صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ رُؤْيَا يُوسُفَ:
باب: یوسف علیہ السلام کے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6991-2
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ فَاطِرٌ وَالْبَدِيعُ وَالْمُبْدِعُ وَالْبَارِئُ وَالْخَالِقُ وَاحِدٌ مِنَ الْبَدْوِ بَادِيَةٍ
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ یوسف میں) فرمایا ”جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا کہ اے میرے والد! میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو (خواب میں) دیکھا۔ دیکھتا ہوں کہ وہ میرے آگے سجدہ کر رہے ہیں۔ وہ بولے: میرے پیارے بیٹے! اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہاری دشمنی میں تم کو تکلیف دینے کے لیے کوئی چال چل کر رہیں گے۔ بیشک شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں میری اولاد میں سے چن لے گا اور تمہیں خوابوں کی تعبیر سکھائے گا اور جیسے اس نے اپنا احسان مجھ پر اور تیرے دادا پر پہلے پورا کیا اسی طرح تجھ پر اور یعقوب کی اولاد پر اپنا احسان پورا کرے گا (پیغمبری عطا کرے گا) بیشک تمہارا پروردگار بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ یوسف میں) فرمایا ”اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے ابا جان! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے اسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا اور اسی نے میرے ساتھ کیسا احسان اس وقت کیا جب مجھے قید خانہ سے نکالا اور آپ سب کو جنگل سے لے آیا اور بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کر دیتا ہے۔ بیشک وہی ہے علم والا، حکمت والا۔ اے رب! تو نے مجھے حکومت بھی دی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے خالق! تو ہی میرا کارساز دنیا و آخرت میں ہے۔ مجھے دنیا سے اپنا فرمانبردار بنا کر اٹھا اور مجھے صالحین سے ملا دے۔ «فاطر» «بديع»، «مبتدع»، «بارئ»، «خالق» ہم معنی ہیں۔ «بدء.»، «بادئة.» سے ہے یعنی جنگل اور دیہات۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: Q6991-2]
7. بَابُ رُؤْيَا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
باب: ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6991
قَالَ مُجَاهِدٌ أَسْلَمَا سَلَّمَا مَا أُمِرَا بِهِ وَتَلَّهُ وَضَعَ وَجْهَهُ بِالْأَرْضِ.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الصفات میں) فرمایا ”پس جب اسماعیل، ابراہیم (علیہما السلام) کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو ابراہیم نے کہا اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں پس تمہاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل نے جواب دیا: میرے والد! آپ کیجئے اس کے مطابق جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ پس جب وہ دونوں تیار ہو گئے اور اسے پیشانی کے بل الٹا لٹا دیا اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم! تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا بلاشبہ ہم اسی طرح احسان کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔“ مجاہد نے کہا کہ «أسلما» کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جھک گئے اس حکم کے سامنے جو انہیں دیا گیا تھا «وتله» یعنی ان کا منہ زمین سے لگا دیا، اوندھا لٹا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: Q6991]
8. بَابُ التَّوَاطُؤُ عَلَى الرُّؤْيَا:
باب: خواب کا توارد یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں۔
حدیث نمبر: 6991
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أُنَاسًا أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّ أُنَاسًا أُرُوا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ کچھ لوگوں کو خواب میں شب قدر (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی اور کچھ لوگوں کو دکھائی گئی کہ وہ آخری دس تاریخوں میں ہو گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6991]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُونِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ:
باب: قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6992
لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَا إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الآخَرُ إِنِّي أَرَانِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ {36} قَالَ لا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا ذَلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ {37} وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ {38} يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ سورة يوسف آية 36-39 وَقَالَ الْفُضَيْلُ عِنْدَ قَوْلِهِ يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ {39} مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ {40} يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَأْسِهِ قُضِيَ الأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ {41} وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ {42} وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَى سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ يَأَيُّهَا الْمَلأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِنْ كُنْتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ {43} قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأَحْلامِ بِعَالِمِينَ {44} وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِ {45} يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ {46} قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ {47} ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ {48} ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ {49} وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ سورة يوسف آية 39-50. وَادَّكَرَ افْتَعَلَ مِنْ ذَكَرَ أُمَّةٍ قَرْنٍ وَتُقْرَأُ أَمَهٍ نِسْيَانٍ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَعْصِرُونَ الْأَعْنَابَ وَالدُّهْنَ تُحْصِنُونَ تَحْرُسُونَ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اور (یوسف) کے ساتھ جیل خانہ میں دو اور جوان قیدی داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں انگور کا شیرہ نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر خوان میں روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں، اس میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ آپ ہم کو ان کی تعبیر بتائیے، بیشک ہم تو آپ کو بزرگوں میں سے پاتے ہیں؟ وہ بولے جو کھانا تم دونوں کے کھانے کے لیے آتا ہے وہ ابھی آنے نہ پائے گا کہ میں اس کی تعبیر تم سے بیان کر دوں گا۔ اس سے پہلے کہ کھانا تم دونوں کے پاس آئے یہ اس میں سے ہے جس کی میرے پروردگار نے مجھے تعلیم دی ہے میں تو ان لوگوں کا مذہب پہلے ہی سے چھوڑے ہوئے ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے وہ انکاری ہیں اور میں نے تو اپنے بزرگوں ابراہیم اور یعقوب اور اسحاق کا دین اختیار کر رکھا ہے۔ ہم کو کسی طرح لائق نہیں کہ اللہ کے ساتھ ہم کسی کو بھی شریک قرار دیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ہمارے اوپر اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اے میرے قیدی بھائیو! جدا جدا بہت سے معبود اچھے یا اللہ اکیلا اچھا جو سب پر غالب ہے؟ تم لوگ تو اسے چھوڑ کر بس چند فرضی خداؤں کی عبادت کرتے ہو جن کے نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے کوئی بھی دلیل اس پر نہیں اتاری۔ حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ اسی نے حکم دیا ہے کہ سوا اس کے کسی کی پوجا پاٹ نہ کرو۔ یہی دین سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ اے میرے دوستو! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب ملازم بن کر پلایا کرے گا اور رہا دوسرا تو اسے سولی دی جائے گی۔ پھر اس کے سر کو پرندے کھائیں گے۔ وہ کام اسی طرح لکھا جا چکا ہے جس کی بابت تم دونوں پوچھ رہے ہو اور دونوں میں سے جس کے متعلق رہائی کا یقین تھا اس سے کہا کہ میرا بھی ذکر اپنے آقا کے سامنے کر دینا لیکن اسے اپنے آقا سے ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا تو وہ جیل خانہ میں کئی سال تک رہے اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں اور انہیں کھائے جاتی ہیں سات دبلی گائیں اور سات بالیاں سبز اور سات ہی خشک، اے سردارو! مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے لیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خواب ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر کے ماہر نہیں ہیں اور دو قیدیوں میں سے جس کو رہائی مل گئی تھی وہ بولا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد پڑا کہ میں ابھی اس کی تعبیر لائے دیتا ہوں، ذرا مجھے جانے دیجئیے۔ اے یوسف! اے خوابوں کی سچی تعبیر دینے والے! ہم لوگوں کو مطلب تو بتائیے اس خواب کا کہ سات گائیں موٹی ہیں اور انہیں سات دبلی گائیں کھائے جاتی ہیں اور سات بالیاں سبز ہیں اور سات ہی خشک تاکہ میں لوگوں کے پاس جاؤں کہ ان کو بھی معلوم ہو جائے۔ (یوسف علیہ السلام نے) کہا تم سات سال برابر کاشتکاری کئے جاؤ پھر جو فصل کاٹو اسے اس کی بالوں ہی میں لگا رہنے دو بجز تھوڑی مقدار کے کہ اسی کو کھاؤ پھر اس کے بعد سات سال سخت آئیں گے کہ اس ذخیرہ کو کھائیں جائیں گے جو تم نے جمع کر رکھا ہے بجز اس تھوڑی مقدار کے جو تم بیج کے لیے رکھ چھوڑو گے پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں کے لیے خوب بارش ہو گی اور اس میں وہ شیرہ بھی نچوڑیں گے اور بادشاہ نے کہا کہ یوسف کو میرے پاس لاؤ پھر جب قاصدان کے پاس پہنچا تو (یوسف علیہ السلام نے) کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ۔ «وادكر»، «ذكر» سے افتعال کے وزن پر ہے۔ «أمة» (یسکون میم) بمعنی «قرن» یعنی زمانہ ہے اور بعض نے «أمة» (میم کے نصب کے ساتھ) پڑھا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «يعصرون» کا معنی انگور نچوڑیں گے اور تیل نکالیں گے۔ «تهنون» ای «تحرسون.» یعنی حفاظت کرو گے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: Q6992]
حدیث نمبر: 6992
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ".
ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں اتنے دنوں قید میں رہتا جتنے دنوں یوسف علیہ السلام پڑے رہے اور پھر میرے پاس قاصد بلانے آتا تو میں اس کی دعوت قبول کر لیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
10. بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ:
باب: جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 6993
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: إِذَا رَآهُ فِي صُورَتِهِ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو کسی دن مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن سیرین نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص آپ کی صورت میں دیکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6994
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ثابت بنانی نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6995
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَرَاءَى بِي".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، کہا مجھ کو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6995]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6996
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ"، تَابَعَهُ يُونُسُ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ.
ہم سے خالد بن خلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔“ اس روایت کی متابعت یونس نے اور زہری کے بھتیجے نے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6996]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6997
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَكَوَّنُنِي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان مجھ جیسا نہیں بن سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6997]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة