صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب بر من كان يصله أبوه
باپ کے دوستوں سے حسن سلوک کرنا
حدیث نمبر: 31
31/41 (صحيح) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب نیکیوں سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: (صحيح)
18. باب لا يسمي الرجل أباه، ولا يجلس قبله ولا يمشي أمامه
آدمی اپنے باپ کا نام نہ لے، ان سے پہلے نہ بیٹھے اور ان کے آگے آگے نہ چلے
حدیث نمبر: 32
32/44 (صحيح الإسناد) عن عروة - أَوْ غَيْرِهِ - أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ. فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا: مَا هَذَا مِنْكَ؟ فَقَالَ: أَبِي. فَقَالَ:" لَا تُسَمِّهِ بِاسْمِهِ، وَلَا تَمْشِ أمامه، ولا تجلس قبله".
عروہ سے مروی ہے یا کسی اور سے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو دیکھا تو ان میں سے ایک کو کہا: یہ تمہارا کیا لگتا ہے؟ تو اس نے کہا: یہ میرا باپ ہے۔ تو انہوں نے کہا: اس کا نام لے کر اس کو نہ پکارنا، نہ اس کے آگے چلنا اور نہ اس سے پہلے بیٹھنا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 32]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
19. باب هل يكني أباه؟
کیا اپنے باپ کی کنیت بیان کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 33
33/46 (صحيح الإسناد) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" لَكِنْ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ قَضَى".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: لیکن جو ابوحفص عمر ہیں ان کا یہ فیصلہ ہے۔ (انہوں نے اپنے باپ کی کنیت بیان کی) (عرب لوگوں کے ہاں کنیت سے پکارنا بہت بڑا احترام ہے)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
20. باب وجوب صلة الرحم
صلہ رحمی واجب ہے
حدیث نمبر: 34
34/48 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى:"يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بَنِي هَاشِمٍ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سأبلها ببلالها" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ» ”اور اپنے قریب کے قبیلوں والوں کو ڈراو۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور پکارا: ”اے بنی کعب بن لوئی! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے بنی عبد مناف! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے بنی ہاشم! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، اے بنی عبد المطلب! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، اے فاطمہ بنت محمد! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، میں تیرے لیے اللہ سے بچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا ہاں تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور تعلق ہے تو میں اس کا حق ادا کرتا رہوں گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: (صحيح)
21. باب صلة الرحم
صلہ رحمی
حدیث نمبر: 35
35/49 (صحيح) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أعرابيا عرض لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرِهِ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ؟ قَالَ:"تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وتؤتي الزكاة، وتصل الرحم".
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر میں ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور اس نے عرض کیا، آپ مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داری کو ملاؤ۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 36
36/50 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخَلْقَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَقَالَ: مَهْ! قَالَتْ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ، قَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلَى يَا رَبِّ! قَالَ: فَذَلِكَ لَكِ" ثُمَّ قَالَ أَبُو هريرة: اقرأوا إِنْ شِئْتُمْ: {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وتقطعوا أرحامكم} [محمد: 22] .
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ عزوجل نے مخلوقات کو پیدا کیا جب فارغ ہو گیا تو رشتہ داری کھڑی ہو گئی۔“ اللہ نے فرمایا: ”کیا بات ہے۔“ عرض کیا: یہ تجھ سے قطع رحمی سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”کیا تو اس سے راضی نہیں ہے، جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا۔ جو تجھے توڑے گا میں اسے توڑوں گا۔“ رحم نے کہا: جی ہاں اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ فرمایا: ”یہ تجھے حق دے دیا گیا۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے کہا: اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو: «فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ» ”پھر یقیناً تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کر دو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: (صحيح)
22. باب فضل صلة الرحم
صلہ رحمی کی فضیلت
حدیث نمبر: 37
37/52 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:"أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ. قَالَ:"لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ (1) الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ على ذلك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں۔ وہ قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں وہ مجھ سے جہالت (لڑائی) کرتے ہیں اور میں ان سے برداشت اور بردباری سے کام لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر بات ایسی ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو۔ اور جب تک تم اسی حالت پر قائم رہو گے اللہ کی طرف سے ان کے خلاف ایک مدد کرنے والا تمہارے ساتھ ہمیشہ موجود رہے گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 38
38/53 (صحيح) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ؛ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا الرَّحْمَنُ، وَأَنَا خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَاشْتَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، ومن قطعها بتَتّه".
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ”میں رحمٰن ہوں اور میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کے لیے اپنے نام سے نام نکالا، جو اسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 39
39/54 عن أبى العنبس قال: دخلت على عبد الله بن عمرو في الوهط- يعنى: أرضاً له بالطائف - فقال: عطف لنا النبي صلى الله عليه وسلم إصبعه فقال:"الرحم شجنة (2) من الرحمن، من يصلها يصله، ومن يقطعها يقطعه، لها لسان طلق (3) ذلق (4) يوم القيامة".
ابوعنبس سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس ”وھط“ میں گیا یعنی وہ زمین جو ان کی طائف میں تھی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنی انگلی موڑی اور فرمایا: ”رشتہ داری رحمٰن سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے۔ جو اسے ملائے گا وہ (اللہ) اسے ملائے گا اور جو اسے توڑے گا وہ اسے توڑ دے گا۔ جس کی قیامت کے دن ایک زبان ہو گی جو تیز تیز بولے گی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 40
40/55 عن عائشة رضي الله عنها؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"الرحم شجنة من الله، من وصلها وصله الله، ومن قطعها قطعه الله".
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم اﷲ کے نام سے نکلی ہوئی ایک جڑ ہے جو اسے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑے گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: (صحيح)