🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (حُكْمُ قَتْلِ المُؤْذِي فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں موذی چیز کو مارنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1004
1004 - (وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَلِلنَّسَائِيِّ مَعْنَاهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دو سیاہ چیزوں، سانپ اور بچھو کو قتل کر دو خواہ (تم) نماز میں ہو۔“ احمد، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی کی روایت اسی معنی میں ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (2/ 233 ح 7178) و أبو داود (921) والترمذي (390 وقال: حسن صحيح) و النسائي (3/ 10 ح 1203، 1204) [و ابن ماجه (1245) و صححه ابن حبان (528) وابن خزيمة (869) والحاکم (1/ 256) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَتْحُ البَابِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں دروازہ کھولنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
1005 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشَى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ وَذَكَرْتُ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازہ بند کر کے نفل ادا کر رہے تھے، میں آئی تو میں نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھول کر پھر اپنی جائے نماز پر واپس چلے گئے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا کہ دروازہ قبلہ کی سمت تھا۔ اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (6/ 31 ح 24528) و أبو داود (922) والترمذي (601 وقال: حسن غريب.) والنسائي (3/ 11 ح 1207)
٭ الزھري مدلس ولم أجد تصريح سماعه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا انْتَقَضَ الوُضُوءُ)
جب کسی کا وضو ٹوٹ جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
1006 - وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مَعَ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانٍ.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی دورانِ نماز ہوا خارج ہو جائے تو وہ جا کر وضو کرے اور آ کر نماز دہرائے۔“ ابوداؤد اور ترمذی نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (205) والترمذي (1166، 1164) [و صححه ابن حبان (203، 204، 1301] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفِيَّةُ الخُرُوجِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ انْتِقَاضِ الوُضُوءِ)
نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو نکلنے کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1007
1007 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا دورانِ نماز وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر وہاں سے باہر نکل جائے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1114) [و ابن ماجه (1222) و صححه ابن خزيمة (1019) و ابن حبان (205، صحيح، رواه أبو داود (1114) [و ابن ماجه (1222) و صححه ابن خزيمة (1019) و ابن حبان (205، 206) والحاکم علٰي شرط الشيخين (1/ 184، 260) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِتْمَامُ الصَّلَاةِ بِدُونِ السَّلَامِ)
سلام کے بغیر نماز کا پورا ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1008
1008 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے جبکہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے، نماز کے آخر میں بیٹھا ہو، تو اس کی نماز پوری ہو گئی۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، اور انہوں نے فرمایا: اس حدیث کی اسناد قوی نہیں، انہوں (یعنی محدثین) نے اس کی اسناد کو مضطرب قرار دیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (408)
٭ عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَسِيَانُ الغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ)
رسول جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرنا بھول گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1009
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1009 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ كَمَا كُنْتُمْ، ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأَسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:"إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَنَسِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ"، (رَوَاهُ أَحْمَدُ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے تشریف لائے، چنانچہ آپ نے جب «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا تو پھر واپس چلے گئے اور انہیں اشارہ کیا کہ وہ اسی حالت میں رہیں، پھر آپ گئے، غسل کیا، پھر تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ”میں جنبی تھا، اور میں غسل کرنا بھول گیا تھا۔“ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (2/ 448 ح 9785) [و ابن ماجه (1220) و للحديث شواھد. ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا تَذَكَّرَ الإِمَامُ الحَدِيثَ عَلَى المِصْلَّى، بِرِوَايَةِ الإِمَامِ مَالِكٍ)
امام کو مصلیٰ پر حدیث یاد آ جائے، بروایت امام مالک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1010
1010 - وَرَوَى مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا.
اور امام مالک رحمہ اللہ نے عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے مرسل روایت کیا ہے۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (1/ 48 ح 108) [و الحديث السابق شاھد له. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح مُرْسل
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حِمَايَةُ مَوْضِعِ السُّجُودِ مِنَ الحَرَارَةِ)
سجدہ کی جگہ کو گرمی سے بچانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1011
1011 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصَى لِتَبْرُدَ فِي كَفِّي، أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي، أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ظہر ادا کر رہا تھا، میں نے کنکریوں کی مٹھی بھری تاکہ وہ میری مٹھی میں ٹھنڈی ہو جائیں، میں گرمی کی شدت کی وجہ سے ان پر سجدہ کیا کرتا تھا۔ ابوداؤد اور امام نسائی نے بھی اسی کی مثل روایت کیا ہے، «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ» ”اس کی سند حسن ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (399) و النسائي (2/ 204 ح 1082) [و ابن حبان: 267] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَوْلُ بَعْضِ الْكَلِمَاتِ فِي الصَّلَاةِ لِلاتِّقَاءِ مِنَ الشَّيْطَانِ)
شیطان سے بچنے کے لیے نماز میں کوئی کلمات کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1012
1012 - عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثُمَّ قَالَ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ، وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے، تو ہم نے آپ کو تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر فرمایا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ» ”میں تجھے اللہ کی لعنت کے ذریعے لعنت بھیجتا ہوں۔“ اور آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑ رہے ہوں، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں کچھ کہتے ہوئے سنا جو ہم نے اس سے پہلے آپ کو کہتے ہوئے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے بھی دیکھا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ وہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین مرتبہ کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“، پھر میں نے کہا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ» ”میں اللہ کی کامل لعنت کے ذریعے تجھ پر لعنت بھیجتا ہوں“، لیکن وہ تینوں مرتبہ پیچھے نہ ہٹا تو پھر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کے وقت یہاں بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (40/ 542)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرَّدُّ عَلَى السَّلَامِ بِالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں اشارہ سے سلام کا جواب دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
1013 - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ الرَّجُلُ كَلَامًا، فَرَجَعَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: إِذَا سُلِّمَ عَلَى أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَا يَتَكَلَّمْ، وَلْيُشِرْ بِيَدِهِ، رَوَاهُ مَالِكٌ.
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے اسے سلام کیا تو اس نے بول کر جواب دیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کے پاس واپس آئے اور اسے بتایا: جب تم میں سے کسی شخص کو حالتِ نماز میں سلام کیا جائے تو وہ بول کر جواب نہ دے بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دے۔ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه مالک (1/ 168 ح 406)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں