🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابٌ في النِّكَاحِ:
باب: نکاح پر جھوٹی گواہی گزر جائے تو کیا حکم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6970
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ"، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنِ احْتَالَ إِنْسَانٌ بِشَاهِدَيْ زُورٍ عَلَى تَزْوِيجِ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ بِأَمْرِهَا، فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا إِيَّاهُ وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْهَا قَطُّ، فَإِنَّهُ يَسَعُهُ هَذَا النِّكَاحُ، وَلَا بَأْسَ بِالْمُقَامِ لَهُ مَعَهَا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی بیوہ سے اس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے اور کسی کنواری سے اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔“ صحابہ نے پوچھا: اس کی اجازت کا کیا طریقہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کہ وہ خاموش ہو جائے۔“ پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہا اگر کسی شخص نے دو جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حیلہ کیا (اور یہ جھوٹ گھڑا) کہ کسی بیوہ عورت سے اس نے اس کی اجازت سے نکاح کیا ہے اور قاضی نے بھی اس مرد سے اس کے نکاح کا فیصلہ کر دیا جبکہ اس مرد کو خوب خبر ہے کہ اس نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے اور اس کے لیے اس عورت کے ساتھ رہنا جائز ہو جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6970]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا امر معلوم نہ کر لیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے حتی کہ اس سے اجازت لے لی جائے۔“ لوگوں نے پوچھا: اس کی اجازت کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔“ اس حدیث کے باوجود کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے دو جھوٹے گواہوں کے ذریعے سے یہ حیلہ کیا کہ کسی عورت سے اس کی اجازت سے نکاح کر لیا اور قاضی نے بھی اس کے حق میں فیصلہ کر دیا، حالانکہ مرد کو بخوبی علم ہے کہ اس نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا، اس کے باوجود یہ نکاح جائز ہے اور اس مرد کے لیے اس عورت کے ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6970]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6971
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ، قُلْتُ: إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي، قَالَ: إِذْنُهَا صُمَاتُهَا"، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنْ هَوِيَ رَجُلٌ جَارِيَةً يَتِيمَةً أَوْ بِكْرًا، فَأَبَتْ فَاحْتَالَ، فَجَاءَ بِشَاهِدَيْ زُورٍ عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا، فَأَدْرَكَتْ، فَرَضِيَتِ الْيَتِيمَةُ، فَقَبِلَ الْقَاضِي شَهَادَةَ الزُّورِ، وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ بِبُطْلَانِ ذَلِكَ، حَلَّ لَهُ الْوَطْءُ.
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ذکوان نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی۔“ میں نے پوچھا کہ کنواری لڑکی شرمائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص اگر کسی یتیم لڑکی یا کنواری لڑکی سے نکاح کا خواہشمند ہو۔ لیکن لڑکی راضی نہ ہو اس پر اس نے حیلہ کیا اور دو جھوٹے گواہوں کی گواہی اس کی دلائی کہ اس نے لڑکی سے شادی کر لی ہے پھر جب وہ لڑکی جوان ہوئی اور اس نکاح سے وہ بھی راضی ہو گئی اور قاضی نے اس جھوٹی شہادت کو قبول کر لیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سارا ہی جھوٹ اور فریب ہے تب بھی اس سے جماع کرنا جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6971]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے گی۔“ میں نے عرض کیا: ”کنواری لڑکی تو شرمائے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔“ اس کے باوجود بعض لوگوں نے کہا ہے: ”اگر کوئی یتیم بچی یا کنواری لڑکی سے نکاح کرنا چاہے لیکن لڑکی نکاح پر رضامند نہ ہو تو یہ حیلہ کرے کہ دو جھوٹے گواہ لائے جو گواہی دیں کہ اس مرد نے اس عورت سے نکاح کیا ہے، جب لڑکی کو خبر پہنچی تو وہ بھی راضی ہوگئی، قاضی نے بھی جھوٹی گواہی قبول کر لی، حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ اس نے نکاح نہیں کیا۔ اس کے باوجود اس عورت سے جماع کرنا جائز ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6971]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنِ احْتِيَالِ الْمَرْأَةِ مَعَ الزَّوْجِ وَالضَّرَائِرِ:
باب: عورت کا اپنے شوہر یا سوکنوں کے ساتھ حیلہ کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6972
وَمَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ.
‏‏‏‏ اور جو اس باب میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اس کا بیان۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: Q6972]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6972
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَيُحِبُّ الْعَسَلَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ أَجَازَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ؟، فَقَالَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ، قُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ، وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ، قُلْتُ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِرَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟، قَالَ: لَا: قُلْتُ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ؟، قَالَ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، قُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ، قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَدَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، قَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قَالَتْ: قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلوہ (یعنی میٹھی چیز) اور شہد پسند کرتے تھے اور عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنی ازواج سے (ان میں سے کسی کے حجرہ میں جانے کے لیے) اجازت لیتے تھے اور ان کے پاس جاتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور ان کے یہاں اس سے زیادہ دیر تک ٹھہرے رہے جتنی دیر تک ٹھہرنے کا آپ کا معمول تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی قوم کی ایک خاتون نے شہد کی ایک کپی انہیں ہدیہ کی تھی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شربت پلایا تھا۔ میں نے اس پر کہا کہ اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حیلہ کروں گی چنانچہ میں نے اس کا ذکر سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے یہاں آئیں تو آپ کے قریب بھی آئیں گے اس وقت تم آپ سے کہنا یا رسول اللہ! شاید آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ اس پر آپ جواب دیں گے کہ نہیں۔ تم کہنا کہ پھر یہ بو کس چیز کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناگوار تھی کہ آپ کے جسم کے کسی حصہ سے بو آئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب یہ دیں گے کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا۔ اس پر کہنا کہ شہد کی مکھیوں نے غرفط کا رس چوسا ہو گا اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سودہ کے یہاں تشریف لے گئے تو ان کا بیان ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تمہارے خوف سے قریب تھا کہ میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات جلدی میں کہہ دیتی جبکہ آپ دروازے ہی پر تھے۔ آخر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر بو کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے میں نے کہا اس شہد کی مکھیوں نے غرفط کا رس چوسا ہو گا اور صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب آپ تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا۔ اس کے بعد جب حفصہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ شہد میں پھر آپ کو پلاؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ بیان کیا ہے کہ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں۔ سبحان اللہ یہ ہم نے کیا کیا گویا شہد آپ پر حرام کر دیا، میں نے کہا چپ رہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6972]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو بہت پسند کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے قریب ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور ان کے ہاں معمول سے زیادہ قیام فرمایا۔ میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ ان کی قوم سے ایک عورت نے انہیں ایک کپی شہد بطور ہدیہ بھیجا ہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شربت پلایا تھا۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: اللہ کی قسم! اب میں آپ کے متعلق ضرور کوئی حیلہ کروں گی، چنانچہ میں نے اس کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہیں کہا: جب تمہارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو آپ کے قریب بھی آئیں گے، اس وقت تم نے یہ کہنا ہوگا: اللہ کے رسول! کیا شاید آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ”نہیں“، تم کہنا: پھر یہ بو کیسی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناگوار تھی کہ آپ کے جسم کے کسی حصے سے بو آئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہ جواب دیں گے کہ حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا، اس پر ان سے کہنا کہ شاید شہد کی مکھیوں نے عرفط کا رس چوسا ہوگا۔ میں بھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) یہی بات کہوں گی اور صفیہ! تم نے بھی یہی کہنا ہوگا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو ان کا بیان ہے: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں! تمہارے خوف کی وجہ سے قریب تھا کہ میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات جلدی میں کہہ دوں جبکہ آپ ابھی دروازے ہی پر تھے۔ آخر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: پھر یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو حفصہ نے شہد پلایا ہے۔“ میں نے کہا: اس شہد کی مکھیوں نے عرفط کا رس چوسا ہوگا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی ایسے ہی کیا اور جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو شہد کا شربت نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔“ اس پر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سبحان اللہ! ہم نے آپ کو شہد سے محروم کر دیا ہے۔ میں نے ان سے کہا: خاموش رہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6972]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الاِحْتِيَالِ فِي الْفِرَارِ مِنَ الطَّاعُونِ:
باب: طاعون سے بھاگنے کے لیے حیلہ کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6973
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، فَلَمَّا جَاءَ بِسَرْغَ، بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ وَقَعَ بِالشَّأْمِ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ"، فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ سَرْغَ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّعُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ ابن عامر بن ربیعہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (سنہ 18 ھ ماہ ربیع الثانی میں) شام تشریف لے گئے۔ جب مقام سرغ پر پہنچے تو ان کو یہ خبر ملی کہ شام وبائی بیماری کی لپیٹ میں ہے۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ کسی سر زمین میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو اس میں داخل مت ہو، لیکن اگر کسی جگہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو وبا سے بھاگنے کے لیے تم وہاں سے نکلو بھی مت۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے واپس آ گئے۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث سن کر واپس ہو گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6973]
حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام (کا علاقہ فتح کرنے کے لیے) روانہ ہوئے۔ جب مقام سرغ پر پہنچے تو انہیں اطلاع ملی کہ شام وبائی بیماری کی لپیٹ میں ہے۔ اس دوران میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں پتہ چلے کہ کسی سرزمین میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو وہاں مت جاؤ۔ اور اگر کسی مقام پر وبا پھوٹ پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو راہ فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نقل مکانی نہ کرو۔“ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے واپس آگئے۔ ابن شہاب سالم بن عبداللہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث سن کر واپس ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6974
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ سَعْدًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْوَجَعَ، فَقَالَ:" رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ ثُمَّ بَقِيَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ، فَلَا يُقْدِمَنَّ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ بِأَرْضٍ وَقَعَ بِهَا، فَلَا يَخْرُجْ فِرَارًا مِنْهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس کے ذریعہ بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا اس کے بعد اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور وہ کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی واپس آ جاتا ہے۔ پس جو شخص کسی سر زمین پر اس کے پھیلنے کے متعلق سنے تو وہاں نہ جائے لیکن اگر کوئی کسی جگہ ہو اور وہاں یہ وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6974]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ ایک عذاب ہے جس کے ذریعے سے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا جو کبھی آتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے۔ جو کوئی کسی سرزمین میں اس کے پھیلنے کے متعلق سنے تو وہاں نہ جائے، لیکن اگر کوئی کسی مقام پر ہو اور وہاں یہ وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6974]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابٌ في الْهِبَةِ وَالشُّفْعَةِ:
باب: ہبہ پھیر لینے یا شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6975
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنْ وَهَبَ هِبَةً أَلْفَ دِرْهَمٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى مَكَثَ عِنْدَهُ سِنِينَ وَاحْتَالَ فِي ذَلِكَ ثُمَّ رَجَعَ الْوَاهِبُ فِيهَا فَلَا زَكَاةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا فَخَالَفَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهِبَةِ وَأَسْقَطَ الزَّكَاةَ.
‏‏‏‏ اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ہزار درہم یا اس سے زیادہ ہبہ کئے اور یہ درہم موہوب کے پاس برسوں رہ چکے پھر واہب نے حیلہ کر کے ان کو لے لیا۔ ہبہ میں رجوع کر لیا۔ ان میں سے کسی پر زکوٰۃ لازم نہ ہو گی اور ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف کیا جو ہبہ میں وارد ہے اور باوجود سال گزرنے کے اس میں زکوٰۃ ساقط ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: Q6975]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6975
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ، لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود چاٹ جاتا ہے ‘ ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6975]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود چاٹ جاتا ہے۔ ہمارے لیے اس طرح کی بری مثال مناسب نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6976
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّمَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ، فَلَا شُفْعَةَ"، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: الشُّفْعَةُ لِلْجِوَارِ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى مَا شَدَّدَهُ فَأَبْطَلَهُ، وَقَالَ: إِنِ اشْتَرَى دَارًا فَخَافَ أَنْ يَأْخُذَ الْجَارُ بِالشُّفْعَةِ، فَاشْتَرَى سَهْمًا مِنْ مِائَةِ سَهْمٍ ثُمَّ اشْتَرَى الْبَاقِيَ، وَكَانَ لِلْجَارِ الشُّفْعَةُ فِي السَّهْمِ الْأَوَّلِ، وَلَا شُفْعَةَ لَهُ فِي بَاقِي الدَّارِ وَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ فِي ذَلِكَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حکم ہر اس چیز میں دیا تھا جو تقسیم نہ ہو سکتی ہو۔ پس جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دئیے جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ شفعہ کا حق پڑوسی کو بھی ہوتا ہے پھر خود ہی اپنی بات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اگر کسی نے کوئی گھر خریدا اور اسے خطرہ ہے کہ اس کا پڑوسی حق شفعہ کی بنا پر اس سے گھر لے لے گا تو اس نے اس کے سو حصے کر کے ایک حصہ اس میں سے پہلے خرید لیا اور باقی حصے بعد میں خریدے تو ایسی صورت میں پہلے حصے میں تو پڑوسی کو شفعہ کا حق ہو گا۔ گھر کے باقی حصوں میں اسے یہ حق نہیں ہو گا اور اس کے لیے جائز ہے کہ یہ حیلہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6976]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر اس چیز میں دیا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو۔ جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں تو پھر شفعہ نہیں ہوتا۔“ اس کے باوجود بعض لوگوں نے کہا ہے: ”شفعہ کا حق پڑوسی اور ہمسائے کو بھی ہوتا ہے“، پھر جس چیز (ہمسائے کے حق شفعہ) کو مضبوط کیا تھا اسے خود ہی باطل قرار دیا اور کہا: ”اگر کسی نے کوئی گھر خریدا، پھر اسے خطرہ محسوس ہوا کہ اس کا پڑوسی شفعے کی بنیاد پر اس سے گھر لے لے گا تو اسے چاہیے کہ وہ مکان کے سو حصوں میں سے پہلے ایک حصہ خرید لے، پھر باقی حصے خرید کرے۔ ایسی صورت میں پڑوسی کو صرف پہلے خرید کردہ حصے میں شفعے کا حق ہوگا۔ مکان کے باقی حصوں میں اسے حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا۔ خریدار مکان کے متعلق اس قسم کا حیلہ کر سکتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6977
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، قَالَ جَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى سَعْدٍ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ، لِلْمِسْوَرِ: أَلَا تَأْمُرُ هَذَا أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِي الَّذِي فِي دَارِي؟، فَقَالَ: لَا أَزِيدُهُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةٍ إِمَّا مُقَطَّعَةٍ وَإِمَّا مُنَجَّمَةٍ، قَالَ: أُعْطِيتُ خَمْسَ مِائَةٍ نَقْدًا فَمَنَعْتُهُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، مَا بِعْتُكَهُ، أَوْ قَالَ: مَا أَعْطَيْتُكَهُ"، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ مَعْمَرًا لَمْ يَقُلْ هَكَذَا، قَالَ: لَكِنَّهُ قَالَ لِي هَكَذَا، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يَبِيعَ الشُّفْعَةَ، فَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ، فَيَهَبَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي الدَّارَ، وَيَحُدُّهَا وَيَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيُعَوِّضُهُ الْمُشْتَرِي أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلَا يَكُونُ لِلشَّفِيعِ فِيهَا شُفْعَةٌ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عمرو بن شرید سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ رکھا پھر میں ان کے ساتھ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو ابورافع نے اس پر کہا کہ اس کا چار سو سے زیادہ میں نہیں دے سکتا اور وہ بھی قسطوں میں دوں گا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے پانچ سو نقد مل رہے تھے اور میں نے انکار کر دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ بیچتا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے اس پر پوچھا کہ معمر نے اس طرح نہیں بیان کیا ہے۔ سفیان نے کہا کہ لیکن مجھ سے تو ابراہیم بن میسرہ نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ شفیع کو حق شفعہ نہ دے تو اسے حیلہ کرنے کی اجازت ہے اور حیلہ یہ ہے کہ جائیداد کا مالک خریدار کو وہ جائیداد ہبہ کر دے پھر خریدار یعنی موہوب لہ اس ہبہ کے معاوضہ میں مالک جائیداد کو ہزار درہم مثلاً ہبہ کر دے اس صورت میں شفیع کو شفعہ کا حق نہ رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6977]
حضرت عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا، پھر میں ان کے ساتھ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ (وہاں) ابورافع رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے میری سفارش نہیں کرتے کہ وہ میرا مکان خرید لیں جو میری حویلی میں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں تو چار سو درہم سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی قسطوں میں ادا کروں گا۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے تو اس کے پانچ سو نقد مل رہے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا نہ ہوتا: ”ہمسایہ اپنے قرب کے باعث زیادہ حق دار ہے۔“ تو میں تو تمہیں یہ مکان فروخت نہ کرتا یا تجھے نہ دیتا۔“ (راوی کہتا ہے کہ) میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ معمر نے تو اس طرح بیان نہیں کیا۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”لیکن مجھے تو ابراہیم بن میسرہ نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔“ بعض لوگ کہتے ہیں: ”جب کوئی اپنا مکان فروخت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حیلہ کرے اور حق شفعہ کو غیر مؤثر کرے۔ وہ اس طرح کہ بیچنے والا، خریدار کو وہ مکان ہبہ کر دے اور اس کی حد بندی کر کے اس کے حوالے کر دے۔ پھر خریدار اس ہبہ کے معاوضے میں مالک کو ایک ہزار بطور معاوضہ ادا کر دے، اس طرح شفعہ کرنے والے کو اس میں شفعہ کرنے کا حق نہیں رہے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيل/حدیث: 6977]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں