مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَلْبَسُ المُسْتَحَاضَةُ خِرْقَةً)
استحاضہ کا خون رگ کا خون ہے
حدیث نمبر: 558
الْفَصْلُ الثَّانِي 558 - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي جُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكِ، فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ ; فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ، فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنِّمَا هُوَ عِرْقٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں استحاضہ کا مرض تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”جب حیض کا خون ہو گا تو وہ سیاہ رنگ کا ہو گا اور وہ آسانی سے پہچانا جاتا ہے، جب وہ ہو تو نماز نہ پڑھ اور جب دوسرا (خون) ہو تو پھر وضو کر اور نماز پڑھ، وہ تو محض رگ کا خون ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (286) والنسائي (1/ 185 ح 362) [و صححه ابن حبان (الإحسان: 1345) والحاکم (1/ 174) علٰي شرط مسلم ووافقه الذھي]
٭ الزھري مدلس وعنعن .»
٭ الزھري مدلس وعنعن .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (المُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ بَعْدَ أَيَّامِ العَادَةِ)
مستحاضہ لنگوٹ باندھ لے
حدیث نمبر: 559
559 - وَعَنْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ. وَرَوَى النَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک عورت کو استحاضہ کا خون آتا تھا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ اس مرض میں مبتلا ہونے سے پہلے، اسے مہینے میں جتنے دن حیض کا خون آتا تھا، انہیں شمار کر کے اتنے دن مہینے میں نماز چھوڑ دے، اور جب وہ دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے اور پھر نماز پڑھے۔“ مالک، ابوداؤد، دارمی، جبکہ نسائی نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه مالک (62/1 ح 133) و أبو داود (274) والدارمي (1/ 200 ح 786) والنسائي (119/1، 120 ح 209)
٭ سليمان بن يسار لم يسمعه من أم سلمة رضي الله عنھا بل أخبره رجل به و الرجل مجھول و حديث مسلم (333) يغني عنه.»
٭ سليمان بن يسار لم يسمعه من أم سلمة رضي الله عنھا بل أخبره رجل به و الرجل مجھول و حديث مسلم (333) يغني عنه.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (حُكْمَانِ لِلْمُسْتَحَاضَةِ)
مستحاضہ ایام عادت کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے
حدیث نمبر: 560
560 - وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: جَدُّ عَدِيٍّ اسْمُهُ دِينَارٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ:"تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتَصُومُ، وَتُصَلِّي"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ
عدی بن ثابت اپنے باپ سے اور وہ اس (عدی) کے دادا سے روایت کرتے ہیں، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: عدی کے دادا کا نام دینار رضی اللہ عنہ ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استحاضہ میں مبتلا عورت کے بارے میں فرمایا: ”وہ اپنے ایامِ حیض کا لحاظ رکھتے ہوئے اتنے دن نماز نہ پڑھے، پھر وہ غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ اور وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (126، 127) و أبو داود (297)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (الفَصْلُ الثَّالِثُ)
مستحاضہ کے لئے دو چیزوں کا حکم
حدیث نمبر: 561
561 - وَعَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ. قَالَ"أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ"قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:"فَتَلَجَّمِي". قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَاتَّخِذِي ثَوْبًا. قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجَزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا، فَأَنْتِ أَعْلَمُ"قَالَ لَهَا:"إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةً فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ ; فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزُئِكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كُلَّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ ; مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِينَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِينَ الْعَصْرَ، فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَافْعَلِي وَتَغْسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِي ; وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ. رَوَاهُ أَحْمَدَ وَأَبُو دَاوُدِ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، مجھے نہایت شدید قسم کا مرض استحاضہ تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی تاکہ آپ کو اس کے متعلق بتاؤں اور مسئلہ دریافت کروں، چنانچہ میں نے انہیں اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے شدید قسم کا استحاضہ لاحق ہے، آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ اس نے تو مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں روئی استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ وہ خون روک دے گی۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے کہیں زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر لنگوٹ کس لے۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لنگوٹ کے نیچے کوئی کپڑا رکھ لے۔“ انہوں نے عرض کیا: معاملہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہے، میں تو پانی کی طرح خون بہاتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دو امور کا حکم دیتا ہوں، تم نے ان میں سے جو بھی کر لیا، وہ دوسرے سے کفایت کر جائے گا، اور اگر تم دونوں کی طاقت رکھو تو پھر تم (اپنی حالت کے متعلق) بہتر جانتی ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”یہ تو ایک شیطانی بیماری ہے، تم معمول کے مطابق چھ یا سات دن تک اپنے آپ کو حائضہ تصور کر لیا کرو، پھر غسل کرو حتیٰ کہ جب تم سمجھو کہ تم پاک صاف ہو گئی ہو تو تئیس یا چوبیس دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہو گا، اور تم ہر ماہ اسی طرح کیا کرو جس طرح حیض والی عورتیں اپنے مخصوص ایام میں اور اس سے پاک ہونے کے بعد کرتی ہیں، اور اگر تم یہ طاقت رکھو کہ نماز ظہر کو مؤخر کر لو اور نماز عصر کی جلدی کر لو، پھر ظہر و عصر کو اکٹھا پڑھ لو، اسی طرح مغرب کو مؤخر کر لو اور عشاء کو پہلے کر لو، پھر غسل کر کے دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لو، پس ایسے کیا کرو، اور نماز فجر کے لیے غسل کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم ایسا کر سکو تو کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور دونوں امور میں سے مجھے یہ (غسل کر کے نماز جمع کرنا) زیادہ پسندیدہ ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (439/6 ح 28022) و أبو داود (287) والترمذي (128 وقال: حسن صحيح) [و ابن ماجه: 622، 627]
٭ عبد الله بن محمد بن عقيل: ضعيف علي الراجح، تقدم (414)»
٭ عبد الله بن محمد بن عقيل: ضعيف علي الراجح، تقدم (414)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (أَمْرُ جَمْعِ الصَّلَاتَيْنِ لِلْمُسْتَحَاضَةِ)
مستحاضہ کو زرد دیکھ کر نماز کے لئے غسل کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 562
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 562 - عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ. لِتَجْلِسَ فِي مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صُفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَوَضَّأُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا اتنی مدت سے استحاضہ میں مبتلا ہے اور اس نے اس دوران نماز نہیں پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، یہ (استحاضہ) شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک برتن میں بیٹھے، اگر وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو وہ ظہر و عصر کے لیے ایک غسل کرے، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے اور ان کے مابین (ظہر و عصر کے غسل کے مابین) وضو کر لے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبود اود (296) [و صححه الحاکم علٰي شرط مسلم (1/ 174) ووافقه الذھبي .]
٭ الزھري عنعن .»
٭ الزھري عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (الفَصْلُ الأَوَّلُ)
مستحاضہ کو دو نمازوں کو جمع کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 563
563 - رَوَى مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ
اور انہوں نے کہا کہ مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ جب اس کے لیے غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ نے اسے دو نمازیں اکٹھی پڑھنے کا حکم فرمایا۔ (صحیح، رواہ الدارمی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه [الدارمي (1/ 221 ح 908 وسنده حسن) والطحاوي في معاني الآثار (1/ 101، 102) ] »
قال الشيخ الألباني: مَوْقُوف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح