مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَيَّامُ الْقَرْبَانِ، بِرِوَايَةِ إِمَامِ مَالِكٍ)
قربانی کے دن، بروایت امام مالک
حدیث نمبر: 1474
1474 - وَقَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِثْلُهُ.
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت مجھے پہنچی ہے۔ حسن، رواہ مالک رحمہ اللہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1474]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (487/2 ح 1072)
٭ ھذا منقطع: من البلاغات و للحديث شاھد حسن عند الطحاوي في أحکام القرآن (205/2 ح 569)»
٭ ھذا منقطع: من البلاغات و للحديث شاھد حسن عند الطحاوي في أحکام القرآن (205/2 ح 569)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (دَلِيلُ وُجُوبِ الْقَرْبَانِ)
قربانی کے واجب ہونے کی دلیل
حدیث نمبر: 1475
1475 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کرتے رہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1507 و قال: حسن)
٭ حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس.»
٭ حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس.»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (بَدْءُ الْقَرْبَانِ)
قربانی کی شروعات
حدیث نمبر: 1476
1476 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ. قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَاجَهْ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے اس میں کیا (ثواب) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اون کے بارے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اون کے ہر ریشے پر ایک نیکی۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا مَوْضُوعٌ» [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا موضوع، رواه أحمد (368/4 ح 19498) و ابن ماجه (3127)
٭ أبو داود نفيع الأعمي کذاب و عائذ الله المجاشعي: ضعيف.»
٭ أبو داود نفيع الأعمي کذاب و عائذ الله المجاشعي: ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا موضوع
--. (حُرْمَةُ الْقَرْبَانِ بِاسْمِ غَيْرِ اللَّهِ)
غیر اللہ کے نام پر قربانی حرام ہے
حدیث نمبر: 1477
[ 49 ] - بَابُ الْعَتِيرَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1477 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ. قَالَ: وَالْفَرَعُ: أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ لَهُمْ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ: فِي رَجَبٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فرع کوئی چیز ہے نہ عتیرہ۔“ «فَرَعٌ» اونٹ کے پہلے بچے کو کہتے ہیں جسے مشرکین اپنے بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے، جبکہ «عَتِيرَةُ» اس بکری کو کہتے ہیں جس کی رجب کے مہینے میں قربانی کی جاتی تھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5473) و مسلم (1976/38)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْعُ الْعَتِيرَةِ)
عتیرہ منع کر دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 1478
الْفَصْلُ الثَّانِي 1478 - عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً، هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَبُو دَاوُدَ: وَالْعَتِيرَةُ مَنْسُوخَةٌ.
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، میں نے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی کرنا اور ایک عتیرہ واجب ہے۔ کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔“ ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب، ضعیف الاسناد ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: عتیرہ منسوخ ہو چکا ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (1518) و أبو داود (2788) و النسائي (167/7. 168 ح 4229) و ابن ماجه (3125)
٭ فيه أبو رملة مجھول الحال و حديث أبي داود (2830) يغني عنه.»
٭ فيه أبو رملة مجھول الحال و حديث أبي داود (2830) يغني عنه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (بَيَانُ مَا يَفْعَلُهُ الْإِنْسَانُ إِذَا لَمْ يُحِصِلِ الْقَرْبَانَ)
اس چیز کا بیان کہ آدمی اگر قربانی نہ پائے تو کیا کرے
حدیث نمبر: 1479
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1479 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ. قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: لَا. وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ، وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے لیے اضحی کے دن کو عید قرار دوں۔“ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر میں دودھ دینے والی بکری، جو کہ مجھے کسی نے عطیہ کی ہے، کے سوا کوئی جانور نہ پاؤں تو کیا میں اسے ذبح کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم (عید کے روز) اپنے بال اور ناخن کٹاؤ، مونچھیں کتراؤ اور زیر ناف بال مونڈ لو، اللہ کے ہاں یہ تمہاری مکمل قربانی ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2789، 1399) و النسائي (212/7. 213 ح 4370) [و صححه ابن حبان (1043) والحاکم (223/4) ووافقه الذهبي. ]
٭ عيسي بن ھلال: صدوق، و ثقه ابن حبان والحاکم وغيرھما و حديثه حسن.»
٭ عيسي بن ھلال: صدوق، و ثقه ابن حبان والحاکم وغيرھما و حديثه حسن.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ صَلَاةِ خُسُوفِ الْقَمَرِ)
نماز خسوف کا بیان
حدیث نمبر: 1480
[ 50 ] بَابُ صَلَاةِ الْخُسُوفِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1480 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: إِنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ مُنَادِيًا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ، وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ یوں اعلان کرے: «اَلصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“، (جب لوگ جمع ہو گئے) آپ آگے بڑھے اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اس سے لمبا رکوع و سجود کبھی نہیں دیکھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1066، 1051) و مسلم (901/4، 910/20)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الْقِرَاءَةِ الْجَهْرِيَّةِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ)
نماز خوف میں جہری قرأت کا بیان
حدیث نمبر: 1481
1481 - وَعَنْهَا قَالَتْ: جَهَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خسوف میں بلند آواز سے قرأت فرمائی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1065) و مسلم (901/5)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ كَيْفِيَّةِ وَطَرِيقَةِ صَلَاةِ خُسُوفِ الْقَمَرِ)
نماز خسوف کی کیفیت اور طریقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1482
1482 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ أَفْظَعَ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ. قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ: قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟! قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے تقریباً سورۃ البقرۃ کی قراءت کے برابر طویل قیام فرمایا، پھر طویل رکوع فرمایا، پھر کھڑے ہوئے تو آپ نے طویل قیام فرمایا لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع فرمایا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر کھڑے ہوئے، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے تو آپ نے طویل قیام فرمایا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع فرمایا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر کھڑے ہوئے تو طویل قیام فرمایا لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع فرمایا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک آفتاب و ماہتاب اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے، جب تم دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ جیسے آپ اپنی اسی جگہ سے کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہیں، پھر ہم نے آپ کو الٹے پاؤں واپس آتے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، میں نے اس سے انگوروں کا گچھا لینا چاہا، اگر میں اسے لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے، اور میں نے جہنم دیکھی، میں نے آج کے دن کی طرح کا خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا، اور میں نے وہاں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی ناشکری کی وجہ سے۔“ عرض کیا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ فرمایا: ”شوہر کی ناشکری کرتی ہیں، وہ (خاوند کے) احسان کی ناشکری کرتی ہیں، اگر تم نے ان میں سے کسی سے زندگی بھر حسن سلوک کیا ہو، پھر اگر وہ تمہاری طرف سے کوئی ناگوار چیز دیکھ لے تو وہ کہے گی: میں نے تو تمہاری طرف سے کبھی کوئی خیر دیکھی ہی نہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1052) و مسلم (907/17)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (صَلَاةٌ وَتَسْبِيحٌ وَدُعَاءٌ فِي وَقْتِ خُسُوفِ الشَّمْسِ)
سور ج گرہن کے وقت نماز اور تسبیح اور دعا کرنا
حدیث نمبر: 1483
1483 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَتْ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ، وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ. يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مانند حدیث مروی ہے، انہوں نے فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو سجدوں کو لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”آفتاب و ماہتاب اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے، پس جب تم یہ دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اس کی تکبیر بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے، اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1044) و مسلم (901/1)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه