🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
118.  باب الألفة 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
198/262 عن ابن عباس قال:" النعم تكفر، والرحم تقطع، ولم نر مثل تقارب القلوب".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا: نعمتوں کی ناشکری کی جاتی ہے، اور رشتہ داریاں توڑی جاتی ہیں اور ہم نے دلوں کی قربت کے مثل کوئی چیز نہیں دیکھی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
119.  باب المزاح 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
199/264 عن أنس بن مالك قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم على بعض نسائه -ومعهن أم سليم- (وفي طريق أخرى عنه: أن البراء بن مالك كان يحدو بالرجال، وكان أنجشة يحدوا بالنساء، وكان حسن الصوت/1264) . فقال [ النبي صلى الله عليه وسلم] : يا أنجشة (1 (1) ! رويداً سوقكَ بالقوارير (2) ". قال أبو قلابة: فتكلم النبي صلى الله عليه وسلم بكلمة لو تكلم بها بعضكم لعبتموها عليه. قوله:"سوقك بالقورارير".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس ام سلیم بھی تھیں۔ اور ایک دوسری سند میں ہے: براء بن مالک مردوں کے ساتھ حدی خوانی کر رہا تھا اور انجشہ عورتوں کے ساتھ حدی خوانی کر رہا تھا، اور انجشہ خوش آواز تھے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے انجشہ! ان بوتلوں کو نرمی کے ساتھ چلاؤ۔ ابوقلابہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا لفظ بولا: اگر تم میں سے کوئی آدمی بولتا تو تم اس پر عیب لگاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ: شیشے کی بنی ہوئی بوتلوں کو ہانکنا اور چلانا۔ (حدی خوانی: اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے ایک ترانہ گایا جاتا ہے۔) [صحيح الادب المفرد/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
200/265 عن أبي هريرة، قالوا: يا رسول الله! إنك تداعبنا؟ قال:"إني لا أقول إلا حقاً".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو ہم سے مزاح بھی کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
201/266 (صحيح) - عن بكر بن عبد الله قال:"كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يتبادحون بالبطيخ، فإذا كانت الحقائِق كانوا هم الرجال".
بکر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے پر(مزاح کرتے ہوئے) تربوز (کے ٹکڑے) پھینکتے تھے مگر جب حقائق کا سامنا ہوتا تھا تو پھر وہ مرد میدان ہوتے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
202/268 (صحيح) – عن أنس بن مالك قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يستحمله، فقال:" أنا حاملك على ولد ناقة!". قال: يا رسول الله! وما أصنع بولد ناقة؟! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" وهل تلدُ الإبلُ إلا النوقُ".
سیدنا انس بن ملک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اونٹنی کے بچے کا میں کیا کروں گا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120.  باب المزاح مع الصبي 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
203/269- (صحيح) عن أنس بن مالك قال: [ إن] كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا، حتى يقول لأخٍ لي صغير:" يا أبا عُمير! ما فعلَ النّغير".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں گھل مل جاتے تھے۔ یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے: اے ابوعمیر! بلبل نے کیا کِیا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121.  باب حسن الخلق 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
204/270م- (صحيح) عن أبي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" ما من شيء في الميزان أثقل من حسن الخلق".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترازو میں حسن اخلاق سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 205
205/271 (صحيح) – عن عبد الله بن عمرو قال: لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم فاحشاً ولا متفحشاً، وكان يقول:"خياركم أحاسنكم أخلاقاً".
سیدنا عبدللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ فحش گوئی کرنے والے تھے نہ تکلف سے فحش کلامی کرنے والے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 206
206/272 (صحيح) - عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" أخبركم بأحبكم إلي، وأقربكم مني مجلساً يوم القيامة؟"، فسكت القوم، فأعادها مرتين أو ثلاثاً. قال القوم: نعم يا رسول الله! قال:" أحسنكم خلقاً".
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ تم میں سے کون مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے اور کس کا مقام قیامت کے دن مجھ سے قریب ترین ہو گا؟ تمام لوگ اس پر خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار ا س بات کو دہرایا، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ۔ فرمایا: تم میں جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 207
207/273 (صحيح) - عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" إنما بعثت لأتمم صالح (1) الأخلاق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کروں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں