🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَضِيلَةُ قِرَاءَةِ التَّسْمِيَةِ فِي الوُضُوءِ)
وضو میں تسمیہ پڑھنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 428
428 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ، وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، لَمْ يُطَهِّرْ إِلَّا مَوْضِعَ الْوُضُوءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا اور «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھی اس نے اپنا پورا جسم پاک کر لیا، اور جو شخص وضو کرے لیکن «بِسْمِ اللّٰهِ» نہ پڑھے تو وہ صرف اعضائے وضو ہی پاک کرتا ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الدارقطني (1/ 73. 75)
٭ حديث أبي ھريرة: رواه الدارقطني (1/ 74 ح 229) فيه مرداس بن محمد ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَحْرِيكُ الخَاتَمِ أَثْنَاءَ الوُضُوءِ)
وضو کے دوران انگوٹھی کو حرکت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 429
429 - وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ حَرَّكَ خَاتَمَهُ فِي أُصْبُعِهِ. رَوَاهُمَا الدَّرَاقُطْنِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْأَخِيرَ.
ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے وضو کرتے تو آپ اپنی انگوٹھی کو انگلی میں ہلاتے تھے۔ ضعیف۔ دونوں روایتوں کو دارقطنی نے روایت کیا ہے، اور ابن ماجہ نے آخری کو روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارقطني (1/ 83 وقال: معمر (بن محمد بن عبيد الله) و أبوه ضعيفان ولا يصح ھذا) و ابن ماجه (449 وقال البوصيري: ھذا إسناد ضعيف لضعف معمر و أبيه .)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَحْكَامُ وَمَسَائِلُ الزَّوَاجِ)
ازدواجی احکام و مسائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 430
(5) بَابُ الْغُسْلِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 430 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اس (یعنی اپنی اہلیہ) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر اسے مشقت میں مبتلا (یعنی جماع) کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، خواہ انزال نہ ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (291) و مسلم (87/ 348)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (هَلِ الاحْتِلَامُ يُوجِبُ الغُسْلَ أَمْ لا؟)
احتلام سے غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 431
431 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ، رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا مَنْسُوخٌ.
ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» پانی (غسل) پانی (منی کے نکلنے) سے ہے۔“ رواہ مسلم۔ الشیخ الامام محی السنہ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث منسوخ ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (81، 80/ 343)
٭ و انظر شرح السنة لمحيي السنة البغوي (2/ 6 بعد ح 243)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (81

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ رَأَى الجِمَاعَ فِي المَنَامِ وَلَمْ يَنْزِلْ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ)
خواب میں جماع دیکھا لیکن انزال نہ ہوا تو غسل واجب نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 432
432 - وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:"إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الِاحْتِلَامِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي"الصَّحِيحَيْنِ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے“، یہ احتلام کے بارے میں ہے۔ ترمذی، اور میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (112)
٭ فيه شريک القاضي مدلس و عنعن و باقي السند حسن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ احْتِلَامِ المَرْأَةِ)
عورت کے احتلام کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
433 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ:"نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ"فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَجْهَهَا، وَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: ("نَعَمْ تَرِبَتْ يَمِينُكَ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا؟". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بے شک اللہ حق بات سے نہیں شرماتا، جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ پانی (منی کے آثار) دیکھے۔“ (یہ سن کر) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، «تَرِبَتْ يَمِينُكِ» ”تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو“، تو پھر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہت اختیار کرتا؟“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (130) و مسلم (32/ 313)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَازُ مُشَابَهَةِ الوَلَدِ لِأُمِّهِ أَوْ أَبِيهِ)
بچہ کا ماں یا باپ سے مشابہت کرنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 434
434 - وَزَادَ مُسْلِمٌ بِرِوَايَةِ أُمِّ سُلَيْمٍ:"أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ; فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ".
امام مسلم رحمہ اللہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے طریق سے جو روایت بیان کی ہے اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”آدمی کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے، جبکہ عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، پس ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے یا سبقت لے جائے تو بچے کی مشابہت اسی پر ہو جاتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (30 / 311)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الطَّرِيقَةُ المَسْنُونَةُ لِغُسْلِ الجَنَابَةِ)
غسل جنابت کا مسنون طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
435 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ، فَيُخَلِّلْ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شَمَالِهِ، يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غسلِ جنابت فرماتے تو آپ سب سے پہلے ہاتھ دھوتے، پھر وضو فرماتے جیسے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور اس سے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غسل فرماتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھوں کو کسی برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ کو دھوتے، پھر وضو فرماتے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (248) و مسلم (35/ 316)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا تَجَمَّعَ المَاءُ فِي مَكَانِ الغُسْلِ فَلْيُؤَخِّرْ غَسْلَ قَدَمَيْهِ)
اگر غسل خانے میں پانی جمع ہو جاتا ہو تو پاؤں آخر میں دھوئے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
436 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شَمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے غسل کرنے کے لیے پانی رکھا، اور ایک کپڑے سے آپ پر پردہ کیا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرم گاہ کو دھویا، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر ملا اور اسے دھویا، پھر آپ نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر پر پانی ڈالا، اور سارے جسم پر پانی بہایا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے، میں نے آپ کو کپڑا دیا لیکن آپ نے نہ لیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہاتھوں سے پانی صاف کرتے تشریف لے گئے۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (276) و مسلم (37/ 317)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أُسْلُوبُ الكِنَايَةِ أَفْضَلُ فِي المَسَائِلِ الحَيَائِيَّةِ)
شرم والے مسائل میں اسلوب کنایہ افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
437 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَ:"خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:"تَطَهَّرِي بِهَا"قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:"سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا"فَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ لَهَا: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انصار کی ایک خاتون نے غسل حیض کے متعلق نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے گی، پھر فرمایا: ”کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو۔“ اس نے عرض کیا: میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس سے طہارت حاصل کرو۔“ اس نے پھر عرض کیا: میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ اس سے طہارت حاصل کرو۔“ (عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) پس میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور بتایا: اسے خون کی جگہ (شرم گاہ) پر رکھ لے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (314) و مسلم (60/ 332)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں