🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَحْدِيدُ السِّكِّينِ قَبْلَ الذَّبْحِ)
ذبح سے پہلے چھری کو تیز کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1454
1454 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، قَالَ: يَا عَائِشَةُ، هَلُمِّي الْمُدْيَةَ، ثُمَّ قَالَ: اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ، فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم فرمایا جس کی ٹانگیں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ تھیں، اسے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تاکہ آپ اسے قربان کریں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! چھری لاؤ۔“ پھر فرمایا: ”اسے پتھر پر تیز کرو۔“ میں نے ایسے ہی کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری پکڑ کر مینڈھے کو لٹایا اور اسے ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو یوں دعا کی: «بِسْمِ اللهِ، اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! اسے محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم)، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرما۔“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ذبح کیا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1967/19)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وُجُوبُ أَنْ يَكُونَ الْمَذْبُوحُ ذُو سِنَّيْنِ)
قربانی کے جانور کا دو دانتا ہونا ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1455
1455 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”صرف دو دانت والا جانور ذبح کرو، اگر تمہیں (اس کا ملنا) مشکل ہو تو پھر ایک سال کا مینڈھا ذبح کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1963/13)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِعْطَاءِ الصَّحَابَةِ قُرُودَ الْمَعَزِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کو بکریوں کا ریوڑ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1456
1456 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ. وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي جَذَعٌ. قَالَ: (ضَحِّ بِهِ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دی جائیں۔ (تقسیم کے بعد) بکری کا ایک سال کا بچہ باقی رہ گیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر لو۔“ اور ایک دوسری روایت میں: میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میرے حصے میں «جَذَعٌ» (ایک سال سے زائد عمر کا جانور) آیا ہے، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر لو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5555) و مسلم (1965/15)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُنَّةُ الذَّبْحِ فِي مَصْلَى الْعِيدِ)
جانور عید گاہ میں ذبح کرنا مسنون ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1457
1457 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گائے اور اونٹ عید گاہ میں ذبح کیا کرتے تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (982)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَقُّ السَّبْعَةِ فِي الْجَمَلِ وَالْبَقَرَةِ وَالْبِفْلِ)
اونٹ اور گائے بھینس میں سات آدمیوں کا حصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1458
1458 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَأَبُو دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کے لیے کافی ہے۔“ مسلم، ابوداؤد اور الفاظ حدیث ابوداؤد کے ہیں۔ رواہ مسلم و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1318/352) و أبو داود (2808)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ حَلْقِ الشَّعْرِ وَقَصِّ الأَظْفَارِ بَعْدَ رُؤْيَةِ هِلَالِ ذُو الْحِجَّةِ)
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال اور ناخن تراشنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1459
1459 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا، وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا، وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا، وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ ظِفَارِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب ذوالحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور جلد سے کوئی چیز نہ اتارے۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن۔“ [رواہ مسلم] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (42، 1977/39)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (42، 1977/39)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ أَيَّامِ عَشْرِ ذُو الْحِجَّةِ)
ذوالحجہ کے دس ایام کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1460
1460 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”باقی دنوں میں کیے گئے عمل کی نسبت ان دس ایام میں کیا گیا عمل اللہ کو انتہائی پسندیدہ ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جہاد بھی نہیں، الا یہ کہ کوئی شخص اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کے لیے جائے اور اس کی کوئی چیز واپس نہ آئے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (969)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الطَّرِيقَةِ السُّنَّةِ لِلْقُرْبَانِ)
قربانی کے مسنون طریقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1461
الْفَصْلُ الثَّانِي 1461 - عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، أَمْلَحَيْنِ، مَوْجُوءَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيلِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صِلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ذَبَحَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ، وَأَبِي دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيِّ: ذَبَحَ بِيَدِهِ وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الاضحی کے روز سینگوں والے چتکبرے دو خصی مینڈھے ذبح کیے، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی: ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”بے شک میں نے ابراہیم جو کہ یکسو تھے کے دین پر ہوتے ہوئے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں“، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162 - 163] ”بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں“، «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اے اللہ! (یہ قربانی کا جانور) تیری عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے، اسے محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما، اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے“، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذبح فرمایا۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)۔ اور احمد، ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے ذبح کیا اور یہ دعا پڑھی: ” «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ میری اور میری امت کے اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی“۔ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (375/3 ح 15086 مختصرًا) و أبو داود (2795) و ابن ماجه (3121 وھو حديث حسن.) والدارمي (75/2. 76 ح 1952) [و للحديث شواھد. ]
٭ ابن إسحاق عنعن في ھذا اللفظ و الرواية الثانية لأحمد (362/3) و أبي داود (2810) والترمذي (1521وقال: غريب.) والحديث صحيح بدون قوله: ’’موجئين‘‘ انظر صحيح ابن خزيمة (2899 وسنده حسن)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يُمْكِنُ أَنْ تُقَدَّمَ الْقُرْبَانُ عَنِ الْمَيِّتِ)
مرحوم کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1462
1462 - وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ، فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ.
حنش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں، سو میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔“ ابوداؤد۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2790) و الترمذي (1495 وقال: غريب)
٭ شريک القاضي و الحکم بن عتيبة مدلسان و عنعنا وأبو الحسناء مجھول وھو غير الذي ذکره الحاکم في المستدرک (229/4. 230) ووافقه الذھبي (!)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يُجَازُ الْقُرْبَانُ لِلْحَيَوَانِ الْمَعِيْبِ)
جس جانور میں کوئی عیب ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1463
1463 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ: وَالْأُذُنَ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا: ”کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں، اور ہم ایسا جانور ذبح نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو یا پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ ہی وہ جس کا کان لمبائی میں پھٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو۔“ ترمذی، ابوداؤد، نسائی، دارمی اور ابن ماجہ؛ اور ابن ماجہ کی روایت «الْأُذُنَ» تک ختم ہو جاتی ہے۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (1498 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (2804) والنسائي (216/7 ح 4377) والدارمي (77/2 ح 1958) [وابن ماجه (3143) و صححه الحاکم (224/4) ووافقه الذهبي. ]
٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں