Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1.3. (بَعْضُ الأَحَادِيثِ عَنِ التَّفَكُّرِ لِلْعُلَمَاءِ)
علماء کے لیے غور و فکر کی کچھ احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ: «مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ» إِلَى آخِره
بیہقی نے شعب الایمان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول: «من جعل الهموم . . .» سے آخر تک روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (1888) [و الحاکم في المستدرک 4/ 328، 329]
٭ فيه يحيي بن المتوکل أبو عقيل وھو ضعيف .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 265
‏‏‏‏وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ مُرْسلا
اعمش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھول جانا علم کے لیے آفت ہے، اور جو علم کی اہلیت نہیں رکھتے ان سے اسے بیان کرنا اسے ضائع کرنا ہے۔ اس حدیث کو دارمی نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 150 ح 630)
٭ السند مرسل .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1.31. (العُلَمَاءُ الصَّالِحُونَ وَالطَّالِحُونَ)
اچھے اور برے علماء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 266
‏‏‏‏وَعَنْ سُفْيَانَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِكَعْبٍ: مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: الَّذِي يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ. قَالَ: فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ؟ قَالَ الطَّمَعُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
سفیان الثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اہل علم کون ہیں؟ انہوں نے کہا: جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں، پھر پوچھا: کون سی چیز علما کے دلوں سے علم نکال دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: (دنیا کا) طمع۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 266]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 144 ح 590)
٭ السند منقطع، سفيان ولد بعد شھادة سيدنا عمر رضي الله عنه و للأثر شاھد ضعيف .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 267
‏‏‏‏وَعَن الْأَحْوَص بن حَكِيم عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ سلم عَنِ الشَّرِّ فَقَالَ: «لَا تَسْأَلُونِي عَنِ الشَّرِّ وَسَلُونِي عَنِ الْخَيْرِ» يَقُولُهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: -[89]- «أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّ خير الْخَيْر خِيَار الْعلمَاء» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
احوص بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: کسی آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے شر کے بارے میں مت پوچھو۔ مجھ سے خیر کے بارے میں پوچھو۔ آپ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سن لو! سب سے بڑا شر علمائے سوء ہیں، اور سب سے بڑی خیر علمائے خیر ہیں۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (104/1 ح 376)
٭ بقية مدلس و عنعن والأحوص بن حکيم: ضعيف الحفظ و کان عابدًا، والسند مرسل .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 268
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَالِمٌ لَا ينْتَفع بِعِلْمِهِ". رَوَاهُ الدَّارمِيّ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: روز قیامت اللہ کے ہاں سب سے بُرا مقام اس عالم کا ہو گا جو اپنے علم سے فائدہ حاصل نہیں کرتا۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا موضوع، رواه الدارمي (1/ 82 ح 268)
٭ فيه ابن القاسم بن قيس وھو عبد الغفار بن القاسم وکان يضع الحديث .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 269
‏‏‏‏وَعَن زِيَاد بن حدير قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ المضلين". رَوَاهُ الدِّرَامِي
زیاد بن حُدیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: کہ تم جانتے ہو کون سی چیز اسلام کی عزت میں کمی کرتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: عالم کی لغزش، منافق کا قرآن کے ساتھ جدال کرنا اور گمراہ حکمرانوں کا فیصلے کرنا۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الدارمي (1/ 71 ح 220)
٭ أبو إسحاق ھو سليمان بن أبي سليمان الشيباني وللأثر طرق عن الشعبي رحمه الله .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 270
‏‏‏‏وَعَن الْحسن قَالَ: «الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعلم النافع وَعلم على اللِّسَان فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: علم کی دو اقسام ہیں، ایک علم دل میں ہے، وہ علم نفع مند ہے، اور ایک علم زبان پر ہے، وہ اللہ عزوجل کی ابن آدم کے خلاف حجت ہو گی۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 102 ح 370)
٭ فيه ھشام بن حسان مدلس و عنعن .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 271
‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ فِيكُمْ وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ يَعْنِي مجْرى الطَّعَام» رَوَاهُ البُخَارِيّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے (علم کے) دو ظروف یاد کیے، ان میں سے ایک میں نے تمہارے درمیان نشر کر دیا، رہی دوسری قسم تو اگر میں اسے نشر کردوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 271]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (120)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1.32. (الاعْتِرَافُ بِالجَهْلِ لَيْسَ عَيْبًا)
لاعلمی کا اعتراف کوئی عیب نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 272
‏‏‏‏وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أعلم فَإِن من الْعلم أَن يَقُول لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ (قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنا من المتكلفين)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اس کے متعلق بات کرے، اور جسے علم نہ ہو تو وہ کہے: (اللہ اعلم) اللہ بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ جس چیز کا تجھے علم نہ ہو اس کے متعلق تمہارا یہ کہنا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، یہ بھی علم کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: کہہ دیجیے، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 272]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4809) و مسلم (39/ 2798)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن سرین رحمہ اللہ نے فرمایا: بے شک یہ علم دین ہے، پس تم دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (7/ 7 بعده، باب بيان أن الإسناد من الدين، و ترقيم دارالسلام: 26)»
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں