🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب جزاء الوالدين
والدین کو بدلہ دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11
11/14 (حسن الإسناد) عن أبي مُرَّةَ؛ مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ"أَنَّهُ رَكِبَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى أَرْضِهِ بـ (العقيق) فَإِذَا دَخَلَ أَرْضَهُ صَاحَ بِأَعْلَى صوته: السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ يَا أُمَّتَاهُ! تَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. يَقُولُ: رَحِمَكِ اللَّهُ كَمَا رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا. فَتَقُولُ: يَا بُنَيَّ! وَأَنْتَ. فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَرَضِيَ عَنْكَ، كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا" قَالَ: مُوسَى: كَانَ اسْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عمرو.
ابومرۃ ام ہانی کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے۔ (وہ ام ہانی) جو ابوطالب کی بیٹی تھیں، اس نے ان کو بتایا کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سوار ہو کر اپنی زمین میں گیا جو العقیق نامی جگہ پر تھی، جب وہ اپنی زمین میں داخل ہوا تو اس نے بآواز بلند کہا: اے امی جان! «عَلَيْكِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ»، انہوں نے کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» اس نے کہا: «رَحِمَكِ اللَّهُ رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا» تو انہوں نے کہا: «يَا بُنَيَّ، وَأَنْتَ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَرَضِيَ عَنْكَ كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا» موسیٰ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ کا نام عبداللہ بن عمرو تھا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب عقوق الوالدي
والدین کی نافرمانی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12
12/15 (صحيح) عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟" ثَلَاثًا. قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:"الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ - وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا - أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ" مَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حتى قلت: ليته سكت.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے تو سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”سنو اور جھوٹی بات کہنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بار بار کہتے رہے حتی کہ میں نے کہا: کاش آپ خاموش ہو جائیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب لعن الله من لعن والديه
جو اپنے والدین پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
13/17 (صحيح) عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ: هَلْ خَصَّكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً؟ قَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ؛ إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي، ثُمَّ أَخْرَجَ صَحِيفَةً، فَإِذَا فِيهَا مَكْتُوبٌ:"لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا" (1) .
ابوطفیل سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسی بات بھی بتائی ہے جو تمام لوگوں میں سے کسی کو نہیں بتائی؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات نہیں بتائی جو اوروں کو نہیں بتائی مگر جو میری تلوار کے نیام میں ہے۔ پھر ایک صحیفہ نکالا (تلوار کی نیام میں سے) تو اس میں لکھا ہوا تھا: اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے، اللہ اس پر لعنت کرے جو زمین کی حد بندی کا نشان چرا لے، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے والدین پر لعنت کی، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے بدعتی کو جگہ دی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب يبر والديه ما لم يكن معصية
والدین کے ساتھ حسن سلوک سے ہی پیش آئے جب تک کام نافرمانی کا نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
14/18 (حسن) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِسْعٍ:"لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ أَوْ حُرِّقْتَ، وَلَا تَتْرُكَنَّ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا؛ وَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ (2) ، وَلَا تَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دنياك؛ فاخرج لهما، ولا تُنَازِعَنَّ وُلَاةَ الْأَمْرِ، وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّكَ أَنْتَ (1) ، وَلَا تفرِر مِنَ الزَّحْفِ؛ وَإِنْ هَلَكْتَ وَفَرَّ أَصْحَابُكَ، وَأَنْفِقْ مِنْ طَولك عَلَى أَهْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْ أَهْلِكَ، وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" (2) .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نو باتوں کی وصیت فرمائی ہے وہ یہ ہیں ؛ اگر تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے پھر بھی اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، فرض نماز کو کبھی جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، جس نے اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا اس سے (اللہ اور اس کے رسول کا) ذمہ بری ہو گیا، کبھی شراب نہ پینا یہ ہر برائی کی کنجی ہے، اپنے والدین کی اطاعت کرنا، اگرچہ وہ تمہیں حکم دیں کہ اپنی دنیا سے نکل جاؤ (مطلب یہ کہ دنیا کا سارا سامان ان کے حوالے کر دو) تو ان کی خاطر نکل جاؤ، حکمرانوں سے جھگڑے نہ کرنا، اگر تمہارا خیال ہو کہ تم اس کے لائق ہو (یعنی تم ہی اکیلے حق پر ہو)، جنگ سے کبھی نہ بھاگنا اگرچہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تمہارے ساتھی بھاگ جائیں اور اپنے مال سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا اور اپنے اہل و عیال سے اپنی لاٹھی کو اٹھا نہ رکھنا (مطلب یہ ہے کہ ادب کا کوڑا تربیت کے لیے قائم رکھنا) اور انہیں اللہ عزوجل کی ذات کے بارے میں ڈراتے رہنا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15
15/20 (صحيح) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:"جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْجِهَادَ، فَقَالَ:"أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" فَقَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ:"فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا وہ جہاد کا ارادہ رکھتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں جا کر جہاد کرو (ان کی خدمت کرو، یہی جہا د ہے)۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب من أدرك والديه فلم يدخل الجنة
جو اپنےوالدین کو پائے اور جنت میں نہ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
16/21 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"رَغِمَ (3) أَنْفُهُ، رَغِمَ أَنْفُهُ، رَغِمَ أَنْفُهُ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ؟ قَالَ:"مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عنده الْكِبْرِ (4) ، أَوْ أَحَدَهُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو، اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو، اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو۔“ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کس کی؟، فرمایا: ”جس نے اپنے والدین کو اپنے پاس بڑھاپے میں پا لیا (دونوں کو) یا ان میں سے ایک کو پھر وہ جہنم میں داخل ہو گیا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب لا يستغفر لأبيه المشرك
اپنے مشرک باپ کے حق میں دعائے مغفرت نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17
17/23 (حسن الإسناد) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ} [الإسراء: 24] إِلَى قَوْلِهِ: {كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا} [الإسراء: 24] فَنَسَخَتْهَا الْآيَةُ فِي بَرَاءَةَ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} [التوبة: 113] .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اللہ عزوجل کے اس قول کے بارے میں: «‏إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ» ”اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو اف مت کہہ“ اس قول تک «كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا‏»، ”جیسے انہوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا“ اسے سورۃ براءت کی آیت نے منسوخ کر دیا: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ”نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ یقیناً وہ جہنمی ہیں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب بر الوالد المشرك
مشرک باپ سے بھلائی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
18/24 (صحيح) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ:: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: كَانَتْ أُمِّي حَلَفَتْ، أَنْ لَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ، حَتَّى أُفَارِقَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطُعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15] . وَالثَّانِيَةُ: أَنِّي كُنْتُ أَخَذْتُ سَيْفًا أَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَبْ لِي هَذَا. فَنَزَلَتْ: {يسألونك عن الأنفال}. وَالثَّالِثَةُ: أَنِّي مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَقْسِمَ مَالِي، أَفَأُوصِي بِالنِّصْفِ؟ فَقَالَ:"لَا". فَقُلْتُ: الثُّلُثُ؟ فَسَكَتَ، فَكَانَ الثُّلُثُ بَعْدَهُ جَائِزًا. وَالرَّابِعَةُ: إِنِّي شَرِبْتُ الْخَمْرَ مَعَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَضَرَبَ رجل منهم أَنْفِي بلحيِ جملٍ (1) ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ عز وجل تحريم الخمر.
سیدنا سعد بن ابی وقاس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں قرآن میں چار آیتیں نازل ہویں ہیں۔ میری والدہ نے قسم کھا لی تھی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا وہ کچھ نہ کھائیں گی نہ پئیں گی۔ اس وقت اﷲ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطعهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا» ”اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ۔“ دوسری آیت: میں نے ایک تلوار لی جو مجھے اچھی لگی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے حبہ کر دیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ» ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ اور تیسری آیت: میں بیمار پڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنا مال غریبوں مسکینوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ کیا میں نصف مال کی وصیت کر جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: کیا ایک تہائی کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے لیکن آپ کے بعد ایک تہائی کی وصیت جائز ہو گئی۔ اور چوتھی آیت: میں نے انصار کے چند لوگوں کے ساتھ شراب پی، تو ان میں سے ایک شخص نے اونٹ کا جبڑا لے کر میری ناک پر مار دیا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اﷲ عزوجل نے شراب کی حرمت والی آیت نازل فرمائی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
19/25 (صحيح) عن أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً، فِي عَهْدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أصِلُها؟ قَالَ:"نَعَمْ". قَالَ: ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا: {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدين} [الممتحنة: 8] .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس میری ماں اسلام کی طرف راغب ہو کر آئیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کر دی: «‏لاَ يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ» ”اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
20/26 (صحيح) عن ابن عمر قال: رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً سِيَرَاءَ (2) تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ابْتَعْ هَذِهِ، فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَإِذَا جَاءَكَ الْوُفُودُ. قَالَ:"إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خلاق له". فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قلتَ فِيهَا مَا قُلْتَ. قَالَ:"إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ تَبِيعَهَا أَوْ تَكْسُوَهَا". فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک ریشمی جبہ دیکھا جو بیچا جا رہا تھا تو کہا: یا رسول اﷲ! اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن یا جب کوئی وفد آئے اسے پہنا کیجیے۔ فرمایا: ”اس قسم کا لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ حلے لائے گئے، ایک حلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ تو عمر نے کہا: میں اس کو کیسے پہنوں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں جو فرمانا تھا فرما چکے ہیں؟ فرمایا: ”میں نے اس لیے تمہیں نہیں دیا کہ تم خود پہن لو بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم فروخت کر کے فائدہ اٹھا لو یا عورتوں کو پہنا دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ نے یہ جبہ مکہ میں اپنے بھائی کی طرف بھیج دیا اور ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں