🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
125.  باب البخل 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 228
228/279 (صحيح) - عن وراد كاتب المغيرة قال: كتب معاوية إلى المغيرة بن شعبة: أنِ اكتب إليّ بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكتب إليه المغيرة (وفي رواية؛ قال وزاد: فأملى عليّ، وكتبت بيدي/16) :" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان (وفي الأخرى: سمعته) … ينهى عن قيل وقال، وإضاعة المال، وكثرة السؤال، وعن منعِ وهات، وعقوق الأمهات، وعن وأد البنات".
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: مجھے ایسی چیز لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھ بھیجا۔ (اور ایک روایت میں ہے، وزاد نے کہا: انہوں نے مجھے لکھوایا اور میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا۔) بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اور دوسری روایت میں ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) «قيل و قال» (فضول باتوں) سے، مال کو ضائع کرنے سے، زیادہ سوال کرنے سے، (لوگوں کے حقوق) روکنے اور ناجائز مانگنے سے (جس کا حق نہیں بنتا اس کو طلب کرنا یعنی ناجائز مطالبے کرنا)، ماؤں کی نافرمانی سے اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کرتے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 228]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
126.  باب المال الصالح للمرء الصالح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
229/299 (صحيح) عن عمرو بن العاص قال: بعث إلي النبي صلى الله عليه وسلم فأمرني أن آخذ علي ثيابي وسلاحي، ثم آتيه، ففعلتْ، فأتيته وهو يتوضأ، فصعد إليّ البصر ثم طأطأ، ثم قال:" يا عمرو! إني أريد أن أبعثك على جيش، فيغنمُك الله وأرغب (1) لك رغبة من المال صالحة". قلت: إني لم أُسلم رغبةً في المال، إنما أسلمتُ رغبة في الإسلام فأكون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال:" يا عمرو! نعم المال الصالح للمرء الصالح".
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ میں پورا لباس زیب تن کر کے اور ہتھیار پہن کر آپ کے پاس آؤں، چنانچہ میں نے تعمیل کی اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نظر اٹھائی اور پھر نظر کو جھکا لیا۔ اس کے بعد فرمایا: ”اے عمرو! میں چاہتا ہوں کہ تمہیں ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجوں تو اللہ تمہیں مال غنیمت عطا فرمائے گا اور میں تیرے لیے تیرے حلال مال میں رغبت رکھتا ہوں“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں مال کی طلب میں اسلام نہیں لایا ہوں۔ میں تو اسلام کی طلب میں مسلمان ہوا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہوں گا۔ فرمایا: ”اے عمرو! نیک آدمی کے لیے رزق حلال بہت ہی اچھا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 229]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
127.  باب من أصبح آمنا فى سربه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
230/300 (حسن) عن عبيد الله بن محصن الأنصاري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من أصبح آمناً في سربه (1) ، معافى في جسده، عنده طعام يومه، فكأنما حيزت له الدنيا".
سیدنا عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا نفس امن والا ہو، اور اسے جسم میں بیماریوں سے بچایا گیا ہو، اور اس کے پاس ایک دن کا کھانا ہو، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا کو جمع کر دیا گیا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 230]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
128.  باب طيب النفس
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 231
231/301 (صحيح) عن عبد الله بن خُبيب (1) الجهني، عن عمّه؛ أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج عليهم وعلى أثر غسل، وهو طيب النفس، فظننا أنه ألم بأهله، فقلنا: يا رسول الله! نراك طيب النفس؟ قال:" أجل، والحمد لله". ثم ذكر الغنى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنه لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خيرٌ من الغنى، وطيب النفس من النعم".
عبداللہ بن خبیب جہنی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو آپ پر نہانے کی نشانات تھے اور آپ بہت ہی خوش خوش تھے۔ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے پاس گئے۔ تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ کو بہت خوش طبیعت دیکھتے ہیں؟ پھر جب دولت کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی پرہیزگار ہو اس کے لیے دولت کا ہونا کوئی گناہ نہیں اور جو آدمی پرہیزگار ہو اس کے لیے تندرستی دولت سے بہتر ہے اور خوش طبیعت ہونا بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 231]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
232/303 (صحيح الإسناد) عن أنس قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس، وأجود الناس، وأشجع الناس، ولقد فزع أهل المدينة ذات ليلة، فانطلق الناس قبل الصوت، فاستقبلهم النبي صلى الله عليه وسلم قد سبق الناس إلى الصوت وهو يقول:"لن تراعوا. لن تراعوا" (2) وهو على فرس لأبي طلحة عُري، ما عليه سرج، وفي عنقه السيف، فقال:" لقد وجدته بحراً، أو إنه لبحر".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ حسین، سب سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے خوفزدہ ہو گئے تو لوگ (جدھر سے شور بلند ہوا اس) آواز کی طرف چلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے سے آ رہے تھے وہ آواز کی طرف سبقت لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے تھے: ”گھبراؤ نہیں، گھبراؤ نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابوطلحہ کے گھوڑے پر بغیر زین ہی کھلی پیٹھ پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی۔ تو فرمایا: ”میں نے اس کو سمندر پایا، یا کہا کہ بیشک یہ سمندر کی طرح ہے (یعنی برق رفتار ہے)۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 233
233/304 (حسن) عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" كل معروف صدقة، إن من المعروف أن تلقى أخاك بوجه طلق، وأن تفرغ من دلوك في إناء أخيك". قلت: والجملة الأولى تقدمت (165/224) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو، اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں (پانی) انڈیل دو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 233]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
129.  باب ما يجب من عون الملهوف 
پریشان حال کی مدد کرنا واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 233M
" أسند تحته حديث أبي ذر المتقدم برقم (162) ، وحديث أبي موسى برقم (166) ".

130.  باب من دعا الله أن يحسن خلقه 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 234
234/308 (صحيح لغيره) عن يزيد بن بابنوس قال: دخلنا على عائشة فقلنا: يا أم المؤمنين! ما كان خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت:"كان خلقه القرآن …".
یزید بن بابنوس سے روایت کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے پوچھا: اے ام المؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق کیا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 234]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
131. باب ليس المؤمن بالطعان
مومن طعن و تشنیع کرنے والا نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 235
235/309 (حسن صحيح) عن سالم بن عبد الله قال: ما سمعت عبد الله لاعناً أحداً قط، ليس إنساناً (1) . وكان سالم يقول: قال عبد الله بن عمر: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا ينبغي للمؤمن أن يكون لعاناً".
سالم بن عبداللہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ (ابن عمر) رضی اللہ عنہما کو انسان تو کیا کسی چیز پر لعنت کرتے نہیں سنا۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 235]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 236
236/311 (صحيح) عن عائشة رضي الله عنها ؛ أن يهودياً أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: السام عليكم، فقالت عائشة: وعليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم. قال:" مهلاً يا عائشة! عليك بالرفق، وإياك والعنف والفحش". قالت: أو لم تسمع ما قالوا؟ قال:" أو لم تسمعي ما قلت؟ رددت عليهم، فيستجاب لي فيهم، ولا يستجاب لهم فيّ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے «السام عليكم» (تم پر تباہی آئے) کہا:۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور تم پر بھی تباہی، اور اللہ تم پر لعنت کرے، اور اللہ کا غضب تم پر ہو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو عائشہ! تمہیں نرمی اختیار کرنی چاہئے، سختی اور فحش کلامی سے پرہیز کرو۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں جو ان لوگوں نے کہا:؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا:؟ میں نے ان پر لوٹا دیا ہے میری بات تو ان کے حق میں قبول ہو جائے گی اور ان کی بددعا میرے حق میں قبول نہ ہو گی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 236]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں