مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَخْلِيلُ اللِّحْيَةِ)
داڑھی کا خلال
حدیث نمبر: 408
408 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ، فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ، فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ، وَقَالَ: هَكَذَا أَمَرَ رَبِّي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرماتے تو چلو میں پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے، اور فرماتے: ”میرے رب نے مجھے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (145)
٭ الوليد بن زوران لين الحديث و عند الحاکم طريق آخر (1/ 149 ح 529) و فيه الزھري مدلس و عنعن و للحديث طريق آخر عند الحاکم (530) وقال أبو حاتم الرازي: الخطأ من مروان (بن محمد الطاطري) .. (انظر علل الحديث: 16)»
٭ الوليد بن زوران لين الحديث و عند الحاکم طريق آخر (1/ 149 ح 529) و فيه الزھري مدلس و عنعن و للحديث طريق آخر عند الحاکم (530) وقال أبو حاتم الرازي: الخطأ من مروان (بن محمد الطاطري) .. (انظر علل الحديث: 16)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم داڑھی کا خلال کرتے تھے
حدیث نمبر: 409
409 - وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔ (حسن، رواہ الترمذی والدارمی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (31 وقال: ھذا حديث حسن صحيح .) والدارمي (1/ 179 ح 710) [وابن ماجه: 430] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (إِظْهَارُ السَّيِّدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلوُضُوءِ المَسْنُونِ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسنون وضو کر کے دکھانا
حدیث نمبر: 410
410 - وَعَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَهُ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طَهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
ابو حیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہاتھ دھوئے اور انہیں خوب اچھی طرح صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین بار ناک صاف کی، تین بار چہرہ دھویا، تین بار بازو دھوئے، ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں تک پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: میں نے چاہا کہ تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کیسے تھا۔ صحیح، رواہ الترمذی والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (48) والنسائي (1/ 70، 71 ح 96) [و أبود اود: 116] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (طَرِيقَةُ المَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ وَالاسْتِنْثَارِ فِي الوُضُوءِ)
وضو میں کلی کرنے، ناک میں پانی دینے اور ناک جھاڑنے کا طریقہ
حدیث نمبر: 411
411 - وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: نَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَمَلَأَ فَمَهُ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَعَلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طَهُورُهُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
عبد خیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، جب علی رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو ہم بیٹھے انہیں دیکھ رہے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا (اور اس سے پانی لے کر) اپنے منہ اور ناک میں ڈالا پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی، آپ نے تین مرتبہ ایسے ہی کیا، پھر فرمایا: جسے پسند ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہ آپ کا وضو ہے۔ صحیح، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الدارمي (1/ 178 ح 707) [والنسائي 1/ 67 ح 91] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (المَضْمَضَةُ وَالاسْتِنْشَاقُ بِكَفٍّ وَاحِدَةٍ)
ایک ہی چُلّو سےکلی اور ناک میں پانی ڈالنا
حدیث نمبر: 412
412 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ”آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اور آپ نے تین مرتبہ ایسے ہی کیا۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (119) والترمذي (28 وقال: حسن غريب .) [وھو متفق عليه/ رواه البخاري (191) ومسلم (235) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (مَسْحُ الرَّأْسِ)
سر کا مسح
حدیث نمبر: 413
413 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأُذُنَيْهِ: بَاطِنَهُمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ، وَظَاهِرَهُمَا بِإِبْهَامَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”اپنے سر کا مسح کیا، اور آپ نے کانوں کے اندر کے حصوں کا شہادت کی انگلیوں سے اور باہر کے حصوں کا انگوٹھوں سے مسح کیا۔“ (اسنادہ حسن، رواہ النسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (1/ 74 ح 102) [والترمذي (36) و ابن ماجه (439) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (إِدْخَالُ الأَصَابِعِ فِي الأُذُنَيْنِ عِنْدَ المَسْحِ)
مسح کرتے وقت کانوں کے اندر انگلیاں ڈالنا
حدیث نمبر: 414
414 - وَعَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَتْ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَا أَقَبْلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ، وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ الرِّوَايَةَ الْأُولَى، وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ الثَّانِيَةَ.
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کی اگلی جانب اور پچھلی جانب (پورے سر) کا، دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں۔ ابوداؤد اور ترمذی نے پہلی روایت بیان کی جبکہ احمد اور ابن ماجہ نے دوسری۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبوداود (129، [131 حسن] ) والترمذي (34) و أحمد (6/ 359 ح 27559) و ابن ماجه (441)
٭ عبد الله بن محمد بن عقيل: ضعيف ضعفه الجمھور کما حققته في تحقيق سنن الترمذي (128) و قوله: ’’و صدغيه‘‘ لم أجد له شاھدًا و الباقي حسن بالشواھد، رواية الترمذي و ابن ماجه: حسنة بالشواھد .»
٭ عبد الله بن محمد بن عقيل: ضعيف ضعفه الجمھور کما حققته في تحقيق سنن الترمذي (128) و قوله: ’’و صدغيه‘‘ لم أجد له شاھدًا و الباقي حسن بالشواھد، رواية الترمذي و ابن ماجه: حسنة بالشواھد .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (أَخْذُ مَاءٍ جَدِيدٍ لِمَسْحِ الرَّأْسِ)
سر کے مسح کے لئے نیا پانی لینا
حدیث نمبر: 415
415 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مَعَ زَوَائِدَ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور یہ کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے علاوہ الگ پانی سے سر کا مسح کیا۔ ترمذی، جبکہ مسلم نے کچھ زوائد کے ساتھ روایت کیا ہے۔ صحیح، رواہ الترمذی (35) و مسلم (19 /236)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه الترمذي (35 وقال: حسن صحيح) ومسلم (19/ 236)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم
--. (حُكْمُ مَسْحِ الأُذُنَيْنِ)
کانوں کے مسح کا حکم
حدیث نمبر: 416
416 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَكَرَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ، وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ. وَذَكَرَا: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي: (الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ) مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ أَمْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں گوشۂ چشم (دونوں آنکھوں کے ناک سے ملنے والے حصے) کا مسح کیا کرتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”کان سر کا حصہ ہیں۔“ حسن، رواہ ابن ماجہ (444) وابوداؤد (134) والترمذی (37)۔ اور دونوں (امام ابوداؤد اور امام ترمذی) نے ذکر کیا کہ حماد نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ”کان سر کا حصہ ہیں۔“ یہ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (444) و أبو داود (134) والترمذي (37 و أعلّه) [و للحديث شواھد و ھو بھا حسن] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (غَسْلُ أَعْضَاءِ الوُضُوءِ لَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ مَرَّاتٍ)
اعضاء وضو زیادہ سے زیادہ تین بار دھونے چاہئیں
حدیث نمبر: 417
417 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ ; فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ:"هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ.
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے وضو کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضائے وضو دھو کر اسے دکھائے، پھر فرمایا: «هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ» ”اس طرح (مکمل) وضو ہے، پس جس نے اس سے زیادہ مرتبہ کیا اس نے برا کیا، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔“ نسائی، ابن ماجہ جبکہ ابوداوٗد نے اسی معنی میں روایت کیا ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ النسائی وابن ماجہ وابوداوٗد وابن خزیمہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (1/ 88 ح 140) و ابن ماجه (422) و أبو داود (135) [و ابن خزيمه: 174] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن