مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الطَّهَارَةُ مُسْتَحَبَّةٌ لِذِكْرِ اللهِ)
وضو اور غسل دونوں کے تیمّم کا ایک طریقہ ہے
حدیث نمبر: 528
528 - وَعَنْ عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ؟ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا"فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ، وَفِيهِ: قَالَ:"إِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخَ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ".
عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: میں جنبی ہو گیا ہوں، لیکن مجھے پانی نہیں ملا، (یہ سن کر) عمار رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں تھے، آپ نے نماز نہ پڑھی، جبکہ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور نماز پڑھ لی، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کرنا کافی تھا۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماری، پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا۔ بخاری، متفق علیہ۔ اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کافی تھا کہ تم اپنے ہاتھ زمین پر مارتے، پھر اس میں پھونک مارتے اور پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (338) و مسلم (112 / 368)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الفَصْلُ الثَّانِي)
اللہ کے ذکر کے لئے طہارت مستحب ہے
حدیث نمبر: 529
529 - وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَّهُ بِعَصًى كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ. وَلَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي: الصَّحِيحَيْنِ"، وَلَا فِي"كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ"، وَلَكِنْ ذَكَرَهُ فِي:"شَرْحِ السُّنَّةِ"قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوجہیم بن حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا، حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے اور اپنی لاٹھی سے اسے کریدا، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے، اور اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر مجھے سلام کا جواب دیا۔ یہ روایت مجھے صحیحین میں ملی نہ کتاب الحمیدی میں، لیکن انہوں نے شرح السنہ میں اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الحسين بن مسعود البغوي في شرح السنة (114/2، 115 ح 310 وقال: ھذا حديث حسن .!) [و رواه الشافعي في مسنده (45/1) والبيھقي (1/ 205) ]
٭ فيه إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي الأسلمي متروک متھم والسند منقطع والصواب: مسح وجھه و يده کما سيأتي (535)»
٭ فيه إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي الأسلمي متروک متھم والسند منقطع والصواب: مسح وجھه و يده کما سيأتي (535)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (كَفَى التَّيَمُّمُ وَلَكِنْ قِلَّةُ العِلْمِ أَوْدَتْ بِالحَيَاةِ!)
جب تک پانی نہ ملے، تیمّم کیا جائے گا
حدیث نمبر: 530
الْفَصْلُ الثَّانِي 530 - عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ; فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ:"عَشْرَ سِنِينَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی، مسلمان کے لیے وضو کے پانی کی طرح ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، لیکن جب پانی دستیاب ہو جائے تب اس سے اپنی جلد تر کرے کیونکہ یہ بہتر ہے۔“ احمد، ترمذی، ابوداؤد اور امام نسائی نے «عَشْرَ سِنِيْنَ» تک اسی طرح روایت کیا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے، اسے احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (5/ 155 ح 21698) والترمذي (124 وقال: حسن .) و أبو داود (332) والنسائي (171/1ح 323) [و صححه ابن خزيمة (2292) و ابن حبان (1308، 1309) والحاکم (1/ 176، 177) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (لَا يَجُوزُ الإِفْتَاءُ بِغَيْرِ عِلْمٍ – رِوَايَةُ ابْنِ مَاجَه)
تیمّم کافی تھا لیکن کم علمی نے جان لے لی!
حدیث نمبر: 531
531 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ، فَأَصَابَ رَجُلًا مَنَّا حَجَرٌ، فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، فَاحْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ قَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ. فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، قَالَ:"قَتَلُوهُ، قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَا سَأَلُوا إِذْا لَمْ يَعْلَمُوا ; فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ، وَيَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا، وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے ایک آدمی کو پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا، اور اسی دوران اسے احتلام ہو گیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کرتے ہوئے کہا: کیا تم میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے کیونکہ تمہیں پانی میسر ہے۔ پس اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، جب انہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہ؟ لاعلمی کا علاج پوچھ لینا ہی ہے، اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا، زخم پر پٹی باندھ لیتا، پھر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارے جسم کو دھو لیتا۔“ ابوداؤد۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (336)
٭ الزبير بن خريق: و ثقه ابن حبان وحده و ضعفه الدارقطني وغيره و ضعفه راجح .»
٭ الزبير بن خريق: و ثقه ابن حبان وحده و ضعفه الدارقطني وغيره و ضعفه راجح .»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (إِعَادَةُ الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّيَمُّمِ)
علم کے بغیر مسئلہ بتانا درست نہیں، بروایت ابن ماجہ
حدیث نمبر: 532
532 - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ". عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ابن ماجہ نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ابن ماجه (572) [و الحاکم (1/ 178) و أبو داود (337 وسنده صحيح) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِعَادَةُ الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّيَمُّمِ – رِوَايَةُ النَّسَائِي وَأَبِي دَاوُد)
تیمّم کے بعد نماز لوٹانا
حدیث نمبر: 533
533 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ، فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا، فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ بِوُضُوءٍ، وَلَمْ يَعُدِ الْآخَرُ. ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَا ذَلِكَ. فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ، وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ:"لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے، نماز کا وقت ہو گیا، جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز کے وقت ہی میں پانی پا لیا، تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز لوٹائی، جبکہ دوسرے نے نہ لوٹائی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے، جس نے نماز نہ لوٹائی، فرمایا: ”تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے، جس نے وضو کر کے نماز لوٹائی تھی، اسے فرمایا: ”تمہارے لیے دہرا اجر ہے۔“ اسے ابوداؤد، دارمی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (338) والدارمي (1/ 190 ح 750) والنسائي (1/ 213 ح 433)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الفَصْلُ الثَّالِثُ)
تیمّم کے بعد نماز لوٹانا، بروایت نسائی اور ابوداؤد
حدیث نمبر: 534
534 - وَقَدْ رَوَى هُوَ وَأَبُو دَاوُدَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا.
امام نسائی اور ابو داود نے بھی عطاء بن یسار سے مرسل روایت کیا ہے۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبوداود (339) [وانظر الحديث السابق (533) فھو شاھد له .] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (المَسْحُ إِلَى المَنَاكِبِ وَالآبَاطِ)
مٹی پر ضرب لگا کر تیمّم کرنا
حدیث نمبر: 535
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 535 - عَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوالجہیم بن حارث بن صمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بئرِ جمل (کنویں کا نام) کی طرف سے آئے تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کے پاس تشریف لائے، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اسے سلام کا جواب دیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (237) و مسلم (114 / 369)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الغُسْلِ المَسْنُونِ)
مناکب اور آباط تک مسح کرنا
حدیث نمبر: 536
536 - وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ، ثُمَّ مَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا، فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى، فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نماز فجر کے لیے مٹی سے تیمم کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ مٹی پر مارے، پھر ایک مرتبہ اپنے چہروں پر مسح کیا، پھر انہوں نے دوبارہ دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ مٹی پر مارے تو اپنے سارے ہاتھوں پر کندھوں اور بغلوں سمیت مکمل طور پر مسح کیا۔ (صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 536]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (318)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الغُسْلُ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَاجِبٌ)
جمعہ کا غسل واجب ہے
حدیث نمبر: 537
(11) بَابُ الْغُسْلِ الْمَسْنُونِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 537 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (نماز) جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (877) و مسلم (2/ 844)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه