صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب حسن الخلق
حدیث نمبر: 208
208/274 (صحيح) - عن عائشة رضي الله عنها؛ أنها قالت:"ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما؛ ما لم يكن إثماً، فإذا كان إثماً كان أبعد الناس منه، وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه، إلا أن تُنتهك حرمة الله تعالى، فينتقم لله عز وجل بها".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی دو کاموں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کا موقع دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے جو زیادہ آسان تھا اسے اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ اور اگر وہ گناہ ہوتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ اس سے دور ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے تو کبھی انتقام نہیں لیا، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کو چاک کیا جائے تو آپ اللہ عزوجل کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 209
209/275 عن عبد الله (بن مسعود) قال:"إن الله تعالى قسم بينكم أخلاقكم، كما قسم بينكم أرزاقكم، وإن الله تعالى يُعطي المال من أحب ومن لا يُحب، ولا يعطي الإيمان إلا من يحب، فمن ضن بالمال أن ينفقه، وخاف العدو أن يجاهده، وهاب الليل أن يكابده، فليكثر من قول: لا إله إلا الله، وسبحان الله، والحمد لله، والله أكبر" (2) .
سیدنا عبدللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اخلاق کی یوں تقسیم کی ہے جیسے تمہارے درمیان رزق کی تقسیم کی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں بھی مال دیتا ہے جن سے محبت کرتا ہے اور (انہیں بھی) جن سے محبت نہیں کرتا اخلاق کو بھی تمہارے مابین تقسیم فرمایا جیسے تمہارے رزق کو تقسیم کیا، اور ایمان صرف ان کو دیتا ہے جن سے محبت کرتا ہے، جو مال کو خرچ کرنے میں بخیلی سے کام لے اور دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرے اور رات کی مشقت جھیلنے سے ڈرے تو اسے چاہیے کثرت سے یہ کلمات پڑھا کرے: ل «اَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: (صحيح موقوف في حكم المرفوع)
122. باب سخاوة النفس
حدیث نمبر: 210
210/276 (صحيح) - عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" ليس الغنى عن كثرة العرض، ولكن الغنى غنى النفس".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غنا زیادہ سامان کی وجہ سے نہیں ہوتا لیکن اصلی غنا، دل کا غنی ہونا ہوتا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 211
211/277 (صحيح) عن أنس قال:" خدمت النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين، فما قال لي: أف قط، وما قال لي لشيء لم أفعله: ألا كنت فعلته؟ ولا لشيء فعلته: لم فعلته؟".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے اف تک نہ کہا اور جو چیز میں نے نہ کی اس کے متعلق کبھی نہ کہا کہ تم نے کیوں نہ کیا؟ اور جو کام میں نے کر لیا اس کے متعلق یہ نہیں فرمایا تم نے یہ کیوں کیا؟ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 212
212/278 عن أنس بن مالك قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم رحيماً، وكان لا يأتيه أحدٌ إلا وعده، وأنجز له إن كان عنده، وأقيمت الصلاة، وجاءه أعرابي فأخذ بثوبه فقال: إنما بقي من حاجتي يسيرة؛ وأخاف أنساها، فقام معه حتى فرغ من حاجته، ثم أقبل فصلّى".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل تھے۔ جب کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اپنی ضرورت کے لیے) آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وعدہ کر لیتے اور اسے پورا کرتے، بشرطیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا۔ (ایک بار) نماز کی اقامت کہی گئی اور ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: میری ایک تھوڑی سی ضرورت باقی رہ گئی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اسے بھول نہ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکے ساتھ چلے گئے یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری کر دی اور اس کے بعد آ کر نماز پڑھائی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 213
213/279 (صحيح) - عن جابر قال:" ما سئل النبي صلى الله عليه وسلم شيئاً فقال: لا" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سوال کے جواب میں ”نہیں“ کبھی نہیں فرمایا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 214
214/280 (صحيح الإسناد) - عن عبد الله بن الزبير قال: ما رأيت امرأتين أجود من عائشة وأسماء، وجودهما مختلف، أما عائشة فكانت تجمع الشيء إلى الشيء، حتى إذا كان اجتمع عندها قسمت، وأما أسماء فكانت لا تمسك شيئاً لغد.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کوئی دو عورتیں ایسی نہیں دیکھیں جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ سخاوت کرنے والی ہوں۔ ان کی سخاوت کا حال مختلف تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مال کو جمع کرتی رہتی تھیں، جب ان کے پاس کچھ مال جمع ہو جاتا تو تقسیم کر دیا کرتی تھیں، اور اسماء رضی اللہ عنہا کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کل کے لئے کچھ اٹھا نہیں رکھتی تھیں (یعنی روز کا روز خرچ کر دیتی تھیں)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
123. باب الشح
حدیث نمبر: 215
215/281 (صحيح) - عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في جوفِ عبدٍ أبداً، ولا يجتمع الشح والإيمان في قلب عبد أبداً".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں پڑنے والی دھول اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے پیٹ میں کبھی بھی اکھٹے نہیں ہو ں گے۔ اور (اسی طرح) کسی بندے کے دل میں کنجوسی اور ایمان کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 216
216/283- عن عبد الله بن ربيعة قال: كنا جلوساً عند عبد الله – فذكروا رجلاً، فذكروا من خلقه – فقال عبد الله: أرأيتم لو قطعتم رأسه أكنتم تستطيعون أن تعيدوه؟ قالوا: لا. قال: فيدَهُ؟ قالوا: لا. قال: فرجله؟ قالوا: لا. قال: فإنكم لا تستطيعون أن تغيروا خلقه؟ حتى تغيروا خلُقه! إن النطفة لتستقر في الرحم أربعين ليلة، ثم تنحدر دماً، ثم تكون علقة، ثم تكون مضغة، ثم يبعثُ الله ملكاً. فيكتب: رزقه وخلقه، وشقياً أو سعيداً".
عبداللہ بن ربیعہ سے مروی ہے کہتے ہیں، ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق و عادات بیان کیے۔ عبدللہ نے کہا: بتاؤ اگر تم اس شخص کا سر قلم کر دو تو کیا تم پھر اسے جوڑ بھی سکو گے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ کہا: اچھا اگر اس کے ہاتھ کاٹ دو تو؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ کہا: اور اس کا پیٹ؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: پھر تم اس کی عادات بھی تب تک تبدیل نہیں کر سکتے یہاں تک کہ اس کی جسمانی ساخت کو تبدیل نہ کر دو۔ بیشک نطفہ رحم میں چالیس دنوں تک ٹھہرتا ہے، پھر خون بن کر نیچے اترتا ہے، پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر اللہ ایک فرشتہ بھیج دیتا ہے تو وہ اس کا رزق، اس کا اخلاق اور (اس كا) خوش نصیب ہونا یا بد نصیب ہونا لکھ دیتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد موقوفاً)
124. باب حسن الخلق إذا فقهوا
حدیث نمبر: 217
217/284 (صحيح) - عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن الرجل ليدرك بحسن خلقه، درجة القائم بالليل".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک آدمی اخلاق حسنہ کے سبب رات کو قیام کرنے والے کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: (صحيح)