🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (ذِكْرُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الشَّهْرِ)
مہینے کے تین روزوں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2046
2046 - وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ  ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهَا: مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، پھر میں نے ان سے پوچھا: آپ مہینے کے کون سے ایام روزہ رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ اس بات کی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے کہ آپ مہینے کے کن ایام میں روزہ رکھیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2046]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (194 / 1160)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مِنْ خِلَالِ سِتَّةِ أَيَّامٍ فِي شَوَّالِ)
شوال کے چھ روز سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2047
2047 - وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ  كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے زمانہ بھر کے (مسلسل) روزے رکھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (204/ 1164)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الصِّيَامِ فِي أَيَّامِ الْعِيدَيْنِ)
عیدین کے دن روزہ رکھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2048
2048 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2048]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1991) و مسلم (141/ 827)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا جَوَازَ لِلصِّيَامِ فِي أَيَّامِ الْعِيدَيْنِ)
عیدین کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2049
2049 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطَرِ وَالْأَضْحَى"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عید الفطر اور عید الاضحی کے دو ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2049]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1197) و مسلم (140 / 827)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الصِّيَامِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ)
تشریق کے دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2050
2050 - وَعَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ) کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2050]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (144/ 1141)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الصِّيَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ يَوْمٍ سَابِقٍ أَوْ بَاعِدٍ)
جمعہ کے دن کا روزہ پچھلا یا اگلا دن ملاکر رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2051
2051 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ  إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی صرف جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، الا یہ کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2051]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1985) و مسلم (1144/147)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ تَخْصِيصِ لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ لِلْعِبَادَةِ)
جمعہ کی رات عبادت کے لیے مخصوص کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2052
2052 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخْتَصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ  إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم راتوں میں سے صرف شبِ جمعہ کو قیام کے لیے خاص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرو، الاّ یہ کہ وہ (جمعہ کا دن) تم میں سے کسی کے روزہ رکھنے کے ایام میں آ جائے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (148/ 1144)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضْلُ صَوْمِ نَفْلٍ وَاحِدٍ)
ایک نفلی روزے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2053
2053 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دورانِ جہاد ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس شخص کو ستر سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کر دیتا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2840) و مسلم (168 / 1153)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الْغُلُوِّ وَالْمُبَالَغَةِ فِي الْعِبَادَةِ)
عبادت میں غلو اور مبالغے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2054
2054 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟"فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"فَلَا تَفْعَلْ ; صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ  ، صُمْ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ"قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:"صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ، صَوْمَ دَاوُدَ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ  ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً، وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: عبداللہ! مجھے بتایا گیا ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کر، روزہ رکھا کر اور کبھی نہ بھی رکھا کر، رات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مسلسل روزے رکھنے والے کا کوئی روزہ نہیں، ہر ماہ تین دن روزے رکھنا زمانہ بھر کے روزے رکھنے کے مترادف ہے، ہر مہینے تین روزے رکھا کر اور ہر ماہ قرآن مجید مکمل کیا کر۔ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین روزے رکھ، داؤد علیہ السلام کے روزے، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ سات دن میں قرآن مجید مکمل کر، اور اس پر اضافہ نہ کر۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1975) و مسلم (181. 182، 187، 193 /1159)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2055
الْفَصْلُ الثَّانِي 2055 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ  ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ» اس کی سند صحیح ہے، رواہ الترمذی والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (745 و قال: حسن غريب .) و النسائي (4/ 203 ح 2363)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں