🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ مَا يَفْعَلُهُ الإِنْسَانُ عِنْدَ رُؤْيَةِ السُّرُورِ)
اس چیز کا بیان کہ خوشی دیکھے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1494
[ 51 ] بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الْأَوَّلِ وَالثَّالِثِ الْفَصْلُ الثَّانِي 1494 - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ سُرُورٌ - أَوْ يُسَرُّ بِهِ - خَرَّ سَاجِدًا، شَاكِرًا لِلَّهِ تَعَالَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی خوش کن معاملہ درپیش ہوتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہو جایا کرتے تھے۔ ابوداؤد، ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2774) و الترمذي (1578) [وابن ماجه: 1394] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الاعتبار بِرُؤْيَةِ المَرِيضِ وَالِاسْتِعَاذَةِ)
کسی مریض کو دیکھ کر عبرت حاصل کرے اور پناہ مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1495
1495 - وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا مِنَ النُّغَاشِينَ، فَخَرَّ سَاجِدًا. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مُرْسَلًا، وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ الْمَصَابِيحِ.
ابوجعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی چھوٹے سے قد والے (بونے) شخص کو دیکھا تو آپ سجدہ ریز ہو گئے۔ دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الدارقطني (410/1)
٭ جابر الجعفي ضعيف جدًا مدلس و ھشيم مدلس و عنعن والسند مرسل.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّتِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1496
1496 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ، نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، قَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي، وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي، فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي، فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي) شُكْرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم مدینہ جانے کے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے، جب ہم عزوزاء کے قریب پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری سے نیچے اترے، کچھ دیر تک ہاتھ اٹھا کر کھڑے دعا کرتے رہے، پھر سجدہ ریز ہو گئے، پھر کافی دیر بعد آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک ہاتھ اٹھائے اور پھر سجدہ ریز ہو گئے، پھر کافی دیر بعد کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک ہاتھ اٹھائے اور پھر سجدہ ریز ہو گئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے درخواست کی اور اپنی امت کے لیے شفاعت کی تو اس نے مجھے میری امت کے بارے میں ایک تہائی شفاعت کی اجازت عطا فرمائی، تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا، پھر میں نے سر اٹھایا تو اپنی امت کے لیے اپنے رب سے سوال کیا تو اس نے مزید میری ایک تہائی امت کی شفاعت کی مجھے اجازت عطا فرمائی تو میں شکر کے طور پر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا، پھر میں نے سر اٹھایا تو میں نے اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے آخری تہائی کی شفاعت کی مجھے اجازت عطا فرمائی تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اس کے حضور سجدہ ریز ہو گیا۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (لم أجده) و أبو داود (2775)
٭ يحيي بن الحسن: مجھول الحال و أشعث بن إسحاق مثله: مستور.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الاسْتِسْقَاءِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بارش کے لئے نماز پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1497
[ 52 ] بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1497 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش طلب کرنے کے لیے لوگوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، جس میں بلند آواز سے قراءت کی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہے اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹ لیا۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1028) و مسلم (894/2)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَدَى رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ)
نماز استسقاء میں ہاتھ کس قدر بلند ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1498
1498 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف بارش طلب کرنے کے موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں اس قدر اٹھاتے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1031) و مسلم (895/5)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ وُجُوهِ الْيَدَيْنِ فِي الاسْتِسْقَاءِ: كَفَّيْنِ لِلْيَدَيْنِ نَحْوَ السَّمَاءِ)
استسقاء میں ہاتھ کی ہتھیلیوں کی پشت آسمان کی طرف ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1499
1499 - وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش طلب کی تو آپ نے ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف کر کے (حالات کی تبدیلی) کا اشارہ کیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (896/6)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدُّعَاءُ الَّذِي يُقْرَأُ عِنْدَ نُزُولِ الْمَطَرِ)
بارش دیکھ کر کون سی دعا پڑھی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
1500 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» ”اے اللہ! نفع مند بارش برسا۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1032)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ نُزُولِ قَطَرَاتِ الْمَطَرِ عَلَى الْجَسَدِ)
بارش کے قطرات جسم پر بہانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
1501 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَطَرٌ قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ. فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟! قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے جسم سے کچھ کپڑا ہٹایا حتیٰ کہ کچھ قطرے وہاں گرے، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ابھی نئی نئی اپنے رب سے آئی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (898/13)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَاةُ الاسْتِسْقَاءِ وَقَلْبُ الْعِمَامَةِ عَنْ الْكِتْفِ)
صلوٰۃ استسقاء یعنی بارش کی نماز میں چادر کو کندھے سے پلٹنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1502
الْفَصْلُ الثَّانِي 1502 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید گاہ تشریف لائے تو آپ نے بارش طلب کی، اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر پلٹی، آپ نے اس کے دائیں کنارے کو اپنے بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو اپنے دائیں کندھے پر کر لیا، پھر اللہ سے دعا کی۔ (صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1163) [والترمذي (556) وابن ماجه (1267) والنسائي (155/3 ح 1506) ]
٭ وله شواھد، و انظر صحيح البخاري (1024) و مسلم (894) قلت: و عمرو بن الحارث الحمصي و ثقه ابن خزيمة (571) و ابن حبان (482) والحاکم (223/1) والذهبي والدارقطني (335/1) وغيرهم.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِحْبَابُ لِبَسِ الْعِمَامَةِ السَّوْدَاءِ)
کالی چادر بھی پہننا سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1503
1503 - وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْفَلَهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا، فَلَمَّا ثَقُلَتْ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا کی تو آپ پر کالی چادر تھی، آپ نے اس کے نچلے حصے کو اوپر کرنا چاہا، لیکن گراں ہونے پر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنے کندھوں پر ہی بدل لیا۔ (صحیح، رواہ احمد وابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (42/4ح 16587) و أبو داود (1164) [و صححه الحاکم علٰي شرط مسلم (327/1) ووافقه الذهبي و صححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (734)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں