مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَمْلُ الطِّفْلِ)
بچے کو اٹھانا
حدیث نمبر: 984
984 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی امامت کراتے ہوئے دیکھا جبکہ (آپ کی نواسی) امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہما آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو انہیں (کندھے سے) اتار دیتے اور جب سجدوں سے سر اٹھاتے تو پھر انہیں اٹھا لیتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (516) و مسلم (42/ 543)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَظْمُ التَّثَاؤُبِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں جمائی روکنا
حدیث نمبر: 985
985 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ ; فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو دورانِ نماز جمائی آئے تو جس قدر ہو سکے اسے روکے کیونکہ (منہ کھلا ہو تو) شیطان داخل ہو جاتا ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (59/ 2996)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِذَا جَاءَ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ يُغْلِقُ فَمَهُ وَلَا يَقُولُ "هَا")
نماز میں جمائی آئے تو منھ بند رکھے اور ”ہا“ نہ کہے
حدیث نمبر: 986
986 - وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:"إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ: هَا، فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ".
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ”جب تم میں سے کسی شخص کو دورانِ نماز جمائی آئے، تو جس قدر ہو سکے اسے روکے، ہا ہا نہ کرے، یہ تو محض شیطان کی طرف سے ہے، وہ اس پر ہنستا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6226)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَعَ جِنٍّ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جن کے ساتھ کا واقعہ
حدیث نمبر: 987
987 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ:"رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ رات اچانک ایک سرکش جن آیا تاکہ میری نماز خراب کر دے، لیکن اللہ نے مجھے اس پر اختیار عطا فرمایا تو میں نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ کیا حتیٰ کہ تم سب اسے دیکھ لیتے، تو پھر مجھے میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾ [سورة ص: 35] ”میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو“، پس میں نے اسے ذلیل کر کے بھگا دیا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (461) و مسلم (39/ 541)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَنْبِيهُ الإِمَامِ عِنْدَ الخَطَأِ)
امام کی غلطی پر اسے متنبہ کرنا
حدیث نمبر: 988
988 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ". وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ:"التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو نماز میں کوئی عارضہ پیش آ جائے تو وہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ کہے، ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو خواتین کے لیے ہے۔“ متفق علیہ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا مردوں کے لیے ہے جبکہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا خواتین کے لیے ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (684) [الرواية الأولٰي] 1203 [الرواية الثانية] و مسلم (102/ 421)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْعُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں سلام کا جواب منع ہے
حدیث نمبر: 989
الْفَصْلُ الثَّانِي. 989 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، أَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہجرتِ حبشہ سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالتِ نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے، جب ہم سرزمینِ حبشہ سے واپس (مکہ) آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ» ”اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنا حکم ظاہر کرتا ہے، اور اب جو نیا حکم آیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نماز میں بات نہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ اسنادُہٗ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (924)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَا هُوَ المَقْصُودُ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں کیا مقصود ہے
حدیث نمبر: 990
990 - وَقَالَ:"إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا. فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنَكَ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تو قراءتِ قرآن اور اللہ کے ذکر کے لیے ہے، پس جب تم اس (نماز) میں ہو تو تمہارے پیش نظر بھی یہی کچھ ہونا چاہیے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (931) [بغير ھذا اللفظ، والبيھقي (356/2) و اللفظ نحوه] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (رَدُّ السَّلَامِ بِالإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ)
دورانِ نماز اشارے سے سلام کا جواب دینا
حدیث نمبر: 991
991 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ نَحْوُهُ، وَعِوَضُ: بِلَالٍ صُهَيْبٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالتِ نماز میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کیسے جواب دیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے۔ ترمذی، نسائی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور بلال رضی اللہ عنہ کی جگہ صہیب رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ صحیح، [رواہ الترمذی والنسائی] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (368 وقال: ’’حسن صحيح‘‘ وسنده حسن) والنسائي (5/3 ح 1188 عن صھيب وھو حديث صحيح) [و صححه ابن خزيمة (888) و ابن حبان (الإحسان: 2258) والحاکم (3/ 12) ووافقه الذهبي.] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دُعَاءُ العُطَاسِ فِي الصَّلَاةِ)
دوران نماز چھینک آنے پر دعا
حدیث نمبر: 992
992 - (وَعَنْ رَفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ فَقَالَ:"مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟"، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ. ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رِفَاعَةُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا، أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو مجھے چھینک آ گئی تو میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى» ”ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، حمد بہت زیادہ، خالص اور با برکت، جیسے ہمارے رب کو پسند اور محبوب ہے“، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ کر ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا: ”نماز میں بولنے والا کون تھا؟“ کسی نے جواب نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ پوچھا، تو پھر کسی نے جواب نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا تو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بات کی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تیس سے کچھ زیادہ فرشتے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان میں سے کون انہیں اوپر لے کر چڑھتا ہے“۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (404 وقال: حديث حسن) و أبو داود (773) والنسائي (145/2 ح 932)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (التَّثَاؤُبُ مِنْ تَأْثِيرِ الشَّيْطَانِ)
جمائی شیطان کی تاثیر سے ہے
حدیث نمبر: 993
993 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ"وَفِي أُخْرَى لَهُ وَلِابْنِ مَاجَهْ: فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ مقدور بھر اسے روکنے کی کوشش کرے۔“ ترمذی اور اسی کی دوسری روایت اور ابن ماجہ میں ہے: ”وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔“ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (370 وقال: حسن صحيح، 1746) و ابن ماجه (968) [و للحديث شواھد عند البخاري (6223) وغيره .] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح