صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب لا يسب والديه
والدین کو برا بھلا نہ کہنا
حدیث نمبر: 21
21/27 (صحيح) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ". فَقَالُوا: كَيْفَ يَشْتِمُ؟ قَالَ:"يَشْتِمُ الرَّجُلَ، فَيَشْتُمُ أباه وأمه".
سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو برا بھلا کہے۔“ صحابہ نے تعجب سے پوچھا: کوئی کیسے برا بھلا کہہ سکتا ہے؟ فرمایا: ”وہ دوسرے آدمی کو گالی دیتا ہے تو وہ (جواب میں) اس کے باپ اور اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 22
22/28 (حسن الإسناد) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بن العاص قال::"مِنَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَسْتَسِبَّ الرَّجُلُ لِوَالِدِهِ".
سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے لیے گالیوں کا سبب بنے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)
13. باب عقوبة عقوق الوالدين
والدین کی نافرمانی کی سزا
حدیث نمبر: 23
23/29 (صحيح) عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجَّلَ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةُ مَعَ مَا يدخر له؛ من البغى وقطيعة الرحم".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو اس بات کے زیادہ لائق ہو کہ اس کے کرنے والے کو جلد (دنیا میں) سزا دی جائے اس کے ساتھ جو اس کے لیے (آخرت میں) ذخیرہ کی گئی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: (صحيح)
14. باب دعوة الوالدين
والدین کی دعا
حدیث نمبر: 24
24/32 (حسن) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَهُنَّ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کی دعائیں ہیں جن کو قبول کر لیا جاتا ہے جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور والد کی اپنے بیٹے کے خلاف دعا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 25
25/33 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَا تَكَلَّمَ مَوْلُودٌ مِنَ النَّاسِ فِي مَهْدٍ إِلَّا عيسى بن مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ [وَسَلَّمَ] وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ" قِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَمَا صَاحِبُ جُرَيْجٍ؟ قَالَ:"فَإِنَّ جُرَيْجًا كَانَ رَجُلًا رَاهِبًا فِي صَوْمَعَةٍ لَهُ، وَكَانَ رَاعِيَ بَقَرٍ يَأْوِي إِلَى أَسْفَلِ صَوْمَعَتِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ تَخْتَلِفُ إِلَى الرَّاعِي، فَأَتَتْ أُمُّهُ يَوْمًا فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ! وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ فِي نَفْسِهِ - وَهُوَ يُصَلِّي - أُمِّي وَصَلَاتِي؟ فَرَأَى أَنْ يُؤْثِرَ صَلَاتَهُ، ثُمَّ صَرَخَتْ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ فِي نَفْسِهِ: أُمِّي وَصَلَاتِي؟ فَرَأَى أَنْ يُؤْثِرَ صَلَاتَهُ. ثُمَّ صَرَخَتْ بِهِ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: أمي وصلاتى. فرأى أن يُؤْثِرَ صَلَاتَهُ. فَلَمَّا لَمْ يُجِبْهَا قَالَتْ: لَا أَمَاتَكَ اللَّهُ يَا جُرَيْجُ! حَتَّى تَنْظُرَ فِي وَجْهِ الْمُومِسَاتِ. ثُمَّ انْصَرَفَتْ فأُتَيَ الْمَلِكُ بتلك المرأة ولدت (1) . وَلَدَتْ فَقَالَ: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ. قَالَ: أَصَاحِبُ الصَّوْمَعَةِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: اهْدِمُوا صَوْمَعَتَهُ وَأْتُونِي بِهِ، فَضَرَبُوا صَوْمَعَتَهُ بِالْفُئُوسِ، حَتَّى وَقَعَتْ. فَجَعَلُوا يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ؛ ثُمَّ انْطُلِقَ بِهِ، فَمَرَّ بِهِ عَلَى الْمُومِسَاتِ، فَرَآهُنَّ فَتَبَسَّمَ، وَهُنَّ يَنْظُرْنَ إِلَيْهِ فِي النَّاسِ. فَقَالَ الْمَلِكُ: مَا تَزْعُمُ هَذِهِ؟ قَالَ: مَا تَزْعُمُ؟ قَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ وَلَدَهَا مِنْكَ. قَالَ: أَنْتِ تَزْعُمِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: أَيْنَ هذا الصغير؟ قالوا: هذا فِي حِجْرِهَا، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ. فَقَالَ: مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: رَاعِي الْبَقَرِ. قَالَ الْمَلِكُ: أَنَجْعَلُ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: مِنْ فِضَّةٍ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَمَا نَجْعَلُهَا؟ قَالَ: رُدُّوهَا كَمَا كَانَتْ. قَالَ: فَمَا الَّذِي تَبَسَّمْتَ؟ قَالَ: أَمْرًا عَرَفْتُهُ، أَدْرَكَتْنِي دَعْوَةُ أُمِّي، ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کسی بچے نے گود میں بات نہیں کی سوائے عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جریج والے بچے کے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا نبی اﷲ! جریج والا بچہ کون ہے؟ فرمایا:”جریج ایک عبادت گزار اور راہب آدمی تھا اور اپنے عبادت خانے میں تھا۔ ایک گائیوں کا چرواہا اس کے عبادت خانے کے نیچے رات کو رہتا تھا۔ اس گاؤں کے باشندوں میں سے ایک عورت اس چرواہے کے پاس آتی اور جاتی تھی۔ ایک دن جریج کی ماں اس کے پاس آئی اور کہا: اے جریج! اور وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ جریج نے دل میں سوچا جب کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ میری ماں بلا رہی ہے اور میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ اس نے دل میں یہی سوچا کہ نماز کو ترجیح دے۔ پھر اس نے دوبارہ چلا کر پکارا۔ اس نے دل میں کہا: میری ماں مجھے بلا رہی ہے اور میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس نے یہی سوچا کہ اپنی نماز کو ترجیح دے۔ پھر تیسری دفعہ وہ چلائی۔ اس نے پھر سوچا میری ماں مجھے بلا رہی ہے اور یہ کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ اس نے یہی سوچا کہ اپنی نماز کو ترجیح دے۔ جب جریج نے ماں کو جواب نہیں دیا تو اس نے کہا: اے جریج! اللہ تجھے موت نہ دے جب تک تو بدکار عورتوں کا سامنا نہ کر لے۔ پھر وہ چلی گئی۔ بادشاہ کے پاس اس(گاؤں والی) عورت کو لایا گیا اور اس نے بچے کو جنم دے دیا تھا۔ بادشاہ نے پوچھا: یہ لڑکا کس کا ہے۔ اس نے کہہ دیا کہ جریج کا۔ بادشاہ نے کہا: وہی جو عبادت خانے میں رہتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ جریج کے عبادت خانے کو ڈھا دو اور اسے میرے پاس لے آؤ۔ لوگوں نے کسیوں سے اس کے عبادت خانے پر حملہ کر دیا یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ انہوں نے رسیوں کے ساتھ اس کے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ ملا کر جکڑ دیا۔ پھر اس کو لے جایا گیا۔ تو اس کو بدکار عورتوں کے پاس سے گزارا گیا، تو اس نے ان کو دیکھا تو مسکرا دیا اور وہ اس کو لوگوں میں دیکھ رہی تھیں۔ تو بادشاہ نے (جریج سے) کہا: (تمہیں پتا ہے)یہ عورت کیا کہہ رہی ہے! اس نے کہا: کیا کہہ رہی ہے؟ اس نے کہا: وہ یہ کہہ رہی ہے کہ اس کا یہ بچہ تیرے سے ہے۔ تو اس نے ایک عورت سے کہا: تم یہ کہہ رہی ہو۔ اس نے کہا: ہاں۔ جریج نے کہا: وہ چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اس کی گود میں ہے۔ تو وہ اس طرف متوجہ ہوا اور بچہ سے پوچھا: تیرا باپ کون ہے؟ بچہ بولا: گائیوں کا چرواہا۔ بادشاہ نے کہا: کیا میں آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنوا دوں۔ جریج نے کہا: نہیں۔ کہا: کیاچاندی کا بنوا دوں؟ کہا: نہیں۔ کہا: ہم اس کو کس کا بنا دیں؟ کہا: ویسا ہی تعمیر کروا دو جیسا تھا۔ بادشاہ نے کہا: کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے تو مسکرایا تھا؟ جریج نے کہا: یہ ایک بات تھی جسے میں جانتا تھا۔ میری ماں کی بددعا مجھے لگ گئی تھی۔ پھر اس نے لوگوں کو پورا قصہ سنایا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: (صحيح)
15. باب عرض الإسلام على الأم النصرانية
عیسائی ماں کو اسلام کی دعوت دینا
حدیث نمبر: 26
26/34 (حسن) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا سَمِعَ بِي أَحَدٌ، يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ إِلَّا أَحَبَّنِي، إِنَّ أُمِّي كُنْتُ أُرِيدُهَا عَلَى الْإِسْلَامِ فَتَأْبَى، فَقُلْتُ لَهَا فَأَبَتْ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: ادع الله لَهَا، فَدَعَا، فَأَتَيْتُهَا وَقَدْ أَجَافَتْ عَلَيْهَا الْبَابَ - فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! إِنِّي أَسْلَمْتُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلِأُمِّي، فَقَالَ:"اللَّهُمَّ! عَبْدُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأُمُّهُ، أَحِبَّهُمَا إِلَى النَّاسِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: میرے متعلق جو بھی عیسائی اور یہودی سنے گا وہ مجھ سے محبت کرے گا۔ میں اپنی ماں کو جب اسلام پر آمادہ کرتا تو وہ انکار کر دیتیں۔ میں نے ان کو (ایک بار پھر مسلمان ہونے کا) کہا: تو انہوں نے انکار کر دیا۔ تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میری ماں کے حق میں اللہ سے دعا کریں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ اس کے بعد میں والدہ کے پاس آیا۔ انہوں نے دروازہ بند کر رکھا تھا۔ کہنے لگیں: اے ابوہریرہ! میں مسلمان ہو گئی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا میں نے کہا: میرے لیے اور میری ماں کے لیے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ، عَبْدُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأُمُّهُ، أَحِبَّهُمَا إِلَى النَّاسِ» ”اے اللہ! تیرا بندہ ابوہریرہ اور اس کی ماں ہے تو ان دونوں کو لوگوں کی نگاہ میں محبوب بنا دے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: (حسن)
16. باب بر الوالدين بعد موتهما
والدین کی وفات کے بعد ان سے حسن سلوک کرنا
حدیث نمبر: 27
27/36 (حسن الإسناد) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" تُرْفَعُ لِلْمَيِّتِ بَعْدَ مَوْتِهِ دَرَجَتُهُ. فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَيُّ شَيْءٍ هَذِهِ؟ فيقال:"ولدك استغفر لك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میت کے درجات اس کی موت کے بعد بھی بلند کر دئیے جاتے ہیں۔ تو وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! یہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے میرے درجات بلند ہوئے ہیں؟ تو کہا جاتا ہے: تیرے بیٹے نے تیرے لیے بخشش طلب کی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)
حدیث نمبر: 28
28/37 (صحيح الإسناد) عن محمد بن سيرين قال: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ:"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، وَلِأُمِّي، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُمَا" قَالَ لِي مُحَمَّدٌ: فَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُ لَهُمَا؛ حَتَّى نَدْخُلَ فِي دَعْوَةِ أَبِي هريرة.
محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک رات ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے پاس تھے، تو انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي هُرَيْرَةَ، وَلِأُمِّي، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُمَا» ”اے اللہ! میری اور میری والدہ کی، اور جو ان دونوں کے لیے دعائے مغفرت کرے ان سب کی مغفرت کر دے۔“ محمد نے مجھ سے کہا: ہم ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا میں شامل ہو جائیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
حدیث نمبر: 29
29/38 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَاتَ الْعَبْدُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو له".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین اعمال کے: جاری ہونے والا صدقہ، علم کا وہ سلسلہ جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 30
30/39 (صحيح) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تُوصِ، أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ:"نَعَمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے، کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اﷲ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: (صحيح)