مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لا تَفْسُدُ الصَّلَاةُ بِمُرُورِ الكَلْبِ وَالحِمَارِ)
کتے اور گدھے کے گزنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 784
784 - وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا، وَمَعَهُ عَبَّاسٌ، فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ، وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَا بَالَى بِذَلِكَ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَلِلنَّسَائِيِّ نَحْوُهُ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم جنگل میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ کی معیت میں ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے سترہ کے بغیر صحرا میں نماز ادا کی، جبکہ ہماری گدھی اور کتیا آپ کے آگے کھیل رہی تھیں، آپ نے اسے کوئی اہمیت نہ دی۔ ابوداؤد، نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (718) و النسائي (2/ 65 ح 754)
٭ عباس بن عبيد الله لم يدرک عمه الفضل بن عباس رضي الله عنه فالسند منقطع .»
٭ عباس بن عبيد الله لم يدرک عمه الفضل بن عباس رضي الله عنه فالسند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (يَنْبَغِي مَنْعُ مَنْ يَمُرُّ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکا جائے
حدیث نمبر: 785
785 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ 785 - (وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ") ، أَيْ: لَا يُبْطِلُهَا شَيْءٌ مَرَّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ("وَادْرَءُوا") ، أَيِ: ارْفَعُوا الْمَارَّ ("مَا اسْتَطَعْتُمْ") ، قِيلَ حَدِيثُ الْقَطْعِ، بِمُرُورِ الْمَرْأَةِ وَغَيْرِهَا مَنْسُوخٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَذَكَرَهُ ابْنُ الْمَلَكِ، لَكِنَّهُ يَتَوَقَّفُ عَلَى مَعْرِفَةِ التَّارِيخِ ("فَإِنَّمَا هُوَ") ، أَيِ: الْمَارُّ ("شَيْطَانٌ") : قَالَ الطِّيبِيُّ: مُحْتَمَلٌ أَنْ يُرَادَ بِشَيْءٍ الدَّفْعُ، أَيْ: لَا يُبْطِلُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ مِنَ الدَّفْعِ، فَادْفَعُوا الْمَارَّ بِقَدْرِ اسْتِطَاعَتِكُمْ، وَحُذِفَ الْمَارُّ لِدَلَالَةِ السِّيَاقِ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُرَادَ بِهِ أَيْ بِشَيْءٍ الْمَارُّ، وَالضَّمِيرُ الْمَنْصُوبُ الْعَائِدُ مَحْذُوفٌ، قَالَ: فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ وَالْكَلْبَ وَالْحِمَارَ لَا تَقْطَعُ، وَقِيلَ تَقْطَعُ لِلْحَدِيثِ السَّابِقِ، وَقِيلَ تَقْطَعُهَا الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، وَبِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ) . [ ص: 648 ]
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی، پس مقدور بھر اسے روکو، کیونکہ وہ (گزرنے والا) شیطان ہے۔“ (حسن، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (719) [و للحديث شاھد قوي عند الدارقطني (1/ 367) ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (جَوَازُ الحَرَكَةِ اليَسِيرَةِ فِي الصَّلَاةِ)
دوران نماز معمولی حرکت کی جا سکتی ہے
حدیث نمبر: 786
الفصل الثالث 786 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِيهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلِيَ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، قَالَتْ: وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سو جایا کرتی تھی، جبکہ میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کی جگہ پر ہوتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ مجھے ہاتھ سے دبا دیتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا دیتی، انہوں نے بتایا: ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (513) و مسلم (272 / 512)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (المُرُورُ أَمَامَ المُصَلِّي جَرِيمَةٌ)
نمازی کے سامنے سے گزرنا جرم ہے
حدیث نمبر: 787
787 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ، كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخُطْوَةِ الَّتِي خَطَا"، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کو، نماز میں مشغول اپنے بھائی کے آگے سے گزرنے کا گناہ معلوم ہو تو اس کے لیے سو برس کھڑے رہنا ایک قدم اٹھانے سے بہتر ہوتا۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه ابن ماجه (946)
٭ عبيد الله بن عبد الرحمٰن بن موھب: و ثقه الجمھور و عمه حسن الحديث .»
٭ عبيد الله بن عبد الرحمٰن بن موھب: و ثقه الجمھور و عمه حسن الحديث .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الخَسْفُ أَهْوَنُ مِنَ المُرُورِ أَمَامَ المُصَلِّي)
زمین میں دھنس جانا نمازی کے آگے گزرنے سے ہلکا ہے
حدیث نمبر: 788
788 - وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ) ، رَوَاهُ مَالِكٌ.
کعب احبار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتا چل جاتا کہ اسے اس پر کتنا گناہ ملے گا تو وہ سمجھتا کہ اسے دھنسا دیا جائے تو یہ اس کے لیے اس کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا، اور ایک روایت میں ہے: اس پر آسان ہوتا۔ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 155 ح 363)
٭ زيد بن أسلم برئ من التدليس کما حققته في الفتح المبين تحقيق کتاب المدلسين لابن حجر (ص 23 ت 1/11)
٭ قوله: ’’أھون عليه‘‘لم أجده والله أعلم .»
٭ زيد بن أسلم برئ من التدليس کما حققته في الفتح المبين تحقيق کتاب المدلسين لابن حجر (ص 23 ت 1/11)
٭ قوله: ’’أھون عليه‘‘لم أجده والله أعلم .»
قال الشيخ الألباني: مَوْقُوف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (المَسَافَةُ الَّتِي يُجِيزُ العُبُورَ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے سامنے سے کتنے فاصلے سے گزرنا ٹھیک ہے؟
حدیث نمبر: 789
789 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ، وَالْخِنْزِيرُ، وَالْيَهُودِيُّ، وَالْمَجُوسِيُّ، وَالْمَرْأَةُ، وَتُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کے بغیر نماز پڑھے تو گدھا، خنزیر، یہودی، مجوسی اور عورت گزر کر اس کی نماز توڑ دیتے ہیں، اور اگر وہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے برابر اس کے آگے سے گزر جائیں تو پھر اس کی نماز ہو جائے گی۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (704)
٭ شک الراوي في اتصاله بقوله: أحسبه .»
٭ شک الراوي في اتصاله بقوله: أحسبه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (أَدَاءُ الصَّلَاةِ بِالسَّكِينَةِ وَالطُّمَأْنِينَةِ)
نماز سکون اور اطمینان سے ادا کی جائے
حدیث نمبر: 790
(10) بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 790 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ، فَقَالَ:"وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ - أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا -: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:"إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِّيَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَفِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک جانب تشریف فرما تھے، پس اس نے نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دے کر فرمایا: ”واپس جا کر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ پس وہ گیا اور نماز دہرائی، پھر آ کر سلام عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا: ”واپس جا کر نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ پس تیسری یا چوتھی مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو تو خوب اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہو، پھر جس قدر قرآن تمہیں یاد ہو پڑھو، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کرو، پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو، پھر اٹھو حتیٰ کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو، پھر اٹھو حتیٰ کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”پھر اٹھو حتیٰ کہ تم اطمینان کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، پھر اپنی تمام (فرض و نفل) نمازوں میں ایسے ہی کیا کرو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (757) و مسلم (45/ 397)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (صِفَةُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 791
791 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ سے اور قراءت ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے شروع کیا کرتے تھے، جب آپ رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک نہ اوپر اٹھاتے تھے اور نہ نیچے جھکاتے تھے، بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان (برابر) رکھتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوتے اور پھر سجدہ کرتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر دوسرا سجدہ کرتے، آپ ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے۔ آپ بائیں پاؤں کو بچھا دیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے، آپ شیطان کی طرح بیٹھنے (سرین کے بل بیٹھ کر ٹانگیں کھڑی کر لینا اور ہاتھ زمین پر لگا دینا) سے اور درندوں کی طرح بازو بچھا کر سجدہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ پر نماز ختم کیا کرتے تھے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (240 / 498) و أعل بما لا يقدح .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أُمُورٌ مُتَعَلِّقَةٌ بِكَيْفِيَّةِ الصَّلَاةِ)
نماز کے طریقے سے متعلق چند امور
حدیث نمبر: 792
792 - وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْأُخْرَى، وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت میں فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر لیے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، پھر اپنی کمر کو جھکایا، جب رکوع سے سر اٹھایا تو بالکل سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آگئی، جب سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ رکھے جو کہ بچھے ہوئے تھے نہ سمٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کو قبلہ کی طرف کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں میں بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا، اور جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پاؤں کو آگے بڑھا کر سرین پر بیٹھ گئے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 792]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (828)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رَفْعُ اليَدَيْنِ سُنَّةٌ نَبَوِيَّةٌ ﷺ)
رفع الیدین سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 793
793 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ، وَقَالَ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے، رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رکوع سے اٹھتے وقت) فرماتے: ” «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی“، «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”ہمارے رب تمام حمد و ستائش تیرے ہی لیے ہے““ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کے مابین یہ (رفع الیدین) نہیں کیا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 793]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (735) و مسلم (21/ 390)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه