مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (صَلَاةُ الاسْتِسْقَاءِ وَالدُّعَاءُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ)
صلوٰۃ استسقاء، بارش کے لئے ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا سنت ہے
حدیث نمبر: 1504
1504 - وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ ، قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ، قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي، رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ) ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
عمیر مولیٰ ابی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زوراء کے قریب مقام احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے کے سامنے ہاتھ بلند کیے ہوئے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور وہ (ہاتھ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے بلند نہیں تھے۔ اسے ابوداؤد، امام ترمذی اور امام نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1504]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1168) و الترمذي (557) والنسائي (159/3ح 1515)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ عَجْزِ الْمُسْتَسْقِي فِي صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ)
نماز استسقاء کے لیے عاجز ی کا بیان
حدیث نمبر: 1505
1505 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ - مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَضَرِّعًا ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرانے کپڑے پہن کر، تواضع اختیار کر کے خشوع و خضوع اور تضرع کرتے ہوئے بارش طلب کرنے کے لیے نکلے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (559 وقال: حسن صحيح.) و أبو داود (1165) والنسائي (16/3. 157 ح 1509) و ابن ماجه (1266) [و صححه ابن خزيمة (1405) و ابن حبان (603) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَا الدُّعَاءُ الَّذِي يُقْرَأُ لِلطَّلَبِ مِنَ الْمَطَرِ)
بارش کے لیے کیا دعا پڑھی جائے
حدیث نمبر: 1506
1506 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ: اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ ، وَبَهِيمَتَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ. رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش طلب کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ» ”اے اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں کو سیراب فرما، اپنی رحمت کو عام کر دے اور اپنے مردہ شہروں کو زندگی عطا فرما۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه مالک (190/1. 191 ح 450) عن يحيي بن سعيد الأنصاري عن عمرو بن شعيب عن رسول الله ﷺ إلخ فھو مرسل) و أبو داود (1176 و سنده ضعيف، سفيان الثوري مدلس و عنعن و تابعه حفص بن غياث و ھو مدلس و عنعن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
--. (أَدْعِيَةُ طَلَبِ الْمَطَرِ)
بارش کی طلب کے لئے دعائیں
حدیث نمبر: 1507
1507 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوَاكِئُ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا مُرِيعًا، نَافِعًا، غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ اوپر اٹھا کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ» ”اے اللہ! ہمیں پانی پلا، ہم پر ایسی بارش نازل فرما جو ہماری پیاس بجھا دے، ہلکی پھواریں بن کر غلہ اگانے والی، نفع دینے والی، نقصان پہنچانے والی نہ ہو، جلد آنے والی ہو، دیر لگانے والی نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: فوراً ہی آسمان پر بادل چھا گئے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1507]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1169) [و صححه ابن خزيمة (1416) والحاکم علٰي شرط الشيخين (327/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانٌ أَكْثَرُ فِي صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ)
نماز استسقاء کا مزید بیان
حدیث نمبر: 1508
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1508 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدْعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ، وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعَ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً، فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قحط سالی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر کا حکم فرمایا، چنانچہ اسے آپ کے لیے عید گاہ میں رکھ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے ایک معین دن کا وعدہ فرمایا، وہ اس روز باہر نکلے، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے، اللہ کی کبریائی اور حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بروقت بارشوں کے نہ ہونے کی شکایت کی ہے، اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے دعا کی قبولیت کا تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ﴿سورة الفاتحة: 2-4﴾ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، جو بہت مہربان نہایت رحم والا، روزِ جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے، اے اللہ! تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقراء، ہم پر بارش برسا، اور جو تو (بارش) نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور (مقاصد تک) پہنچنے کا ذریعہ بنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ بلند کیے اور انہیں بلند کرتے رہے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر دی اور اپنی چادر پلٹی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک ہاتھ اٹھائے رکھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور نیچے اتر کر دو رکعتیں پڑھیں، پس اللہ تعالیٰ نے بادل کی ایک ٹکڑی بھیجی، گرج چمک پیدا ہوئی تو پھر اللہ کے حکم سے بارش ہونے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی اپنی مسجد تک تشریف نہیں لائے تھے کہ نالے بہنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی جھونپڑیوں کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1173 وقال: ھذا حديث غريب إسناده جيد.) [وصححه ابن حبان (604) والحاکم (328/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ وَسِيلَةِ مَحَبَّةِ الصَّالِحِينَ لِلْدُّعَاءِ)
دعا کے لیے نیک لوگوں کی محبت کا وسیلہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1509
1509 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَانَ إِذَا قُحِطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا. قَالَ: فَيُسْقَوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط سالی کا شکار ہوتے تو عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے اور یوں عرض کرتے: اے اللہ! ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برساتا تھا، اور اب ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کی دعا کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے ہیں، تو ہم پر بارش نازل فرما، چنانچہ بارش ہونے لگتی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1010)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (صَلَاةُ الاسْتِسْقَاءِ سُنَّةٌ مِنْ أَنْبِيَاءِ السَّابِقِينَ)
نماز استسقاء سابقہ انبیاء کی سنت ہے
حدیث نمبر: 1510
1510 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: خَرَجَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي، فَإِذَا هُوَ بِنَمْلَةٍ رَافِعَةٍ بَعْضَ قَوَائِمِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ارْجِعُوا فَقَدِ اسْتُجِيبَ لَكُمْ مِنْ أَجْلِ هَذِهِ النَّمْلَةِ . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”انبیا علیہم السلام میں سے ایک نبی لوگوں کے ساتھ بارش طلب کرنے کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے اچانک دیکھا کہ ایک چیونٹی اپنی نحیف سی ٹانگیں آسمان کی طرف اوپر اٹھائے ہوئے (دعا کر رہی) ہے، پس اس نبی علیہ السلام نے فرمایا: واپس پلٹ جاؤ، اس چیونٹی کی وجہ سے تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے۔“ (حسن، رواہ الدارقطنی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الدارقطني (66/2 ح 1779) [و صححه الحاکم (325/1. 326) ووافقه الذهبي. ]
٭ محمد بن عون و أبوه، حديثھما حسن.»
٭ محمد بن عون و أبوه، حديثھما حسن.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَيَانُ أَنَّ الْهَوَاءَ سَبَبٌ لِلرَّحْمَةِ وَلِلضُّرِّ)
اس چیز کا بیان کہ ہوا باعث رحمت بھی ہے اور زحمت بھی
حدیث نمبر: 1511
[ ص: 1114 ] [ 53 ] بَابٌ فِي الرِّيَاحِ وَالْمَطَرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1511 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «الصَّبَا» (بادِ صبا) کے ذریعے میری نصرت کی گئی جبکہ قوم عاد «الدَّبُورِ» (بادِ دبور (مغربی ہوا)) کے ذریعے ہلاک کر دی گئی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1035) و مسلم (900/17)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخَافُ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْغَيْمِ وَالرِّيحِ)
بادل اور ہوا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکر کرتے تھے
حدیث نمبر: 1512
1512 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَبْتَسِمُ فَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. [ ص: 1067 ]
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے گلے کا کوا نظر آ جائے، آپ تو بس تبسم فرمایا کرتے تھے، جب آپ باد یا آندھی دیکھتے تو اس کے (خوف کے) اثرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر نمایاں ہو جاتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4828. 4829) و مسلم (899/16)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَاذَا يُقْرَأُ عِنْدَ هُبُوبِ الرِّيحِ الشَّدِيدَةِ)
تیز آندھی آئے تو کیا پڑھا جائے
حدیث نمبر: 1513
1513 - وَعَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا ، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ"، وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ، تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، وَخَرَجَ وَدَخَلَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ فَسَأَلَتْهُ، فَقَالَ:"لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ، كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا". وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ:"رَحْمَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب تیز آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» ”اے اللہ! میں اس کی خیر کا، اس میں جو خیر ہے اس کا اور اس کے ساتھ جو بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور میں اس کے شر سے، اس میں جو شر ہے اس کا اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کے شر کی تجھ سے پناہ چاہتا ہوں۔“ اور جب آسمان پر بارش کے آثار ظاہر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ تبدیل ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی گھر سے باہر آتے اور کبھی اندر جاتے، کبھی آگے آتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اور جب بارش ہو جاتی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوف زائل ہو جاتا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت پہچان کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! شاید کہ یہ ایسے نہ ہو جیسے قومِ عاد نے کہا تھا: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”جب انہوں نے عذاب کو ابر کی صورت میں اپنے میدانوں کے سامنے آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔“”اور ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادل دیکھتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً» ”اسے رحمت بنا دے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3206) و مسلم (899/15)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه