🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَضِيلَةُ السِّوَاكِ ثَابِتَةٌ بِالوَحْيِ)
مسواک کی فضیلت وحی سے ثابت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 388
388 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ، أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسواک کر رہے تھے اور آپ کے پاس دو آدمی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھوڑی ہوئی مسواک کے بارے میں آپ کی طرف وحی آئی کہ ”یہ بڑے کو دے دیں۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده صحيح، رواه أبو داود (50)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَاةُ مَعَ السِّوَاكِ أَفْضَلُ بِسَبْعِينَ دَرَجَةً)
مسواک والی نماز کا ثواب ستّر درجہ زیادہ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
389 - وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مسواک کر کے پڑھی گئی نماز، مسواک کے بغیر پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (2774، 2773 والسنن الکبري 1/ 38)
٭ فيه معاوية بن يحيي الصدفي ضعيف، و محمد بن إسحاق مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة جدًا .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَانَ سَيِّدُنَا زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَضَعُ السِّوَاكَ عَلَى أُذُنِهِ)
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسواک کان پر رکھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 390
390 - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ. قَالَ: فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا اسْتَنَّ، ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ. (وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ابوسلمہ رحمہ اللہ، زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا۔“ زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسجد میں نمازیں پڑھنے کے لیے آتے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی تھی، اور وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے اور پھر اسے اس کی جگہ (کان) پر رکھ دیتے۔ ترمذی، ابوداؤد، البتہ انہوں نے ”میں نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 390]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (23) و أبو داود (47)
٭ محمد بن إسحاق مدلس و عنعن و الحديث المرفوع صحيح، انظر مسند الإمام أحمد (4/ 116 ح 17048)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَغْسِلْ يَدَيْهِ)
سو کر اٹھے تو ہاتھ دھو لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
(4) بَابُ سُنَنِ الْوُضُوءِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 391 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ. مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے حتیٰ کہ اسے تین مرتبہ دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 391]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (162) و مسلم (87/ 278)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَسْتَنْثِرْ أَنْفَهُ)
سو کر اٹھے تو ناک جھاڑ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
392 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ فِي خَيْشُومِهِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو کر وضو کرے تو وہ تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کی ناک میں رات بسر کرتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3295) و مسلم (23/ 238)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 393
393 - وَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ؟ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهَ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ، وَالنَّسَائِيُّ. وَلِأَبِي دَاوُدَ نَحْوُهُ ذَكَرَهُ صَاحِبُ الْجَامِعِ.
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ پس انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، تو اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور دو دو مرتبہ ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دو دو مرتبہ دھویا، پھر اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور انہیں سر کی اگلی طرف سے گدی تک لے گئے اور پھر سر کی اگلی طرف جہاں سے شروع کیا تھا واپس لے آئے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ امام مالک، امام نسائی، اور امام ابوداؤد میں اسی طرح ہے، صاحبِ «الجامع» نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 393]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح [متفق عليه] ، رواه مالک في الموطأ (1/ 18 ح 31) والنسائي (1/ 71 ح 97) و أبو داود (118)
٭ و انظر الحديث الآتي فھو طرف منه (394)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْكِيدٌ لِلْحَدِيثِ السَّابِقِ)
حدیث گزشتہ کی مزید تاکید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 394
394 - وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَكْفَأَ مِنْهُ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا،"ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ. فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا، فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ. وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. وَفِي أُخْرَى لَهُ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ.
اور صحیحین میں ہے کہ عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وضو کر کے دکھائیں، پس انہوں نے پانی کا ایک برتن منگایا، اور اس میں سے کچھ پانی اپنے ہاتھوں پر انڈیلا، اور انہیں تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو پانی کے برتن میں ڈالا اور اس میں پانی لے کر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، انہوں نے یہ تین مرتبہ کیا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر اس سے پانی نکالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر دو دو مرتبہ ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر اس سے اور پانی نکال کر اپنے سر کا مسح کیا، اپنے ہاتھوں کو آگے لے گئے اور واپس لائے، پھر انہوں نے ٹخنوں تک پاؤں دھوئے، پھر انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وضو اسی کی مثل تھا۔“ ایک روایت میں ہے سر کا مسح کرتے وقت ہاتھوں کو سر کی اگلی جانب سے گدی تک لے گئے اور پھر انہیں وہیں واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: آپ نے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی اور ایسا تین چلو پانی کے ساتھ کیا۔ ایک اور روایت میں ہے: آپ نے ایک چلو کے ساتھ ہی کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور آپ نے ایسا تین مرتبہ کیا۔ بخاری کی روایت میں ہے: آپ نے سر کا مسح کیا، آپ ہاتھوں کو آگے لے گئے اور واپس لائے، آپ نے یہ ایک مرتبہ کیا، پھر آپ نے ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے، اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے: آپ نے ایک ہی چلو سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 394]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (185، 186، 191، 192، 199) و مسلم (18/ 235)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (غَسْلُ أَعْضَاءِ الوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً، مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثَلَاثًا ثَلَاثًا)
اعضاء وضو کو ایک ایک، دو دو، تین تین مرتبہ دھونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 395
395 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّةً مَرَّةً لَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور اس سے زیادہ نہیں کیا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (157)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو بار دھو کر بھی وضو کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 396
396 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو دو مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (158)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (غَسْلُ أَعْضَاءِ الوُضُوءِ ثَلَاثًا أَفْضَلُ)
اعضاء وضو تین تین مرتبہ دھونا افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 397
397 - وَعَنْ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ، فَقَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقاعد (مدینہ کے پاس جگہ) پر وضو کیا، تو فرمایا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہ وضو نہ دکھاؤں؟“ چنانچہ انہوں نے وضو کرتے وقت تین تین بار اعضائے وضو کو دھویا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (230/9)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں