صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب ليس المؤمن بالطعان
مومن طعن و تشنیع کرنے والا نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 237
237/312 (صحيح) عن عبد الله [ هو ابن مسعود] ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" ليس المؤمن بالطعان، ولا باللعان، ولا الفاحش، ولا البذيء".
سیدنا عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن نہ تو طعنے دینے والا ہوتا ہے اور نہ لعنتیں کرنے والا، نہ فحش کلامی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ گالی گلوچ کرنے والا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 237]
حدیث نمبر: 238
238/313 (حسن صحيح) عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" لا ينبغي لذي الوجهين أن يكون أميناً".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رخے آدمی کے لائق نہیں ہے کہ وہ امانت دار ہو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 238]
حدیث نمبر: 239
293/314 (صحيح الإسناد) عن عبد الله [ هو ابن مسعود] قال:"ألأم أخلاق المؤمن الفحش".
سیدنا عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مومن کے اخلاق میں سے سب سے زیادہ قابل ملامت بیہودہ گوئی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 239]
132. باب اللعان
حدیث نمبر: 240
240/316 (صحيح) - عن أبي الدرداء قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن اللعانين لا يكونون يوم القيامة شهداء ولا شفعاء".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ بنیں گے اور نہ سفارشی بنیں گے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 240]
حدیث نمبر: 241
241/317 (صحيح) - عن أبي هريرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا ينبغي للصديق أن يكون لعاناً".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدیق کے لائق نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 241]
حدیث نمبر: 242
242/318 (صحيح الإسناد) - عن حذيفة قال:" ما تلاعن قوم قط إلا حق عليهم اللعنة".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی قوم لعنت کرتی ہے تو اسی پر لعنت عائد ہو جاتی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 242]
133. باب من لعن عبده فأعتقه
حدیث نمبر: 243
243/319 (صحيح) - عن عائشة، أنا أبا بكر لعن بعض رقيقه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" يا أبا بكر! اللعانين والصديقين؟! (1) كلا ورب الكعبة" (مرتين أو ثلاث) . فأعتق أبو بكر يومئذ بعض رقيقه ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم. فقال: لا أعود.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی غلام پر لعنت کر دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! لعنت کرنے والے بھی اور صدیق بھی؟ ہر گز نہیں“، رب کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی غلام کو اس دن آزاد کر دیا، اور اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات میں حاضر ہو کر کہا: میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 243]
134. باب لعن الكافر
حدیث نمبر: 244
244/321 (صحيح) - عن أبي هريرة قال: قيل: يا رسول الله! ادع الله على المشركين. قال:"إني لم أبعث لعّاناً، ولكن بعثت رحمةً".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! مشرکین کے خلاف بددعا کیجئے۔ فرمایا: ”مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 244]
135. باب النمام
حدیث نمبر: 245
245/322 (صحيح) - عن همام: كنا مع حذيفة. فقيل له: إن رجلاً يرفع الحديث إلى عثمان! فقال حذيفة: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقولُ:"لا يدخل الجنة قتّات".
ہمام سے مروی ہے کہ ہم لوگ حذیفہ کے ساتھ تھے، حذیفہ سے کہا گیا کہ ایک آدمی لوگوں کی باتیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچاتا ہے۔ تو حذیفہ نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 245]
حدیث نمبر: 246
246/323 (حسن) عن أسماء بنت يزيد قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" ألا أخبركم بخياركم؟". قالوا: بلى. قال:" الذين إذا رُؤوا ذكر الله، أفلا أخبركُم بشراركم؟". قالوا: بلى. قال:" المشاؤون بالنميمة، المفسدون بين الأحبة، الباغون بالبراء العنَتْ".
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے سب سے افضل لوگ کون ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ”وہ لوگ جنھیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے۔“ فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں تم میں سے برے کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”چغل خوری کرنے والے، دوستوں میں فساد پھیلانے والے، بری الذمہ لوگوں میں عیب نکالنے والے (گناہوں کے متلاشی)۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 246]