🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (عَدَمُ مَعْرِفَةِ النَّبِيِّ ﷺ بِاللَّيْلَةِ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لیلۃ القدر سے عدم واقفیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
2086 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:"إِنِّي أَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفْ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ  ، فَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ) . قَالَ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ فِي الْمَعْنَى. وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ إِلَى قَوْلِهِ: (فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ) وَالْبَاقِي لِلْبُخَارِيِّ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درمیانے عشرے میں ایک چھوٹے سے خیمے میں اعتکاف کیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر باہر نکال کر فرمایا: میں نے پہلا عشرہ اعتکاف کیا، میں اس رات کو تلاش کرنا چاہتا تھا، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میرے پاس فرشتہ آیا تو مجھے کہا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے، جو شخص میرے ساتھ اعتکاف کرنا چاہے تو وہ آخری عشرہ اعتکاف کرے، مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی، پھر مجھے بھلا دی گئی، میں نے اس کی صبح خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں، اس رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت شاخوں سے بنی ہوئی تھی وہ ٹپکنے لگی، میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر کیچڑ کا نشان تھا اور یہ اکیسویں کی رات (یعنی اکیسویں تاریخ) تھی۔ متفق علیہ۔ معنی کے لحاظ سے بخاری و مسلم اس پر متفق ہیں اور «فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ» مجھ سے کہا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے تک مسلم کے الفاظ ہیں، جب کہ باقی صحیح بخاری کے الفاظ ہیں۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2016) و مسلم (1167/213)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ صَبَاحِ اللَّيْلَةِ الْثَّلَاثِينَ)
تیئسویں رات کی صبح کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
2087 - وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: (لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیئسویں رات۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1168/218)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَلاَمَاتُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ)
لیلۃ القدر کی نشانی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2088
2088 - وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ  ، فَقَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ، لَا شُعَاعَ لَهَا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
زرّ بن حبیش بیان کرتے ہیں، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے بھائی ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص پورا سال تہجد پڑھے گا وہ شبِ قدر پا لے گا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے «رَحِمَهُ اللّٰهُ» اللہ ان پر رحم کرے، انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ لوگ اس پر ہی اعتماد نہ کر لیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ (شبِ قدر) رمضان میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے، پھر انہوں نے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اگر اللہ چاہے کہے بغیر قسم اٹھا کر کہا کہ وہ ستائیسویں شب ہے، میں نے کہا: ابومنذر! آپ یہ کیسے کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اس کی علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بتائی تھی کہ اس روز سورج طلوع ہو گا تو اس کی شعاعیں نہیں ہوں گی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (762/179)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَثْرَةُ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي آخِرِ رَمَضَانَ)
آخر رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ عمل کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
2089 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ  مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس قدر آخری عشرے میں (عبادت و سخاوت کرنے کی) کوشش کرتے تھے وہ اس کے علاوہ کسی اور وقت نہیں کرتے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1175/8)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ وَعَدُّهَا لِلْعِبَادَةِ)
آخری عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت کے لئے کمر کس لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
2090 - وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ  ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (عبادت کے لیے) کمر بستہ ہو جاتے، شب بیداری فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2024) و مسلم (1174/7)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ)
شب قدر کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2091
(الْفَصْلُ الثَّانِي) 2091 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي:"اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعَفُ عَنِّي"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! مجھے بتائیں اگر میں جان لوں کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس میں کیا دعا کروں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کہو: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» اے اللہ! بے شک تو درگزر فرمانے والا ہے، درگزر کو پسند فرماتا ہے، پس مجھ سے بھی درگزر فرما۔ احمد، ابن ماجہ، ترمذی، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اسنادہ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (151/6 ح 25898) و ابن ماجه (3850) و الترمذي (3513)
٭ عبد الله بن بريدة لم يسمع من عائشة رضي الله عنها کما قال الدارقطني (السنن 233/3 ح 3517) والبيھقي (1187) و دفاع ابن الترکماني باطل لأن الخاص مقدم علي العام و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْيَقَظَةُ فِي آخِرِ عَشْرِ رَمَضَانَ)
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جاگنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2092
2092 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"الْتَمِسُوهَا - يَعْنَى لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فِي تِسْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ فِي خَمْسٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: شب قدر کو اکیسویں یا تیئسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا انتیسویں رات میں تلاش کرو۔ (اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (794 و قال: حسن صحيح) [و صححه ابن خزيمة (2175) و ابن حبان (الإحسان: 3678) والحاکم (438/1) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ)
لیلۃ القدر رمضان میں آتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2093
2093 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ  فَقَالَ:"هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ: رَوَاهُ سُفْيَانُ وَشُبْعَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شبِ قدر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پورے رمضان میں ہے۔ ابوداؤد، اور انہوں نے فرمایا: سفیان اور شعبہ نے ابواسحاق کی سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوف روایت کیا ہے۔ سندہ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (1387)
٭ أبو إسحاق عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ الدُّعْوَةِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّلَاثَةِ وَالْعِشْرِينَ لَيْلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ)
لیلۃ القدر کے لئے تیئسویں رات میں بلانے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2094
2094 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:"انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ"، فَقِيلَ لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! میں اپنے جنگل میں رہتا ہوں، اور میں «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے ایک رات کے متعلق حکم فرمائیں کہ میں اس رات اس مسجد میں قیام کروں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تئیسویں رات کو قیام کر۔ ان کے بیٹے سے پوچھا گیا، آپ کے والد کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: جب آپ عصر پڑھ لیتے تو مسجد میں داخل ہو جاتے اور پھر آپ کسی حاجت کے لیے وہاں سے نہ نکلتے حتیٰ کہ نماز فجر پڑھ لیتے، جب فجر پڑھ لیتے تو وہ مسجد کے دروازے پر اپنی سواری پاتے اور اس پر سوار ہو کر اپنے جنگل میں آ جاتے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1380) [و صححه ابن خزيمة (2200) و أصله عند مسلم (1168) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْسَ لَهَا تَارِيخٌ مُحَدَّدٌ)
لیلۃ القدر کی تاریخ مقرر نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2095
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 2095 - عَنْ عُبَادَةَ‌‌‌‌‌‌‌ ‌بْن‌ِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:"خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ  فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شبِ قدر کے متعلق ہمیں بتانے کے لیے تشریف لائے تو دو مسلمان باہم جھگڑ رہے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں شبِ قدر کے متعلق بتانے کے لیے آیا تھا، لیکن فلاں اور فلاں باہم جھگڑ پڑے تو وہ مجھ سے اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے بہتر ہو، لہذا تم اسے اکیسویں، تیئسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2023)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں