🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (رَفْعُ اليَدَيْنِ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، رِوَايَةُ البُخَارِي)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا رفع یدین، بروایت بخاری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 794
وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز شروع کرتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور ہاتھ اٹھاتے تھے، جب رکوع کرتے تو ہاتھ اٹھاتے، جب «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو ہاتھ اٹھاتے تھے۔ جبکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوع روایت کیا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 794]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (739)
٭ و أعل بما لا يقدح و صححه جمھور المحدثين، جعلنا الله في زمرتھم .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (739)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَفْعُ اليَدَيْنِ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، رِوَايَةُ البُخَارِي وَمُسْلِم)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا رفع یدین، بروایت بخاری و مسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 795
795 - وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ انہیں کانوں کے برابر لے آتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور ایک دوسری روایت میں: حتیٰ کہ وہ انہیں کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 795]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (737) و مسلم (25/ 391)
٭ و جاء في رواية ضعيفة عند النسائي (205/2. 206ح1086): ’’و إذا سجد و إذا رفع رأسه من السجود‘‘ يعني رفع يديه، و سنده ضعيف، قتادة مدلس و عنعن و لم يروعنه شعبة، بل رواه سعيد بن أبي عروبة عنه .»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَلْسَةُ الاسْتِرَاحَةِ)
جلسہ استراحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 796
796 - وَعَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 796]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (823)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يَضَعُ اليَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ؟)
نماز میں ہاتھ کس طرح باندھنے چاہئیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 797
797 - وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفْعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَكَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ، سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کی تو ہاتھ اٹھا کر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر اپنا کپڑا لپیٹ لیا، پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا، جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے، رفع الیدین کیا اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر رکوع کیا، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا تو رفع الیدین کیا، اور جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 797]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (54/ 401)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ وَضْعِ اليَدِ اليُمْنَى عَلَى اليَسْرَى فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 798
798 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ”ہر آدمی دورانِ نماز اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے۔“ اسے بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (740)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ التَّكْبِيرَاتِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں تکبیرات کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 799
799 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ"رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”سمع اللہ لمن حمدہ“ فرماتے، پھر آپ حالتِ قیام میں «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”ربنا لک الحمد“ پڑھتے، پھر جب سجدے کے لیے جھکتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر جب سجدہ کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر نماز مکمل ہونے تک اسی طرح کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (789) و مسلم (28 / 392)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟)
افضل نماز کون سی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 800
800 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز سب سے افضل ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (164 / 756)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَاةُ النَّبِيِّ ﷺ)
نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 801
الْفَصْلُ الثَّانِي 801 - عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصَبِّي رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ"اللَّهُ أَكْبَرُ"، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا، فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُولُ"اللَّهُ أَكْبَرُ"، وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَنْهَضُ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ، وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ الْأَرْضَ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ - يَعْنِي السَّبَّابَةَ - وَفِي أُخْرَى لَهُ: وَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے فرمایا: بیان کرو! انہوں نے فرمایا: جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کا ارادہ فرماتے تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر قراءت کرتے، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ دیتے، پھر برابر ہو جاتے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سر کو جھکاتے نہ بلند کرتے، پھر سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، پھر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور اطمینان کے ساتھ برابر کھڑے ہو جاتے، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور سجدہ کے لیے زمین کی طرف جھک جاتے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے، پاؤں کی انگلیاں کھولتے، پھر سر اٹھاتے، بائیں پاؤں کو موڑتے اور اس پر بیٹھ جاتے، اور اس قدر اطمینان سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی، اور اطمینان سے بیٹھے رہتے، پھر سجدہ کرتے، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے ہوئے اٹھتے، بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھ جاتے، اور اس قدر اطمینان سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی، پھر کھڑے ہوتے، پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے، پھر جب دوسری رکعت کے بعد کھڑے ہوتے تو «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ جب آخری سجدہ ہوتا جس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا بایاں پاؤں باہر نکال لیا کرتے اور بائیں سرین پر بیٹھ جاتے، اور پھر سلام پھیرتے، انہوں (دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے فرمایا: آپ نے درست کہا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد، دارمی، جبکہ ترمذی، اور ابن ماجہ نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابوداؤد میں ابوحمید رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھے گویا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں پکڑا ہوا ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح کر دیا اور انہیں پہلوؤں سے دور رکھا، اور انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر سجدہ کیا تو ناک اور پیشانی کو زمین پر رکھا، ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھا، اور ہتھیلیوں کو کندھوں کے برابر رکھا، اور رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کا کوئی حصہ ان کے ساتھ لگنے نہ دیا، حتیٰ کہ (سجدہ سے) فارغ ہو گئے، پھر بیٹھ گئے تو بائیں پاؤں کو بچھا دیا اور دائیں پاؤں کے پنجے کو قبلہ رخ کر لیا، دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ دیا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے: جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا، اور جب چوتھی رکعت کے بعد بیٹھے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بائیں سرین کو زمین کے ساتھ ملا دیا (یعنی بائیں سرین پر بیٹھے) اور دونوں پاؤں ایک ہی طرف نکال دیے۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد والدارمی والترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (730) والدارمي (313/1، 314 ح 1363) والترمذي (304، 305) و ابن ماجه (1061) [و صححه ابن خزيمة (587، 588) وابن حبان (442، 491، 492) ]
٭ الرواية الثانية والثالثة لأبي داود (734. 735، 731)
٭ عبد الحميد بن جعفر ثقة و ثقه الجمھور و محمد بن عمرو بن عطاء سمعه من أبي حميد وغيره، و أعل بما لا يقدح .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسْأَلَةُ رَفْعِ اليَدَيْنِ عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الإِحْرَامِ)
تکبیر تحریمہ کے رفع یدین کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 802
802 - وَعَنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ، وَحَاذَى إِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور اپنے انگوٹھوں کو کانوں کے برابر کیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ اور ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک اٹھایا کرتے تھے۔ [ضعیف] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (724)
٭ عبدالجبار بن وائل: لم يسمع من أبيه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفِيَّةُ وَضْعِ اليَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ)
ہاتھ باندھنے کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 803
803 - وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
قبیصہ بن ہلب رحمہ اللہ اپنے والد (ہلب رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو آپ دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑ لیتے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (252 وقال: حسن .) و ابن ماجه (809) [و عند أحمد (226/5): ’’يضع ھذه علٰي صدره‘‘ وسنده حسن] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں