مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَظِيفَةٌ قَيِّمَةٌ)
قیمتی وضیفہ
حدیث نمبر: 814
814 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟"فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفْسُ فَقَلْتُهَا، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آ کر صف میں شامل ہو گیا، اس حال میں کہ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی، اس نے کہا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے حمد ہے، حمد بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ وہ پھر خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ اس نے کوئی قابلِ مؤاخذہ بات نہیں کی۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: میں آیا تو میری سانس پھول چکی تھی، چنانچہ وہ کلمات میں نے کہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو ان کلمات کی طرف سبقت کرتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے کون انہیں اوپر لے کر جائے۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (149/ 600)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَنْ تُقْرَأَ الثَّنَاءُ بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الإِحْرَامِ، رِوَايَةُ التِّرْمِذِي وَأَبِي دَاوُد)
تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھی جائے، بروایت ترمذی و ابوداؤد
حدیث نمبر: 815
الْفَصْلُ الثَّانِي 815 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے، تیری تعریف کے ساتھ (ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں) تیرا نام با برکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ حسن، رواہ الترمذی وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (243) و أبو داود (776) [و ابن ماجه (806) من طريق آخر و صححه الحاکم (235/1) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (أَنْ تُقْرَأَ الثَّنَاءُ بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الإِحْرَامِ، رِوَايَةُ ابْنِ مَاجَه)
تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھی جائے، بروایت ابن ماجہ
حدیث نمبر: 816
816 - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ [ حَدِيثِ ] حَارِثَةَ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اسے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اس حدیث کو صرف حارثہ کے واسطہ سے جانتے ہیں، جبکہ اس کی کمزور قوتِ یادداشت کی وجہ سے اس پر کلام کیا گیا ہے۔ (حسن)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (804) [و أبو داود کما سيأتي (1217) و صححه ابن خزيمة (467) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (دُعَاءٌ يُقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں پڑھی جانے والی ایک دعا
حدیث نمبر: 817
817 - وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا". أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثَهِ وَهَمْزَهِ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ:"وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَذَكَرَ فِي آخِرِهِ:"مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ”اللہ بہت ہی بڑا ہے، اللہ بہت ہی بڑا ہے، اللہ بہت ہی بڑا ہے“، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» ”اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے“، تین مرتبہ فرمایا: «وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ کے لیے صبح و شام پاکیزگی ہے“، «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ» ”میں شیطان سے اس کی پھونک، اس کے وسوسے اور اس کے خطرے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔““ ابوداؤد، ابن ماجہ، البتہ ابن ماجہ نے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» کا ذکر نہیں کیا، اور انہوں نے آخر پر «مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» کا ذکر کیا، اور عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی پھونک سے مراد کبر، اس کے وسوسے سے مراد شعر اور اس کے خطرے سے جنون مراد ہے۔ [اسنادہ حسن] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (764) و ابن ماجه (807) [و صححه ابن حبان (443، 444) وابن الجارود (180) والحاکم (1/ 235) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ السَّكْتَةِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں سکتہ کا بیان
حدیث نمبر: 818
818 - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَصَدَّقَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ نَحْوَهُ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو سکتے یاد کیے، ایک سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیرِ تحریمہ کہتے اور ایک سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کی قراءت سے فارغ ہوتے، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کی۔ ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «818 حسن، رواه أبو داود (779) والترمذي (251 وقال: حسن) و ابن ماجه (844) والدارمي (283/1 ح 1246) [و صححه ابن خزيمة (1578) و ابن حبان (448) والحاکم (1/ 215) علٰي شرط الشيخين ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (أَنْ تُقْرَأَ الثَّنَاءُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى فَقَطْ)
ثناء صرف پہلی رکعت میں پڑھی جائے
حدیث نمبر: 819
819 - وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَمْ يَسْكُتْ، هَكَذَا فِي"صَحِيحِ مُسْلِمٍ"، وَذَكَرَهُ الْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَادِهِ، وَكَذَا صَاحِبُ"الْجَامِعِ"عَنْ مُسْلِمٍ وَحْدَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے قراءت شروع کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکتہ نہیں فرماتے تھے۔ صحیح مسلم میں اسی طرح ہے، حمیدی رحمہ اللہ نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کے مفردات میں ذکر کیا، اور اسی طرح صاحب الجامع نے اسے صرف مسلم سے روایت کیا ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (148 / 599)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الدُّعَاءُ بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الإِحْرَامِ)
تکبیر تحریمہ کے بعد کی دعا
حدیث نمبر: 820
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 820 - عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ:"إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ، وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ، لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ"، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ” ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ، دونوں جہانوں کے رب کے لیے ہے، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اطاعت گزار ہوں،“ «اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ، لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! بہترین اعمال و اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، ان بہترین اعمال و اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے، برے اعمال اور برے اخلاق سے مجھے بچا، ان برے اعمال و اخلاق سے صرف تو ہی بچا سکتا ہے۔““ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 820]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه النسائي (2/ 129 ح 897)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (دُعَاءٌ لِصَلَاةِ النَّافِلَةِ)
نفل نماز کی ایک دعا
حدیث نمبر: 821
821 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ:"اللَّهُ أَكْبَرُ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ حَدِيثِ جَابِرٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:"وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ"، ثُمَّ قَالَ:"اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ"، ثُمَّ يَقْرَأُ، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفل نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا فرماتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ”میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے عدم سے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“ اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے مثل ذکر کیا، البتہ انہوں نے «وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ”میں مسلمان ہوں“ ذکر کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ”اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور ہم تیری حمد کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت فرماتے۔ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (2/ 131 ح 899 ببعض الإختلاف)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (لَا صَلَاةَ بِغَيْرِ سُورَةِ الفَاتِحَةِ)
سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں
حدیث نمبر: 822
(12) بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 822 - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:"لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے (نماز میں) سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔“ بخاری، مسلم۔ متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”(اس کی نماز نہیں ہوتی) جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زائد نہ پڑھے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 822]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (756) و مسلم (34/ 394) والرواية الثانية له (37، 36/ 394)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عَظَمَةُ سُورَةِ الفَاتِحَةِ)
سورہ فاتحہ کی عظمت
حدیث نمبر: 823
823 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ"ثَلَاثًا - غَيْرُ تَمَامٍ"، فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؛ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز پڑھی لیکن اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ (نماز) ناقص ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا: ”مکمل نہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”اسے اپنے دل میں پڑھو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا، اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے مل گیا، چنانچہ جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”ہر قسم کی حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی، اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ”جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب کہتا ہے: «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”یوم جزا کا مالک ہے۔“ اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری شان و شوکت بیان کی، جب بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔“ اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو اس نے سوال کیا، اور جب بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ٭ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ٭ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 6-7] ”ہمیں سیدھی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کی راہ جو گمراہ ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا۔“”“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 823]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (38/ 395)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح