🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَعْضُ صُوَرِ سُجُودِ السَّهْوِ)
سجدہ سہو کی بعض صورتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
(20) بَابُ السَّهْوِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1014 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى؟ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے مغالطے میں مبتلا کر دیتا ہے حتیٰ کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، جب تم میں سے کوئی ایسی صورت (تردد) پائے تو وہ بیٹھنے کی حالت ہی میں دو سجدے کر لے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1232) و مسلم (82/ 389)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُجُودُ السَّهْوِ عَلامَةُ ذُلٍّ لِلشَّيْطَانِ)
سجدہ سہو شیطان کے لیے ذلت کا نشان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1015
1015 - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا؟ فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا، وَفِي رِوَايَتِهِ:"شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ".
عطا بن یسار رحمہ اللہ، ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے پتا نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو وہ شک دور کرے اور یقین پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ دو سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے یہ رکعت چار مکمل کرنے کے لیے پڑھی ہے تو پھر وہ دو سجدے شیطان کی تذلیل کے لیے ہوں گے۔“ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، امام مالک رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے اسے مرسل روایت کیا ہے، اور ان کی روایت میں ہے: ”اس نے ان دو سجدوں سے اس کو جفت بنا دیا۔“ رواہ مسلم و مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (88/ 571) و مالک (95/1 ح 210)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَوْلُ الرَّسُولِ الْكَرِيمِ ﷺ: إِنِّي بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ میں بھی انسان ہوں اور بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1016
1016 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ:"وَمَا ذَاكَ؟"قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ:"إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز ظہر پانچ رکعتیں پڑھیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے، اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تم جیسا انسان ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو ویسے ہی میں بھول جاتا ہوں، پس جب کبھی میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک گزرے تو وہ درست بات تلاش کرنے کی پوری کوشش کرے اور اس بنیاد پر نماز مکمل کرے۔ پھر سلام پھیرے اور پھر دو سجدے کرے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (401) و مسلم (89/ 572)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حِينَ سَلَّمَ النَّبِيُّ ﷺ بَعْدَ رَكْعَتَيْنِ بَدَلًا مِنْ أَرْبَعٍ)
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چار کے بجائے دو رکعت بعد سلام پھیر دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
1017 - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ. قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: قَدْ سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا - قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَخَرَجَتْ سَرَعَانُ الْقَوْمِ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟! وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ:"لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ"، فَقَالَ:"أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟"فَقَالُوا: نَعَمْ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ، وَفِي أُخْرَى لَهُمَا: فَـقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَدَلَ"لَمْ أَنْسَ"، وَلَمْ تُقْصَرْ: كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!.
ابن سیرین رحمہ اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام بھی بتایا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں، انہوں نے فرمایا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے گویا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصہ کی حالت میں تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا، انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور اپنا دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دیا، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے باہر چلے گئے، باقی صحابہ نے کہا: (کیا) نماز کم کر دی گئی ہے؟ صحابہ کرام میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرنے سے گھبراتے تھے، صحابہ میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے اور اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں بھولا ہوں نہ نماز کم کی گئی ہے“، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے، اور جو نماز چھوڑی تھی وہ پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کی مثل یا ان سے زیادہ لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا۔ چنانچہ انہوں (تلامذہ) نے ابن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا؟ وہ بیان کرتے ہیں، مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا۔ بخاری، مسلم اور الفاظ حدیث بخاری کے ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم کی گئی ہے“ کے بدلے «كُلُّ ذٰلِك لَمْ يَكُنْ» کہا: ”یہ سب کچھ نہیں ہوا“، تو انہوں (ذوالیدین) نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ان میں (یعنی نہ میں بھولا ہوں نہ نماز قصر کی گئی ہے) سے کچھ تو ہوا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6051) و مسلم (97/ 573)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَعْضُ صُوَرٍ أُخْرَى لِسُجُودِ السَّهْوِ)
سجدہ سہو کی کچھ اور صورتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1018
1018 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ، وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نماز ظہر پڑھائی تو آپ پہلی دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور تشہد کے لیے نہ بیٹھے، تو صحابہ بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ نے نماز پڑھ لی تو صحابہ نے سلام پھیرنے کا انتظار کیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1224) و مسلم (86/ 570)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ التَّشَهُّدِ بَعْدَ سُجُودِ السَّهْوِ)
سجدہ سہو کے بعد تشہد کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1019
الْفَصْلُ الثَّانِي 1019 - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھول گئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (395) [و أبو داود (1039) و صححه ابن خزيمة (1062) و ابن حبان (536) والحاکم علٰي شرط الشيخين (1/ 323) ووافقه الذهبي و أعل بعلة غير قادحة. ] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَاذَا يَفْعَلُ إِذَا فَاتَهُ الْقُعُودُ الْأَوَّلُ)
پہلا قعدہ چھوٹ جائے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020
1020 - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب امام دو رکعتیں پڑھ کر (تشہد پڑھے بغیر) کھڑا ہو جائے، اگر مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے اسے یاد آ جائے تو وہ بیٹھ جائے، اور اگر وہ مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہو جائے تو پھر نہ بیٹھے، اور سہو کے دو سجدے کر لے۔“ حسن، رواہ ابوداؤد وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (1036) و ابن ماجه (1208) [وسنده ضعيف جدًا و للحديث شاھد حسن عند الطحاوي في معاني الآثار (440/1) وسنده حسن. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يُتِمُّ الصَّلَاةَ إِذَا نَسِيَ رَكْعَةً)
جب نماز میں رکعت پڑھنا بھول جائے تو نماز کو پورا کیسے کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1021
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1021 - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعَصْرَ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ: أَصَدَقَ هَذَا؟ قَالُوا نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عصر پڑھائی اور تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے تو خرباق نامی شخص جس کے ہاتھ لمبے تھے، آپ کے گھر کے راستے میں کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! پھر اس نے آپ سے تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے کے متعلق ذکر کیا، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ کر فرمایا: ”کیا یہ صحیح کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رکعت اور پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (101/ 574)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَاذَا يَفْعَلُ إِذَا شَكَّ فِي الصَّلَاةِ)
اگر نماز میں شک ہو جائے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1022
1022 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ، فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ"، رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص نماز پڑھے اور اسے نماز میں کمی کا شک ہو تو وہ نماز پڑھے حتیٰ کہ اسے زیادتی کا شک ہو جائے۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (1/ 195 ح 1689)
٭ فيه إسماعيل بن مسلم البصري وھو ضعيف الحديث و للسھو طرق أخري عن عبد الرحمٰن بن عوف عند ابن ماجه (1209) و أحمد (190/1، 193) وغيرھما دون ھذا اللفظ.»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُجُودُ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِهِمْ فِي سُورَةِ النَّجْمِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر کا سورۃ النجم میں سجدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
(21) بَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1023 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ (بِالنَّجْمِ) وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ ؛ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ کیا تو مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ (رواہ البخاری)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1071)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں