مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (اتِّخَاذُ الحَيَوَانِ سُتْرَةً)
جانور کو سترہ بنانا
حدیث نمبر: 774
774 - وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَزَادَ الْبُخَارِيُّ، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ، فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری بٹھا دیا کرتے اور پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ بخاری، مسلم۔ متفق علیہ۔ اور امام بخاری نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: راوی بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: جب اونٹ چرنے کے لیے جاتے تھے (تو پھر کیا کرتے تھے؟) انہوں نے کہا: وہ پالان و کجاوہ پکڑتے اور اسے سامنے رکھ کر اس کے آخری حصہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (507) و مسلم (247 / 502)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَا الشَّيْءُ الَّذِي يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ سُتْرَةً؟)
سترہ کے قابل کون سی چیز ہے؟
حدیث نمبر: 775
775 - وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اپنے آگے رکھ لے تو وہ نماز پڑھے اور جو اس سے پرے گزرے اس کی کوئی پرواہ نہ کرے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (241 / 499)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِثْمُ المُرُورِ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ
حدیث نمبر: 776
776 - عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"وَلَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو النَّصْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ"أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، أَوْ سَنَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوجہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کو پتا چل جائے کہ اسے کتنا (گناہ یا نقصان) ہو گا تو اس کے لیے، اس کے آگے سے گزرنے سے چالیس تک کھڑے رہنا، بہتر ہوتا۔“ ابونضر نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس دن یا ماہ یا چالیس سال فرمائے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (510) و مسلم (261/ 507)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْعُ مَنْ يَمُرُّ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو روکنا
حدیث نمبر: 777
777 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ"، هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ، وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے چھپا رہی ہو (یعنی کسی چیز کو سترہ بنا کر نماز پڑھے) اور پھر بھی کوئی شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے، لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو پھر وہ اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم کے الفاظ بھی اسی معنی میں ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (509) و مسلم (259/ 505)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (حُكْمُ مُرُورِ المَرْأَةِ وَالحِمَارِ وَالكَلْبِ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے سامنے سے عورت، گدھا اور کتے کے گزرنے کا حکم
حدیث نمبر: 778
778 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"تَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورت، گدھا اور کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں، جبکہ پالان کی آخری لکڑی کی مثل کوئی چیز اس سے بچاتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (266/ 511)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الاِسْتِلْقَاءُ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے سامنے لیٹنا
حدیث نمبر: 779
779 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تہجد پڑھا کرتے تھے جبکہ میں، آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی جس طرح (امام کے آگے) جنازہ رکھا ہوتا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (383، 384) و مسلم (267/ 512)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لا تَفْسُدُ الصَّلَاةُ بِمُرُورِ الحِمَارِ)
گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 780
780 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کسی دیوار کی اوٹ لیے بغیر منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، پس میں ایک صف کے آگے سے گزرا، پھر میں گدھی سے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور خود صف میں شامل ہو گیا، اور کسی نے بھی مجھ پر اعتراض نہ کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (493) و مسلم (254 / 504)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَرْغِيبُ السُّتْرَةِ)
سترے کی ترغیب
حدیث نمبر: 781
الفصل الثاني 781 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ قَالَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيَنْصِبْ عَصَاهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصَى فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو پھر اپنی لاٹھی گاڑ لے، اور اگر اس کے پاس لاٹھی بھی نہ ہو تو پھر ایک لکیر کھینچ لے، پھر اس کے آگے سے جو بھی گزر جائے وہ اس کے لیے مضر نہیں ہو گا۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (689) و ابن ماجه (943)
٭ ھذا الحديث ضعفه سفيان بن عيينة والدارقطني والجمھور و ھوالصواب .»
٭ ھذا الحديث ضعفه سفيان بن عيينة والدارقطني والجمھور و ھوالصواب .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (أَنْ تُوضَعَ السُّتْرَةُ قَرِيبًا)
سترہ قریب کھڑا کیا جائے
حدیث نمبر: 782
782 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا، لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہو جائے، تاکہ شیطان اس کی نماز قطع نہ کر سکے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (695) [والنسائي (2/ 62 ح 749) و صححه ابن خزيمة (803) و ابن حبان (409) و الحاکم علٰي شرط الشيخين (1/ 251، 252) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (أَلَّا تَكُونَ السُّتْرَةُ مُلَاصِقَةً لِلْجَبِينِ)
سترہ پیشانی کے بالکل سامنے نہ ہو
حدیث نمبر: 783
783 - وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ، وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ، وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بھی کسی لکڑی، ستون اور درخت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں ابرو کے سامنے کرتے تھے، اور آپ اس کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (693)
٭ ضباعة لا تعرف والمھلب: مجھول، والوليد بن کامل لين الحديث .»
٭ ضباعة لا تعرف والمھلب: مجھول، والوليد بن کامل لين الحديث .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف