🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الفَصْلُ الثَّانِي)
موزوں پر مسح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 518
518 - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ، لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ:"دَعْهُمَا ; فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ"فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَيُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، فَأَدْرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مَعَهُ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر سے پہلے بول و براز کے لیے کھلی جگہ تشریف لے گئے، میں پانی کا برتن اٹھا کر آپ کے ساتھ گیا، پس جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، تو آپ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا، آپ نے اونی جبہ پہن رکھا تھا، آپ نے بازو ننگے کرنے کی کوشش کی، لیکن جبہ کی آستینیں تنگ تھیں، لہذا آپ نے جبہ کے نیچے سے ہاتھ نکالے اور جبے کو اپنے کندھوں پر ڈال لیا اور اپنے بازو دھوئے، پھر آپ نے پیشانی اور عمامہ پر مسح کیا، میں آپ کے موزے اتارنے کے لیے جھکا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، کیونکہ میں نے انہیں حالتِ وضو میں پہنا تھا۔“ آپ نے ان پر مسح کیا، پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا، جب ہم لشکر کے پاس پہنچے تو وہ نماز کھڑی کر چکے تھے اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، اور وہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، چنانچہ جب انہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھتے رہو، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پا لی، جب انہوں (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے سلام پھیرا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور میں بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا، تو ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے پڑھی جا چکی تھی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (79، 81، 105/ 274)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (79، 81، 105/ 274)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خَلْعُ الخُفَّيْنِ عِنْدَ الجَنَابَةِ)
موزوں پر مسح مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
الْفَصْلُ الثَّانِي 519 - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا، رَوَاهُ الْأَثْرَمُ فِي سُنَنِهِ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، والدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ الْإِسْنَادُ، هَكَذَا فِي الْمُنْتَقَى.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”مسافر کو تین دن اور مقیم کو ایک دن موزوں پر مسح کرنے کی رخصت عنایت فرمائی بشرطیکہ انہوں نے وضو کے بعد موزے پہنے ہوں“۔ اثرم نے اپنی سنن میں، ابن خزیمہ اور دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے، خطابی نے کہا: وہ صحیح الاسناد ہے۔ منتقٰی میں بھی اسی طرح ہے۔ اسنادہ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الأثرم في سننه (لم أجده) و ابن خزيمة (1/ 96 ح 192) والدارقطني (1/ 194) [وابن ماجه: 556] و قول الخطابي في منتقي الأخبار (305، و نيل الأوطار 282/1 ح 232)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَوْضِعُ المَسْحِ عَلَى الخُفَّيْنِ)
جنابت سے موزے اتارے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
520 - وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ.
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں حکم فرماتے کہ ”ہم جنابت کے علاوہ بول و براز اور نیند کی صورت میں تین دن تک اپنے موزے نہ اتاریں۔“ اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (96 وقال: حديث صحيح .) والنسائي (83/1، 84 ح 127)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْحُ النَّبِيِّ ﷺ عَلَى أَعْلَى الخُفَّيْنِ)
موازوں پر مسح کی جگہ کون سی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
521 - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ، وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدًا - يَعْنَى الْبُخَارِيَّ - عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَكَذَا ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرایا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث معلول ہے میں نے ابوزرعہ اور محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ حدیث صحیح نہیں اور اسی طرح ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (165) والترمذي (97 و أعله) و ابن ماجه (550)
٭ ثور: لم يسمع من رجاء و جاء تصريحه بالسماع في السند الضعيف، ورجاء لم يسمعه من کاتب المغيرة رضي الله عنه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ المَسْحِ عَلَى الجَوْرَبَيْنِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں کے اوپر کے حصے پر مسح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
522 - وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَهْرِهِمَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (98 وقال: حسن) و أبو داود (161)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الفَصْلُ الثَّالِثُ)
مسح علی الجوربین کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
523 - وَعَنْهُ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو فرمایا اور آپ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (4/ 252 ح 18393) و الترمذي (99 وقال: حسن صحيح .) و أبو داود (159) و ابن ماجه (559)
٭ سنده ضعيف من أجل عنعنة سفيان الثوري فإنه مدلس مشھور و للحديث شواھد و اجماع الصحابة يؤيده .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدِّينُ لَا يَقُومُ عَلَى الرَّأْيِ وَالقِيَاسِ)
موزوں پر مسح کرنا اللہ کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 524 - عَنِ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسِيتَ؟ قَالَ:"بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”(نہیں)، بلکہ تم بھولے ہو میرے رب عزوجل نے مجھے اسی کا حکم فرمایا۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (253/4 ح 18407) و أبو داود (156)
٭ بکير بن عامر: ضعيف، ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ التَّيَمُّمِ)
دین کا مدار رائے اور قیاس پر نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
525 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَلِلدَّارِمِيِّ مَعْنَاهُ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر دین کا دارومدار عقل و رائے پر ہوتا تو موزوں پر نیچے مسح کرنا ان کے اوپر مسح کرنے سے افضل و بہتر ہوتا، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد؛ اور دارمی نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (162) والدارمي (1/ 181 ح 721)
٭ أبو إسحاق السبيعي عنعن و حديث الحميدي (47) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رُخْصَةُ التَّيَمُّمِ لِلْجُنُبِ أَيْضًا)
امت محمدیہ کے تین خصائص
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
(10) بَابُ التَّيَمُّمِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 526 - عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہمیں باقی امتوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے، ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا قرار دیا گیا، ہمارے لیے ساری زمین مسجد قرار دی گئی اور اس کی مٹی کو، جب ہم پانی نہ پائیں، باعثِ طہارت بنایا گیا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (4/ 522)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَرِيقَةٌ وَاحِدَةٌ لِتَيَمُّمِ الوُضُوءِ وَالغُسْلِ)
جنبی کے لیے بھی تیمّم کی رعایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
527 - وَعَنْ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، إِذَا هُوَ بَرْجَلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ قَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلَا مَاءَ. قَالَ:"عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ ; فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رفیقِ سفر تھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پس جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص! تمہیں باجماعت نماز ادا کرنے سے کیا مانع تھا؟“ اس نے عرض کیا: میں جنبی ہو گیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم مٹی استعمال کرتے، وہ تمہارے لیے کافی تھی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (344) و مسلم (312/ 682)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں