَتْ حَتَّى يَأْخُذَ رَبُّهَا قِيمَتَهَا فَيَطِيبُ لِلْغَاصِبِ جَارِيَةَ غَيْرِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْوَالُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ وَلِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
‏‏‏‏ اب لونڈی کے مالک نے اس پر دعویٰ کیا تو چھیننے والے نے یہ کہا کہ وہ لونڈی مر گئی۔ حاکم نے اس سے قیمت دلا دی اب اس کے بعد مالک کو وہ لونڈی زندہ مل گئی تو وہ اپنی لونڈی لے لے گا اور چھیننے والے نے جو قیمت دی تھی وہ اس کو واپس کر دے گا یہ نہ ہو گا کہ جو قیمت چھیننے والے نے دی وہ لونڈی کا مول ہو جائے، وہ لونڈی چھیننے والے کی ملک ہو جائے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ وہ لونڈی چھیننے والے کی ملک ہو جائے گی کیونکہ مالک اس لونڈی کا مول اس سے لے چکا ہے۔ یہ فتویٰ دیا ہے گویا جس لونڈی کی آدمی کو خواہش ہو اس کے حاصل کر لینے کی ایک تدبیر ہے کہ وہ جس کی چاہے گا اس کی لونڈی جبراً چھین لے گا جب مالک دعویٰ کرے گا تو کہہ دے گا کہ وہ مر گئی اور قیمت مالک کے پلے میں ڈال دے گا۔ اس کے بعد بےفکری سے پرائی لونڈی سے مزے اڑاتا رہے گا کیونکہ اس کے خیال باطل میں وہ لونڈی اس کے لیے حلال ہو گئی حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دوسرے کے مال تم پر حرام ہیں اور فرماتے ہیں قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا (تاکہ سب کو اس کی دغا بازی کا حال معلوم ہو جائے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: Q6966]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6966
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعہ وہ پہچانا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6966]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دھوکہ دینے والے کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جس کے ذریعے سے وہ پہچانا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6966]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے، ان سے زینت بنت ام سلمہ نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں اور بعض اوقات جب تم باہمی جھگڑا لاتے ہو تو ممکن ہے کہ تم میں سے بعض اپنے فریق مخالف کے مقابلہ میں اپنا مقدمہ پیش کرنے میں زیادہ چالاکی سے بولنے والا ہو اور اس طرح میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو میں تم سے سنتا ہوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی اس کے بھائی کے حق میں سے، میں کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ کیونکہ اس طرح میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6967]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک انسان ہوں اور بعض اوقات جب تم باہمی جھگڑا لاتے ہو تو ممکن ہے کہ تم میں کوئی دوسرا اپنے فریقِ مخالف کے مقابلے میں زیادہ چالاکی سے بولنے والا ہو، اس طرح میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو میں اس سے سنتا ہوں، لہذا ایسے حالات میں جس شخص کے لیے بھی اس کے بھائی کے حق میں کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ اس طرح میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کر دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6967]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابٌ في النِّكَاحِ:
باب: نکاح پر جھوٹی گواہی گزر جائے تو کیا حکم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6968
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَلَا الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ إِذْنُهَا؟، قَالَ: إِذَا سَكَتَتْ"، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنْ لَمْ تُسْتَأْذَنِ الْبِكْرُ وَلَمْ تَزَوَّجْ، فَاحْتَالَ رَجُلٌ فَأَقَامَ شَاهِدَيْ زُورٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا بِرِضَاهَا، فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا، وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّ الشَّهَادَةَ بَاطِلَةٌ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَطَأَهَا وَهُوَ تَزْوِيجٌ صَحِيحٌ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اس (کنواری) کی اجازت کی کیا صورت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اجازت ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے نکاح کیا۔ لیکن کسی شخص نے حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ کھڑے کر دئیے کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے اس کی مرضی سے اور قاضی نے بھی اس کے نکاح کا فیصلہ کر دیا۔ حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے کہ گواہی جھوٹی تھی اس کے باوجود اس لڑکی سے صحبت کرنے میں اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ نکاح صحیح ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6968]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت نہ كيا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا امر معلوم نہ کر لیا جائے۔“ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! کنواری لڑکی کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔“ بعض لوگ کہتے ہیں: ”اگر کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس کا نکاح ہی کیا گیا لیکن کسی شخص نے حیلہ سازی کر کے دو جھوٹے گواہ بنا لیے کہ اس نے لڑکی سے اس کی رضامندی سے نکاح کر لیا ہے اور قاضی نے اس نکاح کے متعلق فیصلہ دے دیا، حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ گواہی جھوٹ پر مبنی اور باطل ہے، اس کے باوجود اس لڑکی سے جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ نکاح صحیح ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6968]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6969
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ،" أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ جَارِيَةَ، قَالَا: فَلَا تَخْشَيْنَ، فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنْ أَبِيهِ، إِنَّ خَنْسَاءَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے قاسم نے کہ جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک خاتون کو اس کا خطرہ ہوا کہ ان کا ولی (جن کی وہ زیر پرورش تھیں) ان کا نکاح کر دے گا۔ حالانکہ وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے قبیلہ انصار کے دو شیوخ عبدالرحمٰن اور مجمع کو جو جاریہ کے بیٹے تھے کہلا بھیجا انہوں نے تسلی دی کہ کوئی خوف نہ کریں۔ کیونکہ خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن کو اپنے والد سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ خنساء رضی اللہ عنہا آخر حدیث تک بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6969]
حضرت قاسم سے روایت ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک خاتون کو اس امر کا خطرہ ہوا کہ اس کا سر پرست ایسے شخص سے اس کا نکاح کر دے گا جسے وہ ناپسند کرتی ہے، چنانچہ اس نے انصار کے دو بزرگوں عبدالرحمن بن جاریہ اور مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا۔ انہوں نے تسلی دی کہ ”اس سلسلے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو مسترد کر دیا تھا۔“ سفیان نے کہا: عبدالرحمن کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا، وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ”خنساء (کا نکاح اس کے والد نے کر دیا تھا)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6969]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں