🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ أَنَّ الْمُقْتَدِي يَجْلِسُ وَجْهَهُ نَحْوَ الْإِمَامِ)
اس چیز کا بیان کہ مقتدی امام کی طرف منہ کر کے بیٹھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1414
1414 - (وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، ذَاهِبُ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر چڑھتے تو ہم آپ کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم صرف محمد بن فضل کی سند سے اس حدیث کو جانتے ہیں، جبکہ وہ ضعیف اور «سُوءُ الْحِفْظِ» ”سوءِ حفظ“ (برے حافظے والا) ہے۔ [ضعیف] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الترمذي (509)
٭ محمد بن الفضل بن عطية متروک مجروح کذبوه ولبعض الحديث شواھد عند ابن ماجه (1136، وسنده ضعيف) و البخاري (921 موقوف) وغيرهما و موقوف البخاري يغني عنه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ مَزِيدٍ فِي كَيْفِيَّةِ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کی مزید کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1415
1415 - (وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ فَقَدَ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَلْفَيْ صَلَاةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، پھر آپ بیٹھتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، اگر کوئی شخص تمہیں یہ بتائے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے تو اس نے کذب بیانی کی، اللہ کی قسم! میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھ چکا ہوں۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (862/35)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ إِلْقَاءِ الْخُطْبَةِ وَهُوَ جَالِسٌ)
بیٹھ کر خطبہ جمعہ دینا ممنوع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
1416 - (وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا. فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے۔ انہوں نے (اسے بیٹھا ہوا دیکھ کر) کہا: اس خبیث شخص کو دیکھو کہ وہ بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿جب انہوں نے تجارت اور کھیل دیکھی تو وہ اس طرف بھاگ گئے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھڑے ہوئے چھوڑ گئے﴾ [سورة الجمعة: 11] ۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (864/39)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَيْفَ يُشِيرُ الْخَطِيبُ)
خطیب اشارہ کس انداز میں کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
1417 - وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ، فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا: «قَبَّحَ اللهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ» ”اللہ ان دونوں ہاتھوں کو تباہ کرے“، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ صرف اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا کرتے تھے۔ اور انہوں نے اپنی انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (874/53)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الْوُقُوفِ بِلَا ضَرُورَةٍ خِلَالَ الْخُطْبَةِ)
دورانِ خطبہ بلاضرورت کھڑا ہونا درست نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
1418 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ:"اجْلِسُوا"فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ"تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز منبر پر چڑھے تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو بابِ مسجد پر ہی بیٹھ گئے، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ! آگے آ جاؤ۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1091) [و صححه ابن خزيمة (1780) والحاکم علٰي شرط الشيخين (283/1. 284) ووافقه الذهبي، و حديث ابن جريج عن عطاء قوي] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ الظُّهْرَ)
جو جمعہ کی نماز نہ پڑھ پائے تو وہ ظہر کی نماز پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
1419 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيَصِلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى، وَمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا"أَوْ قَالَ:"الظُّهْرَ". رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کی ایک رکعت پا لے تو وہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے، اور جس کی دونوں رکعتیں فوت ہو جائیں تو وہ چار رکعتیں پڑھے۔“ یا فرمایا: ”ظہر پڑھے۔“ ضعیف، رواہ الدارقطنی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الدارقطني (11/2 ح 1585)
٭ ياسين بن معاذ ضعيف، و رواه أسامة بن زيد عن الزھري عن أبي سلمة عن أبي ھريرة به (الدارقطني والحاکم 1/ 291) و للحديث طريق حسن لذاته عند الدارقطني (12/2ح 1592) بلفظ: ’’من أدرک رکعة من يوم الجمعة فقد أدرکھا و ليضف إليھا أخري‘‘ وھو يغني عنه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ صَلَاةِ الْخَوْفِ)
نماز خوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
[ 46 ] بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ"الْفَصْلُ الْأَوَّلُ" 1420 - عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ، فَصَافَفْنَا لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي لَنَا، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، وَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ، فَجَاءُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ، فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. وَرَوَى نَافِعٌ نَحْوَهُ. وَزَادَ: فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا، قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ، أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا، قَالَ نَافِعٌ: لَا أُرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نجد کی طرف رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا، ہم دشمن کے مقابل صف آراء ہوئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے رہی۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شریک افراد نے ایک رکوع کیا اور دو سجدے کیے، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ چلے گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، وہ آئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیر دیا، ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا تو انہوں نے اپنے طور پر ایک ایک رکوع کیا اور دو دو سجدے کیے، اور نافع رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اضافہ نقل کیا ہے: جب خوف اس سے زیادہ ہو تو پھر پیادہ یا سوار قبلہ رخ ہو یا قبلہ رخ نہ ہو جس طرح ممکن ہوتا نماز پڑھتے۔ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی سے روایت کیا ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (942) [و مسلم: 839] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَدِيثٌ عَنِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ)
غزوہ ذات الرقاع کا ایک واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
1421 - وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ: أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ بِطَرِيقٍ آخَرَ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
یزید بن رومان رحمہ اللہ، صالح بن خوات رحمہ اللہ سے اور وہ اس شخص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی کہ ایک جماعت نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صف بنائی جبکہ دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی، جو جماعت آپ کے ساتھ تھی ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ کھڑے رہے اور اس جماعت نے اپنے طور پر نماز پوری کی اور جا کر دشمن کے سامنے صف بنا لی، پھر دوسری جماعت آئی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نماز کی باقی رکعت انہیں پڑھائی، پھر آپ بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر نماز مکمل کی، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ (بخاری، مسلم)۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے قاسم عن صالح بن خوات عن سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کیا ہے۔ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4129و 4131) و مسلم (842/310)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَاتِ الرِّقَاعِ)
ذات الرقاع میں آپ کی نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
1422 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتَخَافُنِي؟ قَالَ:"لَا". قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ:"اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ، فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم ذات الرقاع پہنچے، جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: جب ہم کوئی سایہ دار درخت پاتے تو اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مشرک آدمی آیا، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی۔ اس نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلوار پکڑ کر نیام سے نکالی اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہنے لگا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «اللهُ» ”اللہ مجھے تم سے بچائے گا۔“ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے اسے ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار نیام میں ڈال دی اور اسے (درخت کے ساتھ ہی) لٹکا دیا، راوی بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اذان دی گئی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ جماعت پیچھے ہٹ گئی اور آپ نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں، راوی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور جنہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی ان کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4136) و مسلم (843/311)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَرِيقَةٌ أُخْرَى لِصَلَاةِ الْخَوْفِ، بِرِوَايَةِ مُسْلِمٍ)
صلوٰۃ خوف کا ایک اور طریقہ، بروایت مسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1423
1423 - وَعَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَفَعَنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، ثُمَّ قَامُوا، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ، وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی تو ہم سب نے بھی تکبیر کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی رکوع سے سر اٹھایا، پھر آپ اور آپ کے ساتھ والی صف سجدہ میں چلی گئی اور دوسری صف دشمن کے سامنے سینہ سپر رہی، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کر چکے تو آپ کے ساتھ والی صف کھڑی ہو گئی تو پچھلی صف سجدہ کے لیے جھکی پھر وہ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو پچھلی صف آگے بڑھی اور اگلی صف پیچھے آ گئی، پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی رکوع سے سر اٹھایا، پھر آپ کے ساتھ والی صف جو کہ پہلی رکعت میں پیچھے تھی، سجدے میں چلی گئی اور پچھلی صف دشمن کے سامنے سینہ سپر رہی، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف سجدے کر چکی تو پچھلی صف سجدے میں چلی گئی، پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیرا۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (840/307)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں